پیمرا، عدالت عظمیٰ اور لاچار صحافی


\"edit\"سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے جیو انٹرٹینمنٹ کے پروگرام ’’انعام گھر‘‘ پر پیمرا کی طرف سے پابندی کے معاملہ کو نمٹاتے ہوئے الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی سے کہا ہے کہ وہ ایک ماہ کے اندر اس معاملہ پر حتمی فیصلہ کر لے۔ اگرچہ عدالت عظمیٰ کے دو رکنی بینچ کا باقاعدہ حکم تو صرف اسی ہدایت تک محدود ہے لیکن بینچ کے سربراہ جسٹس دوست محمد خان نے اس سماعت کے دوران پیمرا کے دائرہ کار ، ہائیکورٹ کے اختیار اور میڈیا کی صورتحال کے بارے میں جو ریمارکس دیئے ہیں، وہ ملک میں آزادی صحافت پر قدغن لگانے کے لئے اہم بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔ اس لئے ایک طرف ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے ججوں کو یہ احتیاط کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ کسی حساس اور نازک معاملہ پر سماعت کرتے ہوئے اپنی رائے کو فیصلوں تک ہی محدود رکھیں اور ریمارکس کی صورت میں ایسی آرا کا اظہار نہ کریں جو میڈیا پر غیر ضروری پابندیوں کے حوالے سے حکومت یا دوسرے ادارے عدالتی مشورہ کے طور پر استعمال کرنے لگیں۔ اس کے ساتھ ہی ملک میں صحافیوں کی تنظیموں اور میڈیا ہاؤسز کو خاص طور سے الیکٹرانک میڈیا سے پیدا ہونے والی شکایات پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے، خود اخلاقی ضوابط مرتب کرنے اور ان پر سختی سے عملدرآمد کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ملک میں عام طور سے ٹیلی ویژن اسٹیشنوں پر نشر ہونے والے پروگراموں میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے پر شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ نہ جانے ٹیلی ویژن اسٹیشنوں پر پروگرام تیار کرنے اور پیش کرنے والوں کو اس بات کا ادراک ہے یا نہیں کہ رائے عامہ منفی نشریات کی وجہ سے تیزی سے ان کے خلاف ہو رہی ہے۔ لیکن ملک میں تفریح کا کوئی متبادل ذریعہ نہ ہونے کی وجہ سے عوام کی اکثریت بدستور ٹیلی ویژن پروگرام دیکھنے پر مجبور ہوتی ہے۔ اسی کو کسی پروگرام کی کامیابی کی ضمانت بھی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ان پروگراموں کے بارے میں نجی محفلوں اور سوشل میڈیا پر جس قسم کی رائے اور ہتک آمیز تبصرے سامنے آتے ہیں، وہ ملک میں ٹیلی ویژن نشریات کے مستقبل اور آزادی اظہار کے احترام کے حوالے سے کوئی نیک شگون نہیں ہے۔

یہ درست ہے کہ سرمایہ دار گروہوں نے پیسہ کمانے کے لئے ٹیلی ویژن نشریات کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ ہر ٹیلی ویژن اور ہر پروگرام زیادہ سے زیادہ ناظرین کی توجہ حاصل کرنے کے لئے ہر قسم کا جائز اور ناجائز ہتھکنڈہ اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ملک میں صحافیوں کی کمزور تنظیموں اور مالکان کے بے پناہ اختیارات کی وجہ سے عامل صحافی اعلیٰ صحافتی اقدار کی حفاظت کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ بلکہ یہ صحافی تو اس قدر مجبور ہو چکے ہیں کہ ناظرین کو متوجہ کرنے کی دوڑ میں اکثر پروگراموں کو پیش کرنے کے لئے اداکاروں ، اسٹیج کے مسخروں اور دیگر غیر پیشہ ور افراد کو کثیر معاوضہ کے عوض حاصل کر لیا جاتا ہے۔ لیکن ساری زندگی صحافت میں جوتیاں چٹخانے والے منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ نہ ادارے کے اندر اور نہ تنظیمی سطح پر کوئی ان کی بات سننے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ اس طرح کمرشل مفادات کی دوڑ نے درحقیقت پیشہ ور صحافیوں کو بے اثر اور مجبور محض کر دیا ہے۔ اور وہ اپنی نوکری بچانے کے چکر میں وہی خدمت بجا لینے کے لئے تیار ہیں جو کمرشل چینل کا مالک، ان سے حاصل کرنا چاہتا ہے۔

اس کے باوجود اگر بعض ٹاک شوز کی میزبانی کا فرض کسی صحافی کو سونپ بھی دیا جائے تو اس پر ’’ریٹنگ‘‘ میں اضافہ کے لئے مالک کا دباؤ برقرار رہتا ہے۔ وہ اینکر ایسی صورت میں پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا خیال رکھنے کی بجائے زیادہ ناظرین حاصل کرنے کی دوڑ میں مالک کا دست راست بن کر وہی کچھ کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے اشتہار دینے والی کمپنیاں بھی خوش ہوں اور سنسنی خیز اور نعرے بازی پر مبنی پروگرام کی وجہ سے لوگ بھی اس کی طرف متوجہ ہوں۔ ایسی صورتحال کی وجہ سے قندیل بلوچ اور مولوی عبدالقوی کا اسکینڈل اہم ترین ’’قومی مسئلہ‘‘ کے طور پر پروگراموں میں زیر بحث آتا ہے یا وی آئی پی پروٹرکول کی وجہ سے عمران خان کی بہن کی گاڑی روکنے اور اس وجہ سے مریم نواز پر غلط الزام لگانے کا معاملہ کئی روز تک قومی منظر نامہ میں گونجتا رہتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  وطن عزیز کے رنگ نرالے ہیں

اسی طرح توجہ حاصل کرنے کے لئے کوئی اینکر اسلام کا چیمپئن بن کر فتوے جاری کرتا ہے یا خود کو اخلاقیات کا علمبردار سمجھتے ہوئے اشتہارات کی فحاشی کو یوں زیر بحث لاتا ہے کہ اس کی اپنی گفتگو فحش اور قابل گرفت ہو جاتی ہے۔ لیکن اس طرز عمل سے چونکہ لوگ متوجہ ہوتے ہیں، اس لئے مالکان بھی خوش اور دیکھنے والے تین حرف بھیجتے ہوئے بھی انہی پروگراموں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جہاں اشتعال انگیز فحش کلامی کا دور دورہ ہو۔ کوئی اینکر اپنی صحافیانہ صلاحیت یا ریسرچ ورک کی وجہ سے پہچان نہیں کرواتا بلکہ اس کی مقبولیت کا پیمانہ اب یہ بن چکا ہے کہ تند و تیز سوال کرنے کے نام پر اپنے مہمانوں کی کتنی ’’عزت افزائی‘‘ کر سکتا ہے یا مہمانوں کو آپس میں لڑوانے کے کتنے گر جانتا ہے۔ یہ معلومات بھی زبان زد عام ہیں کہ کسی ڈیبیٹ پروگرام میں مہمانوں کا انتخاب کرنے سے پہلے متعلقہ لوگوں کی شعبہ جاتی مہارت یا کارکردگی پر غور کرنے کی بجائے، یہ دیکھا جاتا ہے کہ بحث کے دوران وہ مدمقابل پر کتنے سخت حملے کر کے ماحول میں گرمی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ سارے رویے صحافت کے دامن پر بدنما داغ ہیں۔ لیکن ان برائیوں سے نمٹنے کی ذمہ داری بھی صحافیوں پر ہی عائد ہوتی ہے۔ کسی پروگرام ، میڈیا ہاؤس یا صحافی کی غلطی پر نکتہ چینی کرنا، اس کی نشاندہی کرنا اور اس پر بات کرنا ہر باشعور شہری کا کام ہے۔ اس قسم کی رائے سامنے آنے کی صورت میں ذمہ دار ادارے اور صحافی اپنی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان میں بوجوہ یہ عمل سست روی کا شکار ہے۔ اس لئے حکومت کی طرف سے الیکٹرانک میڈیا کو کنٹرول کرنے والے ادارے پیمرا PEMRA سے غیر ضروری طور پر بہت زیادہ توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں۔ یہ امیدیں حکومت تو اپنے ہی مقرر کردہ پیمرا کے اہلکاروں اور افسروں سے بجا طور پر وابستہ کرتی ہی ہے، لیکن اب عام لوگوں سے لے کر صحافیوں کی طرف سے بھی یہ آوازیں بلند ہونے لگی ہیں کہ پیمرا کو میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لئے سخت اقدام کرنے چاہئیں۔ آج سپریم کورٹ کے جج دوست محمد خان نے بھی انہی خیالات کا اظہار کیا ہے۔

جیو کے پروگرام پر پابندی کے معاملہ پر غور کرتے ہوئے فاضل جج جسٹس دوست محمد خان نے قرار دیا ہے کہ پیمرا خود مختار ادارہ ہے اور اسے میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لئے سخت اقدام کرنے حتیٰ کہ کسی ٹیلی ویژن کا لائسنس منسوخ کرنے کا اختیار بھی استعمال کرنا ہو گا۔ فاضل جج نے یہ تبصرہ پیمرا کے سربراہ ابصار عالم کی اس شکایت پر کیا تھا کہ پیمرا اگر کسی پروگرام کے خلاف ایکشن لیتا ہے تو متعلقہ ادارہ ہائیکورٹ سے حکم امتناعی حاصل کر لیتا ہے۔ زیر غور معاملہ میں جیو کے ایک پروگرام انعام گھر میں ایک لڑکی کی خودکشی کے واقعہ کی تمثیل نشر کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ ایک مہمان نے ’’غیر مہذب‘‘ الفاظ استعمال کئے تھے۔ پیمرا نے اس پر کارروائی کرتے ہوئے 27 جون کو تین روز کے لئے پروگرام بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ جیو انٹرٹینمنٹ نے سندھ ہائیکورٹ سے پیمرا کے اس حکم کے خلاف حکم امتناعی حاصل کر لیا تھا۔ سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ میں اسی حکم امتناعی کے خلاف پیمرا کے درخواست پر غور ہو رہا تھا۔

اسی بارے میں: ۔  لبرل کرائے پر دستیاب ہیں

بینچ نے اپنے حکم میں سندھ ہائیکورٹ کے فیصلہ کو تو کالعدم قرار نہیں دیا بلکہ پیمرا کو اس معاملہ پر ایک ماہ کے اندر حتمی فیصلہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ لیکن سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس دوست محمد خان نے دیگر باتوں کے علاوہ یہ بھی کہا کہ پیمرا چونکہ خود مختار ادارہ ہے، اس لئے ہائیکورٹ کو اس کے احکامات کے خلاف عبوری حکمنامہ جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ فاضل جج کا یہ فرمان اگر ملک کی عدالتی روایت کا حصہ بنا لیا گیا تو حکومت وقت کی ہدایت پر چلنے والے ایک نام نہاد خود مختار ادارے کو ملک میں الیکٹرانک میڈیا پر کنٹرول کرنے کا بے پناہ اختیار حاصل ہو جائے گا اور سپریم کورٹ کے جج کی رائے کی روشنی میں ان فیصلوں کے خلاف داد رسی کی درخواست بھی دائر نہیں ہو سکے گی۔ یا کم از کم حکم امتناعی کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔ سزا بھگتنے کے بعد اگر کوئی ٹیلی ویژن اسٹیشن کسی عدالتی فورم پر اپنی بے گناہی ثابت کرنے میں کامیاب ہو بھی جائے تو اس سے نقصان اور بدنامی کا ازالہ تو بہرحال نہیں ہو سکے گا۔

آزادی اظہار پر عدالتیں صرف اس صورت میں قدغن عائد کرنے کی مجاز ہیں، اگر کوئی صحافی ، اینکر یا مبصر کسی مروجہ قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہو۔ پیمرا کے مرتب کردہ قواعد ایک ادارہ جاتی معاملہ ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ سارے قواعد ملک کے قوانین کے عین مطابق ہوں۔ یا پیمرا کا فیصلہ قواعد اور قوانین کے مطابق ہو۔ اسی لئے پیمرا اور کسی نشریاتی ادارے کے درمیان اختلاف کی صورت میں معاملہ عدالتوں تک لایا جاتا ہے تا کہ معزز جج یہ جائزہ لے سکیں کہ کیا متعلقہ فیصلہ ملک کے قوانین کی روشنی میں درست ہے یا اس میں ان کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ یہ اختیار بہرصورت ملک کی عدالتوں کو ہی حاصل رہے گا۔ جسٹس دوست محمد خان کے ارشادات کی روشنی میں اگر پیمرا کو اس قدر خودسر، خود مختار اور بااختیار بنا دیا گیا کہ وہ عدالتوں کی مداخلت کے بغیر اپنے فیصلے نافذ کروانے لگے تو ملک میں میڈیا کی آزادی کے حوالے سے خطرناک صورتحال پیدا ہو جائے گی۔ ان حالات میں ملک کے صحافیوں کو متحرک ہونے اور اس افسوسناک صورتحال کو ختم کرنے کے لئے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک صحافتی تنظیمیں صحافتی اداروں اور اپنے اراکین کے لئے واضح اور دوٹوک ضابطہ اخلاق مرتب نہیں کریں گی اور تمام مہذب ملکوں کی طرح ، ان پر عملدرآمد کے لئے نگران ادارے قائم نہیں کریں گے ۔۔۔۔۔ اس وقت تک سرکاری ادارے آزادی اظہار پر شب خون مارنے کا موقع تلاش کرتے رہیں گے اور ملک کے جج میڈیا کے خلاف شکایات پر اسی مایوسی کا اظہار کرنے لگیں گے جس کا ایک مظاہرہ آج سپریم کورٹ میں دیکھنے میں آیا ہے۔

عدالتیں اور حکومت اگر ملک میں صحافیوں کے لئے کوئی خدمت سرانجام دینا چاہتی ہیں تو انہیں مالکان کو اپنے ہاں کام کرنے والے صحافیوں کو مستقل ملازمت دینے، تنخواہوں کا قابل قبول نظام متعارف کروانے، کمرشل مفادات کی بنیاد پر صحافیوں کو طبقات میں تقسیم کرنے سے گریز کرنے اور غیر پیشہ ورانہ لوگوں کو پروگرام پیش کرنے سے روکنے کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 685 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali