ڈیورنڈ لائن۔ ۔ ۔ کچھ پوشیدہ حقائق


ڈیورنڈ لائن کے بارے میں دو باتیں بہت تواتر سے دہرائی جا رہی ہیں۔ اول : یہ معاہدہ 1893 میں سلطنت برطانیہ اور افغانستان کے درمیان \"asifصرف ایک سو سال کے لیے ہوا تھا اور یوں اس کی مدت 1993 میں ختم ہو گئی۔ دوم : یہ معاہدہ برطانیہ اور افغانستان میں تھا اور 1947 میں جب یہاں سے برطانیہ کا راج ختم ہوا تو یہ معاہدہ بھی ختم ہو گیا ۔ ۔ ۔ حقائق اور قانون سے رجوع کریں تو معلوم ہوتا ہے دونوں ہی باتیں غلط ہیں۔ ۔ ۔ ۔ یہ بات بھی ہمیں اچھی طرح جان لینی چاہیے کہ ڈیورنڈ لائن اگر آج موجود ہے تو اس کی وجہ  1893 کا معاہدہ نہیں ہے۔ یہ بالکل جھوٹ ہے جو کہا جاتا ہے کہ ڈیورنڈ لائن کی وجہ صرف یہی معاہدہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کے بعد تین معاہدے افغانستان نے سلطنت برطانیہ کے ساتھ کیے۔ اور ان معاہدوں میں باقاعدہ طور پر ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کیا گیا۔

ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے جو معاہدہ سر ہنری مورٹیمر ڈیورنڈ اور بادشاہ افغانستان عبدالرحمان خان کے بیچ ہوا اس کے متن میں کہیں بھی نہیں لکھا کہ یہ معاہدہ ایک سو سال کے لیے ہے۔ معلوم نہیں یہ بات صاحبان دانش کیسے بار بار کہے جا رہے ہیں۔ افغان حکومت اور اس کے اہل دانش کی جانب سے بار بارایک طوفان کھڑا ہو جاتا ہے کہ یہ معاہدہ سو سال کے لیے تھا اور یہ 1993میں ختم ہو گیا اس لیے اب کے پی کے اور فاٹا وغیرہ دوبارہ افغانستان کا حصہ ہیں۔ پاکستان کے قیام کے وقت افغانستان نے ہمارے خلاف جو رویہ اختیار کیا اس کی بنیادی وجہ یہی دو نکات تھے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ نہ افغان دانشوروں نے اور نہ ہی ہمارے قوم پرست شدت پسندوں نے کبھی اس معاہدے کو پڑھنے کی زحمت کی ہے۔ تھوڑی زحمت کر کے اگر اس معاہدے کو پڑھ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آ جائے گی کہ اس میں سو سال والی بات کہیں نہیں لکھی۔ یہ فسانہ معلوم نہیں کب کیسے اور کیوں تراشا گیا۔

والی افغانستان عبدلرحمن جب فوت ہوئے اور تخت پر حبیب اللہ خان بیٹھے تو برطانیہ نے ان سے رابطہ کیا اور معاہدے کی توثیق کا مطالبہ کیا۔ اگر یہ معاہدہ ایک سو سال کے لیے ہوتا تو برطانیہ کی جانب سے اس کی توثیق کا مطالبہ نہ کیا جاتا۔ چنانچہ سر لوئس ڈین کابل آ ئے اور 21مارچ 1905کو ایک معاہدے کے نتیجے میں نئے بادشاہ نے یقین دلایا کہ وہ اپنے باپ کے کیے گئے معاہدے پر کاربند رہیں گے اور اس کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔

\"afghan

مکرر عرض ہے کہ ڈیورنڈ لائن اگر آج موجود ہے تو اس کی وجہ 1893 کا معاہدہ نہیں ہے۔ یہ کہنا بالکل جھوٹ ہے کہ ڈیورنڈ لائن کی وجہ
صرف یہی معاہدہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کے بعد تین معاہدے افغانستان نے سلطنت برطانیہ کے ساتھ کیے۔ اور ان معاہدوں میں باقاعدہ طور پر ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کیا گیا۔

اس سلسلے میں ایک معاہدہ8 اگست1919میں ہوا ۔ اسے پنڈی ایگریمنٹ بھی کہتے ہیں۔ اس کا آرٹیکل 5 بہت اہم ہے۔ اس میں لکھا ہے :

The Afghan Government accepts the Indo Afghan frontier accepted by the Late Ameer Habibullah Khan

ترجمہ : حکومت افغانستان ہند اور افغانستان کے درمیان اس سرحد کو تسلیم کرتی ہے جسے مرحوم امیر حبیب اللہ خان نے تسلیم کیا تھا

اس پنڈی ایگریمنٹ میں دو چیزیں اہمیت کی حامل ہیں۔

1۔ اس میں ڈیورنڈ لائن کو ایک باقاعدہ سرحد تسلیم کر لیا گیا۔

2 ۔ یہ معاہدہ کسی فرد واحد کی جانب سے نہیں بلکہ افغان حکومت کی جانب سے کیا گیا۔

اسی بارے میں: ۔  آغا وقار پاکستان میں ہی ہیں اور نئی ایجادات کر چکے ہیں

3 ۔ یہ معاہدہ واضح کر رہا ہے کہ 1893میں ہونے والا عبد الرحمان خان اور ڈیورنڈ کے درمیان ہونے والا معاہدہ اب حوالہ نہیں ہے بلکہ اب حوالہ وہ معاہدہ ہے جو بادشاہ افغانستان حبیب اللہ نے کیا تھا۔ گویا اب نئی شروعات ہو رہی ہیں اور اب حکومت افغانستان اپنے مرحوم بادشاہ حبیب اللہ کی طرف سے تسلیم کردہ سرحد کو بین الاقوامی سرحد مان رہی ہے۔

ڈیورند لائن کو بین الاقوامی سرحد کا درجہ صرف اس پنڈی ایگریمنٹ میں نہیں دیا گیا بلکہ 22 نومبر 1921 کو کابل میں ایک معاہدہ ہوتا ہے جسے عرف عام میں معاہدہ کابل بھی کہا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ بھی کوئی فرد واحد نہیں بلکہ افغان حکومت کر رہی ہے اور اس کا وزیر خارجہ محمود ترزئی یہ معاہدہ کرتے ہیں۔ برطانیہ کی ہندحکومت کی نمائندگی آر سی ڈوبز نے کی۔ اس معاہدے کے آرٹیکل 2 میں ایک بار پھر تسلیم کیا گیا کہ ڈیورنڈ لائن ایک بین الاقوامی سرحد ہے۔ اس آرٹیکل کے الفاظ ملاحظہ فرمائیے :

Respective parties recognise Indo Afghan border as was recognised by Article 5 of the rawalpindi Agreement

یعنی دونوں فریق حکومت افغانستان اور حکومت ہند ،ہند افغان بارڈر کو اسی طرح تسلیم کرتے ہیں جس طرح پنڈی ایگریمنٹ کے آرٹیکل 5 میں تسلیم کیا گیا تھا۔

 چنانچہ جب نادر شاہ افغانستان کے بادشاہ بنے تو 6 جولائی 1930 کو انہوں نے حکومت برطانیہ کو لکھا :

I am proud to officially confess that our position about both agreements enjoy complete validity and are enforceable with full force.

بادشاہ سلامت کی اس تحریر میں چار چیزیں اہم ہیں۔\"1919\"

1 ۔ ان کے نزدیک سابقہ دونوں معاہدے پوری قوت کے ساتھ قابل عمل ہیں۔

2۔ بادشاہ سلامت ان کی validity پر بھی مہر تصدیق ثبت کر رہے ہیں۔

3۔ وہ اس امر کو officially confess کر رہے ہیں۔

4۔ اس امر کو officially confess کرتے ہوئے انہیں فخر بھی محسوس ہو رہا ہے۔

ان حقائق کی روشنی میں ہمیں یہ بات اچھی طرح جان لینی چاہیے کہ ڈیورنڈ لائن ایک افغانستان تین معاہدوں کے ذریعے ایک بین الاقوامی سرحد مان چکا تھا۔ اب 1893 کا وہ معاہدہ حوالہ نہیں ہے جو امیر عبد الرحمان اور سر ہنری ڈیورنڈ کے درمیان ہوا تھا۔ اب 1905کا حبیب اللہ خان والا معاہدہ 1919 کا پنڈی ایگریمنٹ 22 نومبر 1921 کا معاہدہ کابل اور 6 جولائی 1930کا شاہ افغانستان نادر شاہ کا اعتراف حوالہ قرار پائیں گے جن میں واضح طور پر ڈیورنڈ لائن کو ہندوستان اور افغانستان کے درمیان بین الاقوامی سرحد تسلیم کیا گیا ہے۔

یہاں مناسب ہو گا اگر ہم افغانستان کے دیگر بارڈرز کے بارے میں تھوڑا جان لیں تا کہ ہمیں علم ہو ان کا تعین کیسے ہوا تھا۔ روس اور چین کے ساتھ افغانستان کا جو بارڈر لگتا ہے کیا ہم جانتے ہیں اس کا تعین کس نے کیا تھا؟ آپ کو جان کر حیرت ہو گی کہ اس کا تعین روس اور برطانیہ نے مل کر کیا تھا اور کسی نے افغانستان کو اعتماد میں لینا تو دور کی بات اس سے پوچھنا تک گوارا نہ کیا ۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب اس بارڈر کے تعین کے لیے بات چیت چل رہی تھی تو افغانستان کو اس میں شریک ہونے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ اسی طرح افغان ایران بارڈر ہے ۔ اس کے تعین میں بھی افغانستان کا کوئی کردار نہیں ہے ۔ نہ کسی نے اس سے پوچھا نہ کسی نے اس سے مشاورت کی۔ ایران اور برطانیہ نے مل کر اس بارڈر کا تعین کیا۔ پاکستان کے ساتھ افغانستان کا بارڈر یعنی ڈیورنڈ لائن وہ واحد بارڈر ہے جس کے تعین میں افغانستان کی مشاورت اور مرضی شامل رہی ہے۔ یہ واحد بارڈر ہے جو افغانستان کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کے بعد وجود میں آیا۔ حیرت ہے اب افغانستان کو باقی بارڈرز پر تو کوئی اعتراض نہیں ہے جو اس کی مشاورت کے بغیر طے کر دیے گیے اور اسے اس بارڈر پر اعتراض ہے جو باقاعدہ دو طرفہ مذاکرات کے بعد وجود میں آیا۔

اسی بارے میں: ۔  جنسی ہراسانی کا مطلب بدل ڈالنے والی عورت

افغانستان میں شرح خواندگی کاعالم ہمارے سامنے ہے۔ ایک غیر تعلیم یافتہ قبائلی معاشرے میں سرکاری سطح پر جھوٹ کا ابلاغ بہت آسان ہوتا ہے ۔ چنانچہ افغانستان کی جانب سے ڈیورنڈ لائن کے بارے میں مسلسل جھوٹ بولا جاتا رہا ہے اور اپنے عوام کی توجہ نان ایشو پر مبذول رکھی جاتی رہی ہے۔ یہی المیہ ہمارے بعض نیشنلسٹوں کا رہا ہے۔ یہ حکومتوں میں بھی رہے اور ان کی کارکردگی خوفناک حد تک پست رہی ہے چنانچہ انہوں نے اپنے وابستگان کا جذباتی استحصال کرنے کے لیے ڈیورنڈ لائن کے بارے میں اسی جھوٹ کو فروغ دیے رکھا۔ ورنہ اس حقیقت سے یہ لاعلم نہیں ہیں کہ ڈیورنڈ لائن کو افغانستان کم از کم تین معاہدوں میں بین الاقوامی سرحد تسلیم کر چکا ہے۔ قیام پاکستان کے وقت بھی ان نیشنلسٹوں میں اس بات پر تو دو آراءموجود تھیں کہ پاکستان کا حصہ بننا چاہیے یا بھارت کا لیکن کسی نے اس بات کے لیے کوئی آوازٹھائی نہ جدوجہد کی کہ انہیں افغانستان کا حصہ بننا چاہیے۔ کیونکہ وہ حقائق سے آگاہ تھے۔ یہ معاملہ برطانیہ کے ہاﺅس آف کامنز میں بھی اٹھا اور ہاﺅس آف کامنز نے کہا کہ ڈیورنڈ لائن بین الاقوامی بارڈر ہے۔ کالم کی تنگنائے میں تفصیل بیان کرنا مشکل ہے لیکن انٹرنیشنل لاءسے آگہی رکھنے والی اس امر کو بخوبی جانتے ہیں کہ ڈیورنڈ لائن کی حیثیت اس بین الاقوامی بارڈر کی ہے اورہندوستان سے برطانوی اقتدار ختم ہونے کے بعد یہ معاہدے ختم نہیں ہو گئے بلکہ معاہدوں کی بابت جانشین ریاستوں کے حوالے سے طے پانے والے ویانا کنونشن کے آرٹیکل گیارہ کی رو سے یہی سمجھا جائے گا کہ افغانستان نے یہ معاہدے پاکستان کے ساتھ کیے تھے۔ ?

پس تحریر : جناب ہارون رشید نے ا پنے کالم میں لکھا ہے کہ وہ ایک سنسنی خیز دستاویز تلاش کر رہے ہیں جو محمود اچکزئی صاحب کے بارے میں پاکستان کی وزارت داخلہ کی طرف سے سرکاری طور پر لکھا گیا خط ہے۔ اتفاق سے یہ دستاویز میرے پاس موجود ہے ۔ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ اس کا عکس آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ یہ وزارت داخلہ کی جانب سے سیکرٹری خارجہ کو بھیجا گیا۔ اس میں بتایا گیا کہ افغانستان کے صوبہ ہلمند کے رہائشی رمضان نورزئی نے جو کہ ایرانی ایجنسی کے لیے کام کرتا ہے محمود اچکزئی کو دس لاکھ ڈالر کی ادائیگی کی۔ جن میں سے ایک کروڑ انہوں نے جواب ایاز جوگیزئی کو دے دیے اور انہوں نے انتیس لاکھ کی گاڑی خرید لی۔ اس خط میں یہ بھی بتایا گیاہے کہ ایران بلوچستان میں شمالی اتحاد کے لیے کیا کچھ کر رہا ہے اور اس کام کے لیے اس نے اچکزئی صاحب کی جماعت پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں۔ جہاں اپنے ناتراشیدہ بیان کی اچکزئی صاحب نے وضاحت فرما دی ہے کیا ہی اچھا ہو وہ اس خط کے حوالے سے بھی اپنا موقف بیان فرما دیں۔ میرے جیسے ان کے خیر خواہ اپنے حسن ظن کے ساتھ منتظر ہیں کہ وہ اس کی تردید جاری فرما سکتے ہیں یا نہیں۔

پاکستان کے برادران یوسف ہمسائے

\"achakzailetter\"


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “ڈیورنڈ لائن۔ ۔ ۔ کچھ پوشیدہ حقائق

Comments are closed.