اوریا، عورتیں اور مرغیاں


\"quratulچند سال پہلے کی بات ہے یونیورسٹی میں ہمارے شعبہ کو ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں مدعو کیا گیا۔ ہم چند طالبات ایک ٹیچر کے ساتھ اس پروگرام میں شرکت کے لیے پہنچیں تو ہمیں ایک کیبن نما کمرےمیں لے جایا گیا۔ وہ شخص جس نے دروازے پر انتہائی احترام سے ہمارا استقبال کیا اور کمرے میں بٹھایا، ساتھ والےکمرےمیں گیا اور وہاں موجود کچھ لوگوں کو ہماری آمد کا بتایا \” مرغیاں آ گیاں نیں میں بٹھا دتا ایے\” یعنی مرغیاں آ گئی ہیں میں نےانھیں بٹھا دیا ہے۔

 اس طرح کے رویہ کا یہ میرا پہلا تجربہ تھا جو بظاہر سلجھے ہوئے اور پڑھے لکھے لوگوں کی طرف سے عورتوں کے لیے روا رکھا جاتا ہے۔ معلوم نہیں باقی طالبات کی اس رویے پر کیا سوچ تھی اور کیا ردِعمل تھا، لیکن میرے لیے یہ اخلاقی طور پر انتہائی گری ہوئی بات تھی کہ وہ عورتوں کو مرغیاں کہہ کر ان کی تذلیل کر رہے تھے۔ ان کے نزدیک عورت کی کوئی عزت نہیں۔ یہ روز مرہ کا صرف ایک واقعہ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عورتوں کے بارے میں گفتگو کی ہمارے معاشرے کے مردوں کی ذرا بھی تربیت نہیں۔ عورتوں کے ساتھ مارکیٹوں، دفتروں، بسوں، ویگنوں اور ٹی وی چینلز پر جو رویہ اختیار کیا جاتا ہے اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم عورت کو درحقیقت کیا مقام دیتے ہیں۔

میری ایک دوست نے، جو ماس کمیونیکیشن کی طالبہ ہیں، ایک ٹی وی چینل پر ایک پروگرام کی میزبانی کرنا تھی۔ انہوں نے دو ماہ اس پروگرام پر کام کیا، اس کی ایک دو ریکارڈنگز بھی ہوئیں لیکن اس کے بعد انہیں صرف اس وجہ سے فارغ کر دیا گیا کہ وہ اسکارف اوڑھتی ہیں۔ ان کی جگہ آج کل وہ پروگرام ایک اداکارہ کر رہی ہیں۔ ایک اور دوست کو چینل میں صرف اس لیے نہیں لیا گیا کہ وہ سر پر ڈوپٹہ اوڑھتی تھیں۔ انہیں کہا گیا آپ کل ہی ڈوپٹہ اتار کر آ جائیں ہم آپ کو لے لیں گے۔ یہ واقعات غیرمعمولی نہیں ہیں۔ پاکستان میں زیادہ تر خواتین اپنے سر کو ڈھانپتی ہیں۔ اور سر ڈھانپنے والی کوئی بھی خاتون اب آپ کو کسی ایک چینل پر نہ خبریں پڑھتی دکھائی دے گی نہ کسی پروگرام کی میزبانی کرتے ہوئے۔ اگر آپ عورت کے حق میں اتنے لبرل ہیں تو ایسی خواتین کو جو اپنی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے اس شعبے میں آنا چاہتی ہیں انہیں جگہ کیوں نہیں دیتے؟ یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔

دوسری طرف ہمارے بچپن میں صرف ایک چینل پی ٹی وی ہوتا تھا۔ جس میں نیوز کاسٹرز سر پر دوپٹا اوڑھ کر خبریں پڑھتی تھیں۔ ڈراموں میں سر پر دوپٹا نہیں تو کم از کم لباس مکمل شلوار قمیض ضرور ہوتا تھا جو ہماری ثقافت کا آئینہ دار تھا۔ ڈرامےاتنے اچھے ہوتے تھے کہ ہم اپنے والدین کے ساتھ بیٹھ کر دیکھتے تھے۔ دھواں، الفا براوو چارلی، راہیں، کہر، ہوائیں، کشکول، افراتفری، زردپتے، عینک والا جن، یہ وہ ڈرامے ہیں جن کا عکس ابھی تک ہمارے ذہنوں پر ہے۔ ان کی کہانیاں ساس بہو کی لڑائیوں اور عشق بازی سے ہٹ کر تھیں۔ انہیں دیکھنے کے لیے لوگ ڈرامہ شروع ہونے کے وقت سے پہلے پہلے اپنے کام نمٹا لیا کرتے تھے۔ اُس وقت کے ڈرامے کسی ایک اچھے موضوع پر اور ایک مقصد کے ساتھ بنائے جاتے تھے اور ان میں موجود پیغام لوگوں تک ضرور پہنچتا تھا۔ لیکن اب جس بھی چینل کو دیکھیں ڈرامے کا صرف ایک مقصد ہے، آخر کار تمام مسائل سے گزر کر لڑکے نے ایک لڑکی سے شادی کرنی ہے۔ اللہ اللہ خیر سلا۔ گلیمر اور گلیمر کے پیچھے کھوکھلا چہرہ۔ میڈیا نےلوگوں کے رویوں، مزاجوں اور اخلاقی قدروں میں اتنا بگاڑ پیدا کر دیا ہے کہ ایک وہ دور تھا جب فلم دیکھنے کے لیے لڑکے والدین سے چھپ چھپ کر سنیما جاتے تھے۔ اب یہ دور ہے کہ انڈیا کی فحش فلمیں باپ بیٹوں کیا بیٹیوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھتے ہیں۔ گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کلچر پہ مبنی ڈرامے چلتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوا؟ کیا یہ لبرل ازم ہے؟

پہلے سر پر دوپٹے تھے، وہ گلے میں آئے، پھرگلے سے بھی غائب ہوئے اور پھر ایک دور آیا سلیولیس کا اور اپ سکرٹس اوربلاؤز کا۔ اسے کہتےہیں سلو کلچرل پوائزننگ، ثقافتی کایا کلپ۔ فلموں، ڈراموں، اشتہاروں اور تھیئٹر کمپنیوں کی وارڈروب میں اس تبدیلی کا ہماری نئی نسل کو اب کوئی فرق محسوس بھی نہیں ہوتا۔ ہم کہتے ہیں اس میں کیا برائی ہے۔ کیا ہو گیا کسی نےعورت کو مرغی کہہ دیا۔ اوہو عورت خود کو اتنا کیوں ڈھانپتی ہے۔ اسے تو اپنے جسم پر فخر کرنا چاہئے۔ اس کا جسم اس کے لیے باعث شرم نہیں، دیکھنے والے کی نظر گندی ہے۔ بی بی آپ کے جسم میں کوئی گندگی نہیں۔ آپ سکون سےشارٹس میں گھومیں۔ کوئی آپ کو تاڑتا ہے تو اس کی نظر کا قصور ہے۔

واقعی یہ حقیقت ہے کہ جسموں کی بناوٹ میں انسان کا کوئی دوش نہیں، لیکن اسی جسم میں عورت اور مرد کے درمیان اللہ نے رغبت رکھی ہے۔ وہ جس نے انسان کو تخلیق کیا ہے وہ اس کی مشینری اور کیمسٹری سے بخوبی واقف ہے، اس کے افعال، جسمانی، جنسی اور نفسیاتی اسرار و رموز اور وظیفوں کو وہ بہتر سمجھتا ہے۔ اسی نے فحاشی سے بچنے اور معاشرے میں فحاشی کو پھیلنے سے روکنے کے جو طریقے بتائے ہیں یقیناً ان میں ہماری بھلائی اور فلاح ہے۔

اوریا مقبول جان کے جس کالم پر ہمارے چند دوستوں نے اتنا واویلا کیا ہے، کیا وہ میڈیا میں عورت کی ہونے والی تذلیل سے لاعلم ہیں؟ کیا انہیں نہیں معلوم کہ عورت کو کس طرح ایک پروڈکٹ اور اشتہاری ترغیب کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے؟ میرا نہیں خیال کہ وہ اس سے لاعلم ہیں۔ اس واویلے اور شور و غل نے مجھے اوریا مقبول جان کے کالم کو پڑھنے پر مجبور کیا اور میں نے اس کالم کو کئی بار پڑھا لیکن مجھے اس میں ایک بھی ایسی بات نظر نہیں آئی جو قابل اعتراض ہو یا جس میں انہوں نے کچھ ایسا لکھا جس سے عورت کی تذلیل ہوئی ہو۔ انہوں نے تو عورت کی ہونے والی تذلیل سے پردہ اٹھایا ہے۔ مجھے اوریا صاحب سے بہت سے نظریاتی اختلافات ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ دانشوری کے نام پر انہیں گالیاں دیں، تذلیل کریں۔ اختلاف رائے ادب اور تمیز کے دائرے میں رہ کر کیا جانا چاہئیے۔ مجھے اوریا جان کے خلاف لکھے گئے کسی ایک کالم میں دلیل نظر نہیں آئی، صرف تذلیل تھی۔ کیا اب ہم حق بات لکھنا چھوڑ دیں؟

ہماری ثقافت یہ نہیں کہ بیٹیاں گھروں سے باپ کی منشا کے بغیر نکلیں۔ کامیابی اور ناکامی تو بعد کی بات ہے۔ میرا تجربہ اور مشاہدہ تو یہی ہے کہ جس نے درست باتوں پر والدین کی نافرمانی کی اس نے ہمیشہ نقصان اٹھایا۔ ہاں جو ان کی رضامندی سے، انہیں قائل کر کے کیا اس میں کامیابی ملی۔ والدین کی رضا و رغبت سے کئی معاشرتی قباحتوں اورنقصانات سےبچا جا سکتا ہے۔ کیا آپ کو ملتان کی اس لڑکی کا حال معلوم نہیں جو اپنے والد کی مرضی کے بغیر کرکٹ کھیلنے نکلی اور اسے جسم فروشی پر مجبور کیا گیا۔ اس کے ساتھ کیا کیا ہوا خودکشی کر کے اس نےان سب رازوں کو اپنے ساتھ دفن کر لیا۔ میٹھا زہر اچھا ہی لگتا ہے۔ بظاہر وہ اشتہار ہمیں رلا دے گا۔ لیکن پسِ پردہ وہ ہماری بچیوں کو یہ ترغیب دے رہا ہے کہ باپ کی کوئی اوقات نہیں، اس سے پوچھے بغیر جو مرضی کرو، کامیاب ہو جاؤ گی۔ مجھے اس نوجوان نسل کا حصہ ہوتے ہوئے اوریا مقبول جان سے اور ان جسے دوسرے سئینرز سے بےحد شرمندگی ہے کہ انہوں نے جو ایشو اٹھایا وہ عورت کو عزت اور تحفظ فراہم کرنے کے لیے تھا، لیکن اس پر انہیں ایک طوفانِ بدتمیزی اور گالم گلوچ کا سامنا کرنا پڑا۔ مجھےاوریا جان سے اور ان جیسےدوسرےلوگونسےشرمندگی ہےجوسچ لکھتے ہیں لیکن ان کےسچ کو متنازع اور متضاد بنا کر سچ کی آواز کو دبا دیا جاتا ہے۔ میڈیا سے متاثر، میڈیا میں شامل ہونے والی غریب گھرانوں کی لڑکیاں جن کے پیچھے کوئی کھڑا نہیں ہوتا ان کو کس کس طرح استعمال کیا جاتا ہے اس سے سب لوگ آگاہ ہیں۔ حیرت ہے اس پر کوئی بات نہیں کرتا۔ افسوس صد افسوس! نئی نسل کو یہ کوئی نہیں بتاتا کہ جو قومیں اپنے بڑوں کی روایات کی پاسداری نہیں کرتیں، ان کا احترام نہیں کرتیں وہ بہت جلد زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔ دانستہ یا نادانستہ، اشتہاری میڈیا ہمیں اسی زوال کی طرف دھکیل رہا ہے۔

معلوم نہیں اوریا کے خلاف لکھنے میں پہل کس نے کی۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ ہماری قوم بھیڑ چال کا شکار ہے۔ جس کسی نے بھی لکھا، ذرا سی ہوا دی اور سب سوچے سمجھے بغیراسی رخ پر بہنے لگے۔ ہر طرف اوریا اوریا بلکہ عوریا عوریا ہونے لگی۔ لکھنے والوں سے درخواست ہے کہ جوش کے ساتھ ہوش کی بھی ضروت ہوتی ہے۔ محض نکتہ چیں نہ بنیں بلکہ بھیڑ چال سے باہر نکل کر اپنا نقطہ نظر بنائیں اور دلیل سے اختلاف کریں۔ گندی زبان استعمال کرنے سے آپ لبرلز میں نہیں، بداخلاق لوگوں میں ضرور شمار ہونے لگتے ہیں۔ میں دوپٹا اوڑھتی ہوں میں اس کے حق میں ہزار بار لکھوں گی لیکن میں نقاب والی کو کبھی خود سے کمتر سمجھوں گی نہ پیش کروں گی۔ میں اس کے لیے اسلام کی تعلیمات میں اپنی مرضی کا ردوبدل بھی نہیں کروں گی۔ کیونکہ میں اس کا احترام کرتی ہوں، صنفی بھی اور شخصی بھی۔ میں اوریا مقبول کی رائے کا بھی احترام کرتی ہوں۔ مجھے ان سے اختلاف بھی ہے کہ اس حقیقت کے باوجود عورت کو میڈیا میں محض ایک پراڈکٹ سمجھا جاتا ہے انھوں نے ایسا کالم کیوں لکھا جس سے ان لوگوں کی دل آزاری ہوئی ہے جو یہ سمجھنا ہی نہیں چاہتے کہ عورت اور مرغی میں کیا فرق ہے اور معاشرے میں عورت کا اصل مقام و مرتبہ کیا ہے۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

11 thoughts on “اوریا، عورتیں اور مرغیاں

  • 04-07-2016 at 11:55 pm
    Permalink

    Excellent expression. Fully agreed. Our “liberals” seriously need to learn from this lady

  • 05-07-2016 at 1:06 am
    Permalink

    Impressive
    Excellent Job

  • 05-07-2016 at 6:35 am
    Permalink

    آپنے کمال کا مضمون لکھا ہے جو کثیر تعداد کی دل کی ترجمانی ہے۔ ‘ہم سب’ پر ایسا لگتا ہے کہ یہ مغرب زدہ بیمار ذہن کے لوگوں کی جائے پناہ ہے جن کو ترقّی کی خواہش میں اپنی اقدار کا بھی پاس نہیں۔ یہی غلامانہ ذہنیت کہلاتی ہے۔ پاکستان کے لبرل سے زیادہ دیانت دار تو مغرب کا لبرل ہے جو کھل کر بات کرتے ہیں ۔یہ تو بچارے دوغلے ہیں یا پھر لبرل کا مطلب ہی نہیں جانتے بس فیشن اور بھیڑ چال میں لبرل بن گئے۔ آپکی جرات کو سلام۔

  • 05-07-2016 at 8:54 am
    Permalink

    بہت عمدہ تحریر ہے.

  • 05-07-2016 at 12:27 pm
    Permalink

    لبرل ہمارا حصہ ہیں۔ ہم سب پر ہر طرح کے لوگ لکھ سکتے ہیں اپنا نقطہ نظر پیش کر سکتے ہیں۔ لبرلز کی بہت سی باتیں اچھی بھی ہیں۔ اختلاف کیا جانا چاہیے لیکن اختلاف کرنے کے لیے ہمیں دوسرے کو بیوقوف اور گھٹیا ثابت کرنا ضروری نہیں ۔ پسندیدگی کا شکریہ

  • 05-07-2016 at 12:49 pm
    Permalink

    جی درست، مگر یہاں پر صرف اوریا کے کالم پر ردّ ِعمل کے تناظر میں بات کی تھی۔ مغرب میں لبرل مذہب کو ذاتی مسئلہ سمجھتے ہیں اور اسکا اظہار کرتے ہیں جو کہ لبرل نظریے کا بنیادی نکتہ ہے۔ یہاں ایسا نہیں کرتے یا کرپاتے ہیں۔

  • 06-07-2016 at 1:35 pm
    Permalink

    In real sense without any ambiouguity i appreciate the excellent and thought full right up. No doubt, soon or later the librels struck the last nail in the coffine of our culture.

  • 07-07-2016 at 8:37 pm
    Permalink

    بہت ہی عمدہ اور حقیقت سے بھر پور ترجمانی کی ہے۔ تنقید کرنے والے لبرل نہیں ہیں بلکہ جاہلیت کا عمدہ نمونہ ہیں۔ جن کو اپنی ثقافت اور مذہبی رواداری کا نہیں معلوم اُن کی باتوں کو زرا بھی اہمیت دینے کی ضرورت نہیں ہیں۔ ایسے نام نہاد لکھاری ہر دور میں موجود رہے ہیں، دنیا اسی کا نام ہے۔
    ہم سب اوریا صاحب کی دل و جاں سے عزت کرتے ہیں اور اُنکی تمام تحریروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اوریا صاحب کی ہر تحریر میں سمھجنے والوں کے لیے ایک پیغام ہوتا ہے۔ اوریا صاحب سے درخواست ہے اپنا کام جاری رکھیں اور قوم کی رہنمائ کرتے رہیں۔ قوم کی دعائیں آپکے ساتھ ہیں۔ خدا اوریا صاحب کو لمبی عمر عطا کرے۔

  • 08-07-2016 at 9:51 am
    Permalink

    بہت عمدہ تحریر ہے ۔ حقیقت کی ترجمان، سوچنے کے لئے کافی مواد ہے ۔

  • 08-07-2016 at 9:17 pm
    Permalink

    ” کیا یہ لبرل ازم ہے؟”
    Mohtarma, iss pori kahani me Liberalism ka zikr kahan se aagaya—?

Comments are closed.