آئین کے نام پر دہشت گردی نہیں چلے گی


\"haider

میرے محترم اوریا مقبول جان صاحب !

کچھ سال پہلے کی بات ہے جب آپ نے ٹی وی پر تعلیم کی حمایت میں چلنے والے ایک اشتہار پر برہمی کا ااظہار کرتے ہوئے اپنے اردو کالم میں کچھ تاریخی حوالوں کا ذکر کرکے کچھ ایسی تصویر کشی کی تھی کہ جیسے برصغیر میں انگریز کی آمد سے قبل علم و حکمت کا دور دورہ تھا اور انگریزوں نے گہری سازش کرکے سرزمین پاک و ہند کو جہالت کے اندھیروں میں دھکیل دیا تھا۔ انگریز تجارت کرنے ہندونستان پہنچے تھے اور بطور ایک سامراجی طاقت اس نے بہت سے قابل مذمت کام کیے۔ لیکن تاریخ کو تعصب کے قلم سےمسخ کرنے کی کوشش میرے کچھ دوستوں کے لیے تکلیف کا با عث بنی اور ان کی خواہش پر میں نے آپ کے تحریر کردہ کالم میں کچھ تاریخی غلطیوں کی نشاندہی کی اور اپنے انگریزی کالم کے ذریعے آپ کو پوسٹ کارڈ ارسال کر دیا۔ آپ نے جواب میں مجھے جہالت کے فصیل میں قید دانشور قراردے کر ایک پورا کالم میری عزت افزائی میں رقم کرڈالا۔

سقراط نے عدالت میں اپنے بیان میں یہ تسلیم کیا تھا کہ وہ شہر کے عالم فاضل لوگوں کی طرح سب کچھ جاننے کا دعوی نہیں کرتا ااور اسی لیے وہ ان سے ایک طالب علم کی طرح سوال کرتا رہتا ہے۔ مجھے آپ کے الزام کے پہلے حصے یعنی اپنے جاہل ہونے پر کوئی شک وشبہ نہیں لیکن دانشوری کا الزام بہت بھاری تھا اسلئے اس کی صحت سے مکمل انکاری رہا ہوں ۔ بس سقراط کی طرح سوال کرنے کے حق سے البتہ دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہوں ۔ یہ شاید آپ کے لبوں کی شیرینی کا کمال تھا کہ گالیاں کھا کے بھی میں بیمزہ نہ ہوا اور مسکرا کے خاموشی اختیار کرنے میں عافیت سمجھی۔ یا شاید آپ کو چونکہ اپنا سینئر سمجھتا ہوں اسلئے احترام کے تقاضوں نے مزید لکھنے سے روک دیا۔ ہم ایک ہی راستے کے راہی ہیں۔ آپ کی طرح میری بھی سول سروس اور درس و تدریس سے وابستگی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کے ہم مخالف سمتوں کے مسافر ہیں۔ آپ نے درس و تدریس کے پیغمبرانہ پیشے سے آغاز کیا اور پھر اسے چھوڑ کے طاقت والے پیشے کو اختیار کیا۔ میں ایام نوجوانی میں سول سروس میں داخل ہوا اور عالم شباب میں اس کو خیرباد کہہ کے تدریس کی طرف راغب ہوا ۔ مخالف سمتوں کے مسافر اک دوجے سے مل جایا کرتے ہیں ۔ کبھی رہگزر پہ اور کبھی مکتوبات کے ذریعے !

آپ ٹی وی مذاکروں میں اور اخباری تحریروں کے ذریعے اپنے زریں خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ آزادی رائے کا حامی ہوں اسلئے اختلافات ہونے کے باوجود آپ کے خیالات و نظریات کے اظہار کے حق کا بھرپور دفاع کرتا ہوں ۔ وہ علماء حضرات جو ٹی وی کے استعمال پر نکاح کے ٹوٹنے کا انتبا ہ دیتے تھے آج کل صبح و شام اس کی سکرین پر جلوہ گررہتے ہیں جیسے ٹی وی کو مخاطب کرکے کہہ رہے ہوں کہ۔ \’تیرا وجود ہے لازم میری غزل کے لئے ! \’ ۔ چاہے وہ جمیل طارق جیسے قصہ گو ہوں یا الغامدی جیسے فہیم اور انسان دوست مصلح۔ ہم نے کبھی کسی کے بیان پر تشویش کا اظہار نہیں کیا۔ فکری محاذ پہ لاکھ اختلافات اپنی جگہ لیکن ہر مقرر اور لکھاری کا اپنا نکتہ نظر بیان کرنے کا حق بہت مقدس ہے۔ آپ الفاظ کی چھڑی جس انداز سے گھمائیں یہ آپ کا اپنا حسن کرشمہ ساز ہے ۔ طویل خموشی کے بعد اگر آپ سے بذریعہ اس مکتوب پھر مخاطب ہوں تو صرف اس لئے کہ آپ کو متوجہ کرنا ضروری ہے کہ اپنی چھڑی گھماتے گھماتے آپ یہ بھول بیٹھے ہیں کہ چھڑی دوسروں کی ناک کو مارنے لگی ہے۔

آپ نے اپنے تئیں مجدد الف ثانی بننے کی جو ٹھانی ہے اس کو اگر مدلل گفتگو تک محدود رکھا جاتا تو سوچ و فکر رکھنے والے احباب میں یوں اضطراب کی لہر نہ دوڑتی۔ آپ نے لیکن اس حد کو پھلانگ کے درسگاہوں کے اساتذہ کی نجی زندگیوں میں بلا اجازت گھسنے کی کوشش کی ہے۔ آپ کا ایک پیغام تو انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے جس میں آپ طلبا کو بغیر اجازت دوسرے شہریوں کی ویڈیو بنانے اور ان کی زندگیوں کو خطرات میں ڈالنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ آپ کے اس مشورے کو پڑھ کے مجھےجارج اورول کے مشہور ناول ١٩٨٤ کے وہ ریاستی کردار یاد آ گئے جو گھر کے بچوں کو والدین پر جاسوسی کرنے کو بہت عظیم کارنامہ قرار دیتے ہیں اور ایسے بچوں کو قومی ہیرو کے طور پہ پیش کرتے ہیں۔ آپ چاہتے ہیں کہ ہماری درسگاہیں اس قسم کے \’بگ برادر \’ والے ماحول سے آراستہ ہوں جہاں سوچ و فکر پر پہرے بیٹھے ہوں اور ہر قسم کے تعلیمی مباحث پر نہ صرف مکمل پابندی ہو بلکہ ہر کوئی ۔۔۔۔\’نظر چرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے\’ !

انتہائی ادب کے ساتھ کہوں گا کہ پاکستانی آئین کے حوالے دے کر درسگاہوں میں شرانگیزی کو فروغ دینےکی آپ کی کوشش اور طالبان کی ہلاکت انگیزیوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ وہ قرآن و حدیث کے حوالے دے کر آرمی پبلک سکول اور دیگر حملوں کا مذہبی جواز پیش کرتے ہیں جبکہ آپ نے آئین کو بنیاد بنایا ہے۔ اگر آپ اسی آئین کی شقوں کو مکمل پڑھ لیتے تو شاید فکری مغالطے کا شکار نہ ہوتے کہ آئین حاکمیت الله کے لئے مخصوص ہونے کے اعلان سے شرو ع ضرور ہوتا ہے لیکن اس حاکمیت کو کیسے استعمال میں لانا ہے اور کیسے اس کی تشریح کرنی ہے اس کی تفصیلات بھی فراہم کرتا ہے۔ آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ اوریا مقبول یا حیدر شاہ یا اللہ دتہ بتائینگے کہ الله کی حاکمیت کیا ہے۔ یہ فریضہ عوام کے منتخب نمایندوں پر چھوڑ دیا گیا ہے جو اسے ایک امانت کے طور پر استعمال کرینگے۔

اگر آپ کا خیال ہے کہ امانت میں خیانت ہو رہی ہے تو آپ یا تو اعلی عدلیہ سے رجوع کر سکتے ہیں یا پھر اپنی جماعت بنا کر یا کسی مذہبی جماعت کے پلیٹ فارم سے عوام کے پاس جا سکتے ہیں کہ الله کی حاکمیت کے خدو خال کیا ہیں۔ وہ اگر آپ کو ووٹ دے کر یہ آئینی طاقت دے دیں کہ درسگاہوں میں تمام مباحثوں کا خاتمہ کر دیا جاۓ تو پھر آپ شوق سے یہ فرض ادا کیجئیے گا۔ لیکن جب تک آپ کے پاس یہ اختیار نہیں تو پھر آپ خود مدعی اور خود ہی منصف نہیں بن سکتے۔ \’کیا اسلامی ہے اور کیا نہیں؟\’ اس کے تعین کے لئے آئین نے کسی ملاؤں کے فورم کی اجازت نہیں دی بلکہ اس کا اختیار صرف عوام الناس کو دیا ہے جو اسے پارلیمنٹ کے ذریعے استعمال میں لاتے ہیں۔ کونسل اف اسلامک آئیڈیا لوجی کو بھی صرف مشورہ دینے کا فرض سونپا گیا ہے۔ پارلیمنٹ اس کو مانے یا نہ مانے یہ اختیار کلی طور پر پارلیمنٹ کے پاس ہی رکھا گیا ہے۔ اس لئے ایک شہری ہونے کے ناطے آپ کا یہ حق تو مسلم ہے کہ آپ اپنی پسندیدگی یا خفگی کا برملا اظہار کریں۔ لیکن آپ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ تعلیمی اداروں میں فساد کا پرچار شرو ع کردیں۔ امید ہے کہ آپ ٹھنڈے دل سے اپنے طرز عمل پر غور کرینگے۔ اور جہالت کی فصیل کے قیدی کی جانب سے اس مخلصانہ مکتوب کو بیدلی کے ساتھ علمی تکبر کی آگ میں نہیں پھینک دیں گے۔ چکی کی مشقت اور مشق سخن میں مصروف اس قیدی کی جانب سے آپ کو عید الفطر کی مبارک ساعت مبارک ہو۔

والسلام
آپ کا عقیدت مند

حیدر شاہ


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “آئین کے نام پر دہشت گردی نہیں چلے گی

  • 04-07-2016 at 3:08 pm
    Permalink

    زبردست کالم۔ علمی انداز گفتگو میں سوال و تنقید کا اچھوتا انداز۔

  • 07-07-2016 at 11:24 am
    Permalink

    بهت اچهاجواب..دلد ما مستحق

Comments are closed.