نیوکلیئرسپلائرگروپ کی رکنیت کے بھارتی ارمان


عبدالوحید ربانی


پنجابی کا مشہور مقولہ ہے چنگیاں نیتاں تے اُوچے بھاگ۔ بھارت روزِاول سے ہی پاکستان کو زیراور کمزور کرنے پرتلا ہوا ہے۔ اس نے ہر \"waheedمیدان میں پاکستان سے سبقت لینے کی ناکام کوشش کی ہے مگراس کو ہماری خارجہ پالیسی، اسٹیبلشمنٹ اور فوج کی مہارت کی وجہ سے ہمیشہ منہ کی کھانی پڑی ہے اب چین نے بھی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو آنکھیں دیکھانا شروع کر دی ہے۔ جس کی ایک جھلک نیوکلیئرگروپ یعنی این ایس جی کے اجلاس میں نظرآئی جب اس نے بھارت کواس کا رکن بنانے سے صاف صاف انکاردیا۔ چین نے ایک مرتبہ پھریہ ثابت کردیا کہ پاک چین دوستی ہمالیہ سے اونچی اور سمندر سے گہری ہے۔ چندروزقبل بھارتی وزیراعظم مودی نے مختلف ممالک کے دورے کیے جہاں اس نے این ایس جی کا ممبربننے کیلئے بھارت کے حق میں ووٹ دینے کے منت وسماجت کرتا رہا۔ اسی حوالے سے مودی تاشقند میں بھکاری بن کر چینی صدرشی چن پنگ سے ملاقات کی۔ اس نے چینی صدرکوقائل کرنے کی کوشش کی مگرمودی کے حصے میں صاف صاف انکارآیا۔ پچھلے ہفتے جنوبی کوریا کے شہرسئیول میں 20سے 24 جون تک این ایس جی کا 26 واں اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں اس کے اڑتالیس ممبرممالک نے شرکت کی۔ جس کے آخری روزبھارت کی طرف سے این ایس جی کا رکن بننے کیلئے دی جانے درخواست پرغورکیاگیا۔ ایک تہائی ممالک نے بھارت کے خلاف ووٹ دیا ۔ جن میں ترکی، برازیل، چین آسٹریا، سوئزرلینڈ سمیت دیگرممالک شامل تھے جن کا کہنا تھا کہ بھارت نے ابھی تک NPT پردستخط نہیں کیے۔ NPT کا حصہ بنے بغیربھارت NSG کا ممبر نہیں بن سکتا۔ این ایس جی کے اجلاس میں بھارت کی مخالفین میں چین سب سے آگے آگے تھا۔ جس نے بھارت کے ناپاک ارادوں کوخاک میں ملادیا۔

بھارت سوچی سمجھی سازش کے تحت این ایس جی کا ممبر بننے کی کوشش کررہاتھا۔ جوہری ہتھیاروں کاغلط استعمال کرنا چاہتا تھا۔ کیونکہ جو این ایس جی کا رکن ہوتا ہے وہ ملک سے پوچھے بغیرایٹمی ہتھیاروں کا استعمال اور تبادلہ کرسکتا ہے ۔ اور یورینیئم کا تبادلہ کر سکتا ہے جو کہ اس خطے کیلئے انتہائی خطرناک ہوسکتا تھا پوری دنیا نے بھارت کے اس پھیانک چہرے کو پھانپ لیا اور بھارت کواین ایس جی سے دور رکھنے میں ہی دنیا کی بھلائی سمجھی۔ بھارتی عوام نے ایک ایسے شخص کواپنا وزیراعظم چناہے۔جس کی پہچان ہی قتل وغارت، ظلم وبربریت اوراقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہے۔ آپ کو یاد ہوگا مودی 2002 گجرات میں ہونے والے فسادات کے ماسٹرمائنڈ تھے۔ صرف یہ ہی نہیں الیکشن مہم کے دوران اپنی غلیظ زبان استعمال کرنے کی وجہ سے بھی مودی بہت بدنام ہوئے۔ تو ایسے میں بھارت کو این ایس جی کا رکن بنانابندر کے ہاتھ میں ماچس دینے کے مترادف تھا۔ این ایس جی کے رکن ممالک نے بھارتی ناپاک عزائم کوپھاپتے ہوئے اس کو جھنڈی کروادی۔ ایک عربی شاعر نے کہا تھا میں نہیں چاہتا کہ کسی کومیری وجہ کرکے دکھ نہ ملے مگر حاسد کا میں کیا کروجو خود ہی اپنے آپ کو دکھ دے رہا ہوتا ہے۔یہی مسئلہ بھارت کے ساتھ ہے جس کو پاکستان میں امن، خوشحالی ، ترقی، اداروں میںباہمی تعاون اور دہشت گردی کا خاتمہ ایک آنکھ نہیں بہاتا۔ وہ کسی نہ کسی طریقے سے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی حرکتیں کرتارہتا ہے دوسری طرف اگربھارت کے اندرونی حالات پہ نظر ڈالی جائے توتشویش ناک حقائق سامنے آتے ہیں۔ بھارت کا شماردنیاکے غریب ترین ممالک میں ہوتا ہے کروڑوں افراد کو دووقت کی روٹی میسر نہیں ہے۔کئی ریاستیں ٹوئلٹ سمیت دیگر کئی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ یہ وہ تمام سہولیات ہیں جو عوام تک پہنچانا کسی بھی حکومت کی اولین ترجحات میں شامل ہوتا ہے مگرمودی ان تمام مسائل کوپسِ پردہ ڈال کراپنے آپ کواونچا دکھانے کیلئے کچھ بھی کرنے کوتیار ہے

ایک بات توسچ ہے جولوگ دوغلی پالیسی پرعمل پہرہ ہوتے ہے ان کی مکاری جلد ہی ظاہرہوجاتی ہے اور ان کی بغل میں چھُری منہ میں رام رام والی پالیسی سامنے آجاتی ہے بھارت ایک مرتبہ پھرپاکستان کے ہمسایہ ممالک ایران اور افغانستان کو ساتھ ملاکر چاہ بہارپر ڈرامہ رچانے جا رہا ہے کہنے کو تو بھارت بندرگاہ بنا رہا ہے مگرحقیقت میں وہ پاکستان میں عدم استحکام پیداکرنے کیلئے ہمارے ہمسایہ ممالک سے تعالقات قائم کرنے جا رہا ہے۔ ایک لمحہ کیلئے اگرمان بھی لیاج ائے کہ چاہ بہار پربھارت تجارت کی غرض سے قبضہ جما رہا ہے تو13 کروڑ کی تجارت پاک چین کی گوادر پر 46 ارب کے کی سرمایا کاری تو آٹے میں نمک کے برابر ہے دراصل بھارت کو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ہضم نہیں ہورہا۔ اسی بناپر بھارت کسی نہ کسی طریقے سے مداخلت کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے پچھلے دنوں بھارتی ایجنسی راکے ایجنٹ کلبھوشن یادیو کا پکڑا جانا اس بات کو ثبوت ہے را تو پاکستان کا امن تباہ کرنے پر تُلی ہوئی ہے

اب فیصلے کا لمحہ آگیا ہے کہ ہمیں بھارت کو دوٹوک الفاظ میں بول دینا چاہئے کہ بہت ہوگیا ہم نے آپ سے روابط قائم کرنے کی بہت کوشش کی مگر آپ نے سانپ کی طرح ڈسا ہی ہے بھارتی فنکار، سیکھ یاتری اور دوسرے بھارتی جو کھیلوں میں حصہ لینے کیلئے آتے ہیں ہم ان کو کندھوں پہ اٹھا لیتے ہیں ہماری خوشی دیدنی ہوتی ہے جب کہ دوسری طرف ہمارے گلوکار جب بھارت جاتے ہیں تو ان کے کنسرٹ بندکروا دیتے ہیں توان پرحملہ کروا دیتے ہیں، ان کے چہروں پرسیاسی لگا دیتے ہیں۔ چندماہ قبل ایک پاکستانی خاندان ممبئی میں علاج کیلئے گیا جہاں انھوں نے ممبئی کے ایک اسپتال میں اپنے بچے کی علاج کروانا تھا وہ خاندان رات کوممبئی پہنچ گیا۔ مگراسپتال اگلے دن جانا تھا۔ اس خاندان نے رات گزارنے کیلئے مختلف جگہوں پررہائش کیلئے پتا کیامگراس طرف سے ان کویہ ہی سننے کوملا کہ آپ پاکستان سے آئے ہیں اس لیئے آپ کو رہنے کی جگہ نہیں مل سکتی۔ اس خاندان نے رات توگزارنے تھی۔ جب ان کوکوئی جگہ نہ ملی توانھوں نے ممبئی کوسڑکوں پرہی جاگ کررات گزاردی۔ بھارتیوں کی پاکستان نفرت کایہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہر دور میں پاکستان اور پاکستانیوں سے نفرت کا وہ مظاہرہ کرتے آئے ہیں۔ بھارت کوایک اور بہت بڑی بیماری یہ ہے کہ جب وہاں کوئی چڑیا بھی پرمارتی ہے توالزام پاکستان پر لگا دیا جاتا  ہے۔ یہ سن کرآپ کوہنسی بھی آئے گی کہ پچھلے سال ایک کبوتر بارڈرعبور کر کے بھارت چلا جاتا ہے تو ان کی ایجنسیوں نے اس کو پکڑکر اس کے ساتھ وہی کچھ کیا جو ایک جاسوس کے ساتھ کیا جاتا ہے پورا انڈین میڈیا پاکستان پرجاسوس بھیجنے کے الزام لگا رہا تھا۔ اس کبوترکاپوسٹ مارٹم کیاگیا۔ اس کولیبارٹری میں لیجاکراس کے ٹیسٹ کیلئے گئے۔اس سے آ پ شک زدہ انڈین ایجنسیوں کی ناکامی کااندازہ آسانی سے لگاسکتے ہیں۔پٹھانکوٹ کاجب واقعہ ہوتا ہے توعادت سے مجبوربھارت نے آﺅ دیکھوں نہ تاﺅ الزام پاکستان پرلگا دیا۔ ان کی دوغلی پالیسی تب ہی ظاہرہوگئی جب انھوں نے پاکستانی تفتیشی ٹیم کونہ تو جائے وقوعہ جانے دیاگیا اور نہ ہی عینی شاہدین سے بات کرنے دی گئی۔ اس سے واضح ہورہا تھا کہ بھارت ڈرامہ رچارہاہے۔ جوبعد میں جاکرثابت بھی ہوگیااور انڈیا نے خود تسلیم کیا کہ پٹھانکوٹ حملے میںپاکستان کاملوث نہیں تھا۔بغیرسوچے سمجھے بھارت کوالزام لگانے کی لت پڑ گئی ہے۔ بھارت کوہوش کے ناخن لینا ہوں گے نہیں توپھرپاکستان کوبھی بھارت کی بھاشا میں جواب دیناآتا ہے اور اگر بھارت نے آئندہ کوئی ایسی غلطی کی تو پھر اس کے خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔