مسجد نبوی کے قریب خودکش دھماکے کی اطلاعات


\"masjidnabvi1\"العربیہ، الجزیرہ، اور بین الاقوامی میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے شہر مدینہ میں مسجد نبوی کے حرم کے قریب سیکیورٹی چیک پوسٹ پر ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس بزدلانہ کارروائی میں ابتک دو سیکیورٹی اہلکاروں کے شہادت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

مقدس شہر مدینہ میں ہونے والے دھماکے کا ہدف مسجد نبوی کا کار پارکنگ ایریا تھا۔ دھماکے کے وقت سیکیورٹی چیک پوسٹ پر اہلکار افطار کر رہے تھے اور مسجد نبوی میں افطار کے بعد نماز مغرب کی اقامت ادا کی جا رہی تھی۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے مسجد نبوی کے قریب دھماکے کی جگہ پر رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں اور ناکہ لگا کر ابتدائی شواہد جمع کرنا شروع کر دیئے ہیں۔

بیس لاکھ افراد مسجد نبوی اور روضہ رسول کی روحانی فضا سے استفادہ کے لئے آئے۔

دھماکے کے بعد صورتحال پرسکون ہے کوئی افراتفری نہیں ہے۔ نمازی عشاء اور تراویح کے لئے جوق در جوق مسجد نبوی آ رہے ہیں۔

سعودی حکام کے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ اسے پہلے سیکیورٹی ڈرل اور بعض اطلاعات کے مطابق بے احتیاطی سے گیس لیکیج کے باعث ہونے والا دھماکہ قرار دیا گیا تھا۔

جبکہ دوسری جانب مشرقی شہر قطیف میں مسجد کے باہر دو خودکش حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

العربیہ نیوز چینل کے مطابق پیر کی شام قطیف شہر کی مسجد عمران کے قریب ہونے والے دھماکوں میں ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دھماکے کاروباری علاقے میں ہئے جہاں بڑی تعداد میں لوگوں کے جمع ہو گئے ہیں۔ امدادی اور سیکیورٹی اہلکاروں کی بڑی  تعداد جائے حادثہ کی طرف روانہ کر دی گئی ہے۔ قطیف شہرمیں اہل تشیع کی اکثریت ہے۔

اس سے پہلے جدہ شہر میں امریکی قونصل خانے کے نواح میں بھی حملہ کیا جا چکا ہے۔ سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں واقع امریکی قونصل خانے کے قریب ایک خودکش بمبار کو سیکیورٹی اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ہلاک کر دیا۔ پیر کوعلی الصباح کی جانے والی اس کارروائی میں دو افراد زخمی بھی ہوئے۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق سوموار کے روز ناکام بنائی جانے والی کوشش مملکت میں کئی برسوں بعد غیر ملکیوں کو نشانہ بنانے کی ناکام کوشش تھی۔

سرکاری ٹی وی نے نے سیکیورٹی ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ حملہ آور نے قونصل خانے کے بالمقابل ہسپتال میں اپنی گاڑی سحری کے وقت سوا دو بجے پارک کی اور جونہی دو سیکیورٹی اہلکار اسے مشتبہ جان کر اس کے قریب آئے تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں وہ خود ہلاک ہو گیا جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں کو معمولی زخم آئے۔

اس وقت سعودی عرب ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ ہے اور لوگ اس واقعے کی تصاویر اور ویڈیو پوسٹ کر رہے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔