کاش! حضرتِ پوپلزئی ریاست سوات کے مسجد امام ہوتے


فیاض ظفر

\"OLYMPUS

ریاستِ سوات کے دور میں تو، مَیں اور میرے ہم عمر یا ہم سے چھوٹے پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ نہ ہم نے 1969ء میں ریاست سوات کا پاکستان سے ادغام ہی دیکھا ہے، مگر سوات میں آج بھی جب کوئی ریاست کی باتیں کرتا ہے، تو مجھ سمیت ہر سننے والا اس طرح خاموشی سے سنتا ہے جس طرح بچپن میں بچے اپنی ماں یا پھر دادی سے کہانیاں سنتے چلے آئے ہیں۔ ریاستِ سوات کا اگر آپ ’’رواج نامہ‘‘ پڑھ لیں یا کسی بزرگ سے ریاست کے قانون کے بارے میں پوچھیں، تو وہ اُس وقت کے قانون اور ریاست کی رٹ کے بارے میں جو کچھ بتائے گا، اُس جیسا قانون آج آپ کو ترقی یافتہ ممالک میں ہی ملے گا۔

ریاست سوات کے حکمران ’’والیِ سوات‘‘ کا حکم ’’حکم‘‘ ہوتا تھا اور کس کی مجال جو حکم کی خلاف ورزی کرتا یا ریاست کے رٹ کو چیلنج کرتا۔ ریاست سوات کے حکمرانوں نے بھی ایسا کوئی قانون نہیں بنایا، جس سے شہریوں یا ریاست کو فائدہ نہ ہو۔ اس لئے ریاستِ سوات روزِ اول سے لے کر ادغام تک ایک عوامی و فلاحی ریاست تھی، اس لئے کسی نے ریاست کے رٹ کو چیلنج کرنے کا نہیں سوچا۔ ہاں، پاکستان سے ادغام کے کافی عرصہ بعد اب سوات کے لوگوں کے تیور بدل گئے ہیں لیکن آج بھی سوات کے بیشتر لوگوں کی چال ڈھال سے ریاست کے قوانین کی بو آتی ہے۔ سوات کے لوگوں میں آج بھی ریاست کی ڈھیر ساری عادات موجود ہیں۔ سوات کے لوگ آج بھی روزہ اور عید مرکزی حکومت ’’رویت ہلال کمیٹی‘‘ کے اعلان پر مناتے ہیں۔ برسبیل تذکرہ، ایم ایم اے دور حکومت میں ایک سال مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے چاند نظر نہ آنے کا اعلان کیا اور کہا کہ عید پرسوں ہوگی۔ اُس وقت پشاور کی ایک مسجد کے پیش امام ’’پوپلزئی‘‘ کی شہادت پر ایم ایم اے کی حکومت نے اگلے روز عید کا اعلان کر دیا۔ تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز کو اگلے دن عید کی نماز ادا کرنے کا حکم نامہ بذریعہ ’’فیکس‘‘ دیا گیا۔ اگلے دن جب رویت ہلال کمیٹی نے عید کا اعلان نہیں کیا، تو سوات میں مکمل روزہ رکھا گیا۔ جب انتظامیہ کو اس بات کا اندازہ ہوا، تو انہوں نے بے چارے پولیس اہلکاروں کو حکم دیا کہ وہ نمازِ عید پڑھنے پولیس لائن مینگورہ پہنچ جائیں۔ اب سب پولیس والوں کا روزہ تھا لیکن ڈسپلنڈ فورس ہونے کی وجہ سے سیکڑوں پولیس اہلکار حاضر ہوئے۔ صوبائی حکومت کی ہدایت پر نمازِ عید ادا کی اور اپنے افسران بالا کو عید کی مبارک باد بھی دی۔ پھر جب وہ پولیس لائن ’’عید گاہ‘‘ سے واپس پہنچے، تو پولیس والوں سے کسی نے پوچھا کہ کیا آپ نے عید کی نماز پڑھی؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں نماز تو پڑھی، لیکن روزہ برقرار ہے۔ مطلب یہ کہ سوات کے پولیس اہلکاروں نے صوبائی حکومت اور افسران کی ہدایت پر نماز تو پڑھی مگر روزہ نہیں کھولا۔ اگلے دن مرکزی حکومت کے اعلان کے مطابق دوبارہ عید کی نماز پڑھ کر سویاں کھائیں اور عید کی خوشیاں منائیں۔

قارئین، گزشتہ چند سالوں سے پشاور میں ایک مسجد کے پیش امام ہر سال رویت ہلال کمیٹی کے خلاف چل رہے ہیں۔ مذکورہ پیش امام نے ریاست کے اندر اپنی ایک الگ ریاست قائم کر رکھی ہے۔ جب رویت ہلال کمیٹی اعلان کرتی ہے کہ رمضان کا چاند نظر نہیں آیا، تو پیش امام حضرتِ شہاب الدین پوپلزئی کچھ دیر بعد چاند نظر آنے کا اعلان فرما دیتے ہیں۔ یہ ڈرامہ چاند رات کو بھی رچایا جاتا ہے۔ ہمارے نیوز چینلز جو ریٹنگ بڑھانے کے لئے کسی حد تک بھی جاسکتے ہیں، حضرتِ پوپلزئی کے اعلان کے وقت بطور خاص ڈی ایس این جیز (براہ راست کوریج کرنے والی گاڑیاں) کو مسجد کے سامنے کھڑی کرکے حضرت کو براہِ راست نشر فرماتے ہیں۔ وہ حضرت جنہوں نے ریاست کے اندر ایک ریاست قائم کی ہوئی ہے اور جو ہر سال دو بار حکومتی رٹ کو چیلنج فرماتے ہیں، ان کے اس عمل کو دیکھتے ہوئے ایک واقعہ یاد آیا۔ واقعہ اس وقت کا ہے جب میں آج ٹی وی کے ساتھ منسلک تھا۔ اُس وقت سید طلعت حسین صاحب ہمارے چینل کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نیوز تھے۔ ایک دن میں اُن کے ساتھ اسلام آباد کے دفتر میں بیٹھا تھا کہ اس دوران لال مسجد اسلام آباد والے مولانا عبدالعزیز کو عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا۔ رہائی کے بعد آج ٹی وی سمیت تمام نیوز چینلز مولانا عبدالعزیز کو براہ راست دکھا رہے تھے۔ جب طلعت صاحب نے یہ مناظر دیکھے، تو انہوں نے کراچی میں ہیڈ آفس کو فون کر کے اُس وقت کے کنٹرولر نیوز سے پوچھا کہ آپ کے ٹی وی پر براہ راست کیا چل رہا ہے؟ کنٹرولر نیوز نے جواب دیا کہ مولانا عبدالعزیز۔ طلعت صاحب نے پوچھا کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ تو کنٹرولر نیوز نے جواب دیا کہ سب چینلز چلا رہے تھے، اس لئے ہم نے بھی کوریج دی۔ طلعت صاحب نے کنٹرولر نیوز کو کہا کہ ’’جہاد‘‘ اور ’’شہادت‘‘ کے جذبے سے سرشار ایک آدمی اگر عورت کے برقعہ میں لال مسجد سے فرار ہو کر لوگوں کو مار دے، تو کیا آپ اس تمام تر عمل کو لائیو چلائیں گے؟ اور ساتھ ہی حکم دیا کہ اس کو بند کردیا جائے۔ جس کے فوراً بعد آج ٹی وی نے مولانا عبدالعزیز کی کوریج بند کی۔

حضرتِ پوپلزئی پشاور کی ایک مسجد کے پیش امام ہیں۔ ہر سال ریاست کی رٹ کو چیلنج فرماتے ہیں اور ہر سال حکومت، ریاست کے اندر ایک اور ریاست کے حکم ناموں پر خاموشی اختیار کرتی ہے۔ اس سال تو موجودہ حکومت نے حد ہی کردی۔ وفاقی وزیر مذہبی امور کو حضرت کے ہاں بھجوا کر اُن کی منت سماجت کی۔ اب حضرت نے سوچا ہوگا کہ ایک مستحکم ریاست نے اُن کی ریاست کو تسلیم کرکے اپنے وفاقی وزیر کو اُن کے ہاں بھیجا ہے، اس لئے انہوں نے حکومتی اعلان پر صرف اس سال کے لئے لبیک کہا۔ کیوں کہ ریاست نے حضرت کی ریاست کو جو تسلیم کیا اور ساتھ عید کے موقعہ پر حضرت کی ریاست کے اعلان کے ڈر سے اُن کو عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لئے سعودی عرب بھی بھیج دیا۔ جہاں سے حضرت، بیت اللہ شریف میں ’’سیلفیاں‘‘ بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ فرما رہے ہیں۔

امسال تو حضرت نے پاکستانی حکومت کی جانب سے ’’اپنی ریاست‘‘ کو تسلیم کرنے کی خوشی میں رمضان کے چاند کا اعلان نہیں کیا اور نہ اس سال وہ عید کے چاند کا اعلان کریں گے لیکن جس طرح حضرت کی ریاست کو تسلیم کیا گیا، تو مجھے ڈر اس وقت کا ہے جب حضرت، ’’صوفی محمد‘‘، ’’فضل اللہ‘‘، ’’بیت اللہ محسود‘‘ اور دیگر کی طرح اپنی ریاست کا اعلان فرمائیں گے اور پھر اُن کے پیروکار اسلحہ اٹھا کر ریاست کی رٹ کو مسلح طور پر چیلنج کریں گے۔ ریاست کو ابھی سے سوچنا ہوگا کہ کیا پشاور میں ایک اور لال مسجد بننے جا رہی ہے؟ کیا پشاور میں بھی سوات کی طرح ایک ’’امام ڈھیرئی‘‘ کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے یا پشاور میں بھی ’’منی شمالی وزیرستان‘‘ بنانے کا پروگرام ہے؟ اب بھی وقت ہے، اگر ریاست نے اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا اور ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والوں کو سیدھا راستہ نہیں دکھایا گیا، تو وہ وقت دور نہیں جب ’’حضرتِ پاپولزئی‘‘ بھی حکومتی رٹ کو مسلح طور پر چیلنج فرما دیں گے۔

کاش، حضرت پاپولزئی، ریاست سوات کے باشندے اور ریاست سوات ہی کی کسی مسجد کے پیش امام ہوتے اور کاش، والیِ سوات زندہ ہوتے۔ کاش، حضرت ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کی سعی فرماتے اور والیِ سوات انہیں نشان عبرت بناتے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔