چار دفعہ حمل ضائع ہونے کے بعد خاتون صرف 2 ہزار روپے خرچ کرکے بالآخر ماں بن گئی


لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں ایک خاتون کا چار دفعہ حمل ضائع ہوا اور علاج کے باوجود اسے اولاد کے حصول میں شدید مشکل کا سامنا تھا لیکن پھر ایک ایسی دوا نے اس کی یہ مشکل حل کر دی کہ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا۔ میل آن لائن کے مطابق لندن کی رہائشی 40 سالہ کارمین ریبلینڈو نامی اس خاتون کی 13 سال قبل شادی ہوئی تھی اور تب سے وہ ماں بننے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس دوران وہ چار بار حاملہ ہوئی اور ہر بار اسقاط حمل ہو گیا۔ ان سالوں میں اس نے اپنے علاج پر 20 ہزار پاؤنڈ (تقریباً 35 لاکھ روپے ) آئی وی ایف (مصنوعی طریقہ افزائش) پر بھی خرچ کیے لیکن امید بر نہ آئی۔

رپورٹ کے مطابق جب کارمین پانچویں بار آئی وی ایف کے ذریعے حاملہ ہوئی تو وہ سائنسدانوں کی ایک تحقیق کا حصہ بن گئی۔ سائنسدان ایسی خواتین پرتجربات کرنا چاہ رہے تھے جو بار بار اسقاط حمل کا شکار ہو جاتی ہے۔ وہ انہیں دمے کی ایک دوائی ’پروگیسٹران‘ نامی ہارمون کے ساتھ ملا کر دینا چاہتے تھے اور دیکھنا چاہتے تھے کہ آیا اس سے وہ صحت مند بچے کو جنم دے پاتی ہیں یا نہیں۔ کارمین نے اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کیں۔ یہ تجربہ کامیاب ثابت ہوا اور وہ اب ایک بچی کی ماں بن چکی ہے۔

حیران کن طور پر وہ لاکھوں روپے خرچ کرکے ماں نہیں بن سکی تھی لیکن دمے کی صرف 13 پاؤنڈ (صرف 2 ہزار روپے ) میں آنے والی اس دوا نے کام کر دکھایا۔ کارمین کے ساتھ دیگر 7 خواتین پر بھی یہ تجربہ کیا گیا ہے اور ان کے ہاں تاحال بچوں کی پیدائش ہونے والی ہے۔ سائنسدانوں کی اس ٹیم کے سربراہ اور چیلسی اینڈ ویسٹ منسٹر ہسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر مارک جانسن کا کہنا ہے کہ ”باقی خواتین پر بھی اس دوا کے انتہائی مثبت اثرات سامنے آ ئے ہیں اور ان کی صحت بھی بالکل ٹھیک ہے اور ان کے پیٹ میں بچے بھی بالکل ٹھیک پرورش پا رہے ہیں۔ اگر ان خواتین کے ہاں بھی صحت مند بچوں کی پیدائش ہوئی تو یہ تحقیق ایسی خواتین کے لیے ایک بڑی خوشخبری ثابت ہوگی جوجن کا حمل ضائع ہو جاتا ہے اور وہ ماں نہیں بن پاتیں۔ “
بشکریہ ڈیلی پاکستان۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں