آواز حق ۔ حافظ محمد سعید


\"shahid-mehmood\"(محمد شاہد محمود)

پچھلے دنوں دفاع پاکستان کونسل کے زیرا ہتما م ہونے والی کا نفرنس نے بھارت، امریکہ، اسرائیل، کی نیندیں اڑا کر رکھ دیں ہیں۔ سچ میں ایک سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ سچ اپنا مقام خود بنا لیتا ہے۔ جماعت الدعوۃ نے پہلی بار رمضان میں ایک عظیم جلسہ کروا کر روایت توڑ دی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ہمیں ہر وقت دفاع پاکستان کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ آج کی گر می سے جہنم کی گرمی زیادہ سخت ہے مگر کامیابی میدان میں نکلے والوں کو ہی ملتی ہے۔ ہم دفاع پاکستان اور دفاع اسلام کے لیے نکلے ہیں۔ نبیؐ نے بھی دفاعی جنگیں لڑیں اور اس کے بعد اقدامی جنگوں کی طرف آئے۔ ہم نے مسلک ، فرقہ واریت کو بالائے طاق رکھ کر اکٹھا ہونا ہے۔ ہم نے لاہور میں تین جلسے کیے لیکن ہماری جدوجہد کو ختم کردیا گیا۔ امریکہ نے ڈرون حملہ کر کے پھر قوم کو جگا دیا، ممتاز قادری کی پھانسی ، خواتین بل یہ بھی ڈرون حملے تھے۔

میڈیا کو اسلامی اقدار پر ڈرون حملے کرنے کے لیے کھلا چھوڑدیا گیا ہے مگر پاکستان اسلام کا قلعہ ہے۔ نظریاتی دفاع بھی فرض ہے۔ پاکستان کی اساس لاالہ الہ اللّہ ہے۔ سینکڑوں ڈرون حملے ہم پر کیے جائیں مگر پہلے نہ روس بچ سکا ہے اور اب انڈیا، امریکہ اور اس کا کوئی بھی اتحادی نہیں بچے گا۔ افغانستان میں جہاد جاری ہے، امریکہ انڈیا کا اتحاد فطری ہے کیونکہ ان کا دشمن مسلمان ہے اس لیے پاکستان کے ساتھ ان کا اتحاد غیر فطری ہے لیکن ہمارے حکمرانوں کو سمجھ نہیں آرہی ہے۔ جماعت الدعوۃ نہ کرسی چاہتی ہے اور نہ ہی ووٹ مانگتی ہے بلکہ صرف ملک اور اسلام کا دفاع چاہتی ہے۔ امریکہ پاکستان سے دھوکہ کر چکا ہےب اب بھارت کا بیٹرہ عنقریب غرق ہوگاب جلد یہ نتیجے دنیا کو نظر آجائیں گے۔ مودی بی جے پی روئیں گے۔ لوک سبھا میں ماتم ہوگا۔

اسلام آباد اور لاہور کے جلسوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ قوم جاگ رہی ہے اورعوام کے جذبات دنیا دیکھ رہی ہے۔ یہ لوگ اسلام آباد اور واہگہ باڈر کی طرف مارچ کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ رمضان میں اس تحریک کو چلانے کا مقصد کہ پاکستان ہمیں ملا بھی اس مقدس ماہ مبارک میں تھا۔ امریکہ نے ڈرون حملہ کر کے غلطی کی ہے۔ انڈیا پاکستان کے خلاف دھمکی آمیز رویہ اختیار کیے ہوئے ہے مگر انڈیا اب بھول جائے کہ وہ پاکستان کی طرف اگر میلی آنکھ سے بھی دیکھے گا تو اب ہم صرف اس کی آنکھیں ہی نہیں نکا لیں گے بلکہ بھارت کا نام صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے۔ مودی نے اوباما کے سامنے جا کر ماتھا ٹیکا۔ حافظ محمد سعید پر بابندی لگاؤ مگر پاکستانی قوم جماعت الدعوۃ کے ساتھ کھڑی ہے۔

یہی نہیں بلکہ کشمیری قوم اوربھارتی مسلمان حافظ محمد سعید کے ساتھ کھڑے ہیں حافظ سعید کیا چاہتے ہیں؟حافظ سعید حکمرانوں کو دعوت دین دیتے ہیں کہ ملت کفر کی پیروی چھوڑدو کیونکہ فرمان الہی ہے کہ یہود و نصاریٰ کبھی تمہارے دوست نہیں ہوسکتے اور تم انکی ملت کی پیروی مت کرو۔ مانا کہ ملک کو چلانے کی لیے بہت سی مجبوریاں ہوتی ہیں مگر اس کا ہر گز مطلب یہ نہیں کہ تم ان کے غلام ہی بن جاؤ، ان کے کلچر کو اپنالو، ان کے اس کے بے ہودہ نظام کو اپنا نظام حکومت ہی بنا لو جب کہ مسلمانوں کے پاس ایک باقاعدہ نظام زندگی قرآن وسنت کی صورت میں موجود ہے تو پھر سودی نظام کیوں؟ ہم مسلمان ہیں اور مسلمان صرف اللّہ تعالیٰ کے آگے جھکتا ہے مگر پھر آج ہم غلام کیوں ہیں؟ ارباب اختیار نے اپنی ذاتی خواہشات کی خاطر ہمیں غلام بنا دیا ہوا ہے یقین جانیے اگر ہم بھیک مانگنا چھوڑ دیں تو ہم دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں اپنے گلوں سے غلامی کے طوق توڑنے ہونگے اور یہ سب اس وقت ہی ممکن ہے جب ہمارے حکمران دین کی طرف راغب ہوں گے۔

اللّہ تعالیٰ کے قائم کردہ نظام سے باہر نہیں نکلیں گے تو ملک پاکستان خود بخود بحرانوں سے نکل کر ترقیوں کی راہ پر گامزن ہوجائے گا۔ پھر ہم کفار کے سامنے سینہ تان کر بات کر سکیں گے پھر پاکستان میں پیدا ہونے والا کوئی بچہ مقروض نہیں ہوگا۔ پھر ہمیں ورلڈ بنک کا محتاج نہیں ہونا پڑے گا۔ صرف کشتیاں جلانی ہوں گی۔ بھارت اور امریکہ خود خودکشیاں کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ مسلمانوں کی تاریخ گواہ کہ مسلمانوں نے آدھی دنیا کو فتح کیا مگر افسوس کہ مسلمانوں کے زوال کا سبب بھی اپنے ہی بنے ہیں۔ بھارت کو ہمارے ایک جرنیل نے پہلے بھی سمجھایا تھا کہ بھارت دنیا میں صرف ایک ہے جبکہ مسلمانوں کے ساٹھ آزاد ممالک ہیں اس لیے پاکستان کی طرف میلی نگاہ سے دیکھنا چھوڑ دیں مگر یہ لوگ اپنی شرارتوں سے باز نہیں آتے۔ دفاع پاکستان کونسل کے قیام کا مقصد دفاع اسلام اور دفاع پاکستان کے لیے ایک ایسی قوم کو تیار کرنا ہے جو حرمت اسلام اور حرمت وطن پر جان قربان کرنا اپنے لیے باعث سعادت سمجھیں۔ اس سلسلہ میں علماء کو اپنا کردار امام مالک بن انس ؓ کی طرح ادا کرنا ہوگا اور الحمداللّہ دفاع پا کستان کے لیے آج تمام علماء متحد ہیں اور یہ سب سے بڑی کامیابی ہے۔ یہ جلسے جلوس اس بات کے گواہ ہیں کہ پاکستانی قوم سربلندی اسلام اور بقائے وطن کے لیے تیار ہے۔ آج جماعت الدعوۃ اور حافظ محمد سعید سے طاغوت کے خوف کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح اس مجاہد کو روکا جائے جو جہاد کی باتیں کرتا ہے، جو غلامی سے نجات کی باتیں کرتا ہے جو دین کی باتیں کر تا ہے۔

بھارت، امریکہ، اسرائیل لاکھوں بے گناہ مسلمانوں کے قاتل ہیں اور پاکستان کے اندر تمام دہشتگردی کے دل سوز واقعات میں یہ لوگ شامل ہیں۔ آج اس مسیحا اورانسانیت کے درد کو سمجھنے والا حافظ محمد سعید کو دہشت گرد کہتا ہے اور اسلام کا علم کرنے والی جماعت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرتا ہے، کیوں؟ اس لیے کہ حافظ محمد سعید وہ فرد واحد ہیں جو ہر قسم کے خوف سے بے پروا ہو کر اللّہ اور اس کے رسولؐ کی باتیں کرتا ہے اور لوگوں کے عقائد کی اصلاح کرتا ہے۔ افسوس ہوتا ہے اس وقت جب ہمارے حکمران طبقہ ان دہشت گروں کے سامنے جاکر اپنی صفائیاں پیش کرتے ہیں۔ آج کافروں کے کسی ملک کے اندر بھی کوئی خود کردہ دہشت گردی کا واقعہ رونما ہوتا ہے تو الزام سیدھا مسلمانوں پر لگایا جاتا ہے جس کا زندہ ثبوت ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا واقعہ ہے۔ آج ایک تو ہمارے بے گناہ لوگوں شہید کیا جاتا ہے اور اوپر سے اپنی صفائیاں بھی ہم پیش کرتے ہیں۔ سانحہ گلشن اقبال اور سانحہ پشاور دہشت گردی میں بھارت اور امریکہ ملوث ہے۔ حالیہ ترکی میں دہشت گردی میں بھارت، امریکہ، اسرائیل ملوث ہے کیونکہ مرد مجاہد رجب طیب اردگان نے مسلمانوں کی ہمیشہ حمایت اور مدد کی ہے۔ عالم کفر یہ یاد رکھے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور ہم دکھ اور تکلیف کی اس گھڑی میں اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انشاء اللّہ کفر جو مرضی کر لے لیکن اس کے خلاف جہاد قیامت تک جاری رہے گا اور پاکستان قیامت تک قائم و دائم رہے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “آواز حق ۔ حافظ محمد سعید

  • 04-07-2016 at 1:34 pm
    Permalink

    سبحان اللہ

  • 04-07-2016 at 7:00 pm
    Permalink

    موصوف فرماتے ہیں کہ ” مسلمانوں کی تاریخ گواہ کہ مسلمانوں نے آدھی دنیا کو فتح کیا” ۔ مسلمانوں کی ضرور کوئی خاص تاریخ ہوگی، کیونکہ عام انسانوں کی کسی تاریخ میں یہ ذکر نہیں ملتا کہ آسٹریلیا، جنوبی امریکا، شمالی امریکا، گرین لینڈ اور مشرقی ایشیا پر بھی کبھی ہلالی پرچم لہرایا تھا۔ اقطاب شمالی و جنوبی کے بارے میں بھی غالباً یہی کہا جائےگا، لیکن میں ان ظلماتی جگہوں کی تاریخ سے ناواقف ہوں۔ کچھ کہہ نہیں سکتا۔ ایک سوال یہ بھی اٹھ سکتا ہے کہ آدھی دنیا پر تو کسی زمانے میں انگریزوں نے اپنا پرچم لہرا رکھا تھا۔ اس میں مصلحت خداوندی کیا تھی؟ یا آپ کا اور حافظ سعید صاحب کا عقیدہ یہ ہے کہ مسلمان جب فتح کرتے ہیں توکسی معصوم کا خون زمین پر نہیں گرتا؟

Comments are closed.