عید، ناانصافی…. مجھے گھر یاد آتا ہے


ایک دو روز میں عید ہوگی۔ لغت میں لفظ کا معانی کچھ اور ہوتا ہے اور زبان استعمال کرنے والوں کے احساس میں اس کی کیفیت کچھ اور \"wajahat\"ہوتی ہے۔ میر ہی کو لیجئے، خدائے سخن نے لکھا۔ ہوئی عید، سب نے پہنے خوشی و طرب کے جامے، نہ ہوا کہ ہم بدلتے یہ لباس سوگواراں۔ میر نے نوے برس کی عمر پائی۔ باہر سیاسی افراتفری تھی، تاج تلوار کی نوک پہ رکھا تھا، مغلوں کی سیاسی قوت بکھر رہی تھی، ادھر ایک تمثیل میر کے دل میں کھیلی جارہی تھی۔ اسے چاند میں ایک صورت نظر آتی تھی۔ گویا میر کے لئے ہر شام چاند لباس سوگواراں پہنے آسمان پر نکلتا تھا۔ تو لفظ بولنے والے کے احساس میںخارج اور داخل کی کشاکش سے تجسیم پاتا ہے۔ نوجوانی کی ایک عید درویش نے ملکوال کے قصبے میں گزاری۔ اس تفصیل کا محل نہیں کہ یہ غریب الوطنی کیوں پیش آئی تھی۔ چاند رات کو بازار میں نکلا۔ بلا کی چہل پہل تھی۔ چند ہزار کی آبادی کے قصبے میں ارد گرد کے دیہات سے بہت سے لوگ خرید و فروخت کے لئے امڈ آئے تھے۔ سیاہ برقعے میں ملبوس ایک عورت زمین پر اکڑوں بیٹھی کوئی تین برس کے بیٹے کو پلاسٹک کی چپل پہنا رہی تھی۔ اس معصوم کی آنکھوں میں نئے جوتے کی خوشی اور خستہ حال برقعے میں لپٹی ہوئی ماں کی شفقت ہمیشہ کے لئے عید کی تصویر بن گئی۔

خوشی کا تعلق روپے پیسے کی بہتات سے نہیں ہوتا، پیچیدہ رسوم کی ادائیگی سے نہیں ہوتا، انسانوں کے دل میں خوشی کے لئے بہت سی جگہ ہے۔ تھوڑے سے پیسوں سے خوشی کا خیمہ قائم ہوجاتا ہے۔ کوئی چاہے تو خوشی منانے کے لئے قیمتی جہازوں میں بیٹھ کر دورافتادہ جزیروں کا رخ کرے۔ منڈی بہاو¿لدین کی ماں اور اس کے بیٹے کی خوشی آٹھ روپے کی بے مایہ جوتی میں بھی سمٹ سکتی ہے۔ زندگی بے اعتنائی میں بھی گزاری جا سکتی ہے، بے حسی بھی ایک کیفیت ہے، دوسروں کے دکھ سے لاتعلقی میں بھی وقت گزر سکتا ہے لیکن انسانی دلوں میں ابھرتی ڈوبتی کیفیت کا احاطہ کرنے سے اپنی زندگی میں معنی کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے۔ کوئی رنگ اور لکیر کے ذریعے دوسروں تک پہنچتا ہے۔ ابھی امجد صابری رخصت ہوئے اور بہت سوں کو حیرانی ہوئی کہ عقیدت کے کلمات پر آواز کی گرہ باندھنے والا پینتالیس برس کا یہ خوش رنگ پرندہ کتنے دلوں میں جگہ کئے ہوئے تھا۔ ایک خالی پارک میں بیٹھا بوڑھا انگریز شام ڈھلے گھر جانے کے لئے بینچ سے اٹھا تو بے اختیار اس کے منہ سے شیکسپیئر کا ایک مکالمہ برآمد ہوا۔ Ripeness is all ۔ اصفہان کا استاد ہوتا تو اس نے حافظ یا عرفی کا ٹکڑا پڑھ دیا ہوتا۔ دیس میں بوڑھے کسان نے حقے کی نے منہ سے ہٹاتے ہوئے وارث شاہ کا مصرعہ دہرایا ہوتا۔ تو شاعر بھی دلوں کو ہاتھ میں لیتا ہے۔ احساس کے منطقے میں سیر کے لئے تھوڑی سی جگہ بڑھا دیتا ہے۔

چاند رات کے ہنگام بیٹے کو نیا جوتا پہناتی غریب ماں درویش کے دل پر ایسی گہری تصویر نہ چھوڑتی اگر عید کی پہلی یاد نے دماغ کے کسی گوشے میں اپنا نقش نہ چھوڑا ہوتا۔ یہی تین برس کی عمر ہوگی، ابا کی انگلی پکڑے عید گاہ کی طرف بڑھنے کا ایک لمحہ دل میں کہیں ٹھہر گیا ہے۔ ابا نے ایک بازو پر نیا دھلا ہوا کھیس اٹھا رکھا تھا۔ ارادہ یہ تھا کہ عید گاہ میں صفیں ختم ہوگئیں تو اپنا کھیس بچھا کر عید کی نماز پڑھی جائے گی۔ عید کی یہ نماز اسلامیہ کالج کے میدان میں پڑھی جاتی تھی۔ دوست خواہ مخواہ عقائد کی بحث میں دلیل گھسیٹ لاتے ہیں، عقیدوں سے وابستگی تو ماں کی لوری اور باپ کی انگلی کے راستے منتقل ہوتی ہے۔ بہت برس بعد 24 دسمبر کی کرسمس سروس میں شرکت کا موقع ملا تو گرجا گھر میں بچوں کی خوشی اور ماو¿ں کی شفقت کی کیفیت وہی تھی جو چالیس برس پہلے عید گاہ کی طرف جاتے ہوئے ایک بچے نے محسوس کی تھی۔ ہمارے شہر کے اسلامیہ کالج کا نام 1947 تک خالصہ کالج تھا۔ روایت یہ تھی کہ فسادات میں کچھ لوگ خالصہ کالج کو آگ لگانے پہنچے تو قصبے کے ایک استاد عبداللہ صاحب نے تختہ سیاہ پر اسلامیہ کالج لکھ کر کالج کے گیٹ سے لٹکا دیا اور فسادیوں سے کہا کہ اب یہ اسلامیہ کالج ہوگیا ہے، اسے آگ نہ لگائی جائے۔ کئی عشرے بعد درویش اس کالج میں تعلیم پانے پہنچا تو عبداللہ صاحب پروقار بڑھاپے کی منزلوں میں تھے۔ کالج کی قدیم دیواروں کے شکوہ میں استاد محترم کی ریش مبارک کا نور جھلکتا تھا۔ عبداللہ صاحب کو گوجرانوالہ کا سرسید کہا جاتا تھا۔ علم تہذیب کی بنیاد ہے۔ ایک ان دیکھا تعلق ہے جو رفتگان کو آنے والوں سے جوڑتا ہے۔ زندگی کا چلن متعین کرتا ہے۔ خوش نصیبی تھی کہ ان آنکھوں نے عبداللہ صاحب کو دیکھ لیا۔ افتخار ملک کا دست شفقت نصیب ہوا، تطہیر کاظمی سے شعر کی تفہیم میں رہنمائی ملی۔ اور جھوٹ کیوں بولا جائے، چوہدری فضل حسین، پروفیسر جاوید اقبال، پروفیسر رفیق احمد اور بہت سے اساتذہ سے ڈانٹ بھی کھائی۔ استاد کی تادیب شفقت ہی کی ایک صورت ہوتی ہے۔

تو نصف صدی پہلے کی اس عید کی طرف واپس چلتے ہیں۔ مگر رکئے، مجھے بیدل کو یاد کر لینے دیں۔ سبک ہندی کے استاد بیدل کا بیٹا چار برس کی عمر میں مر گیا تھا، بیٹے کی یاد میں بیدل نے رباعی لکھی اور گلہ کیا کہ انگلی پکڑنے والا انگلی چھوڑ کیوں گیا ہے۔ بیدل کا اپنا دکھ تھا۔ بہت سے بیٹے اگر شعر کہ سکتے تو یہ دکھ لکھتے کہ باپ کی انگلی ہواو¿ں میں تحلیل کیوں ہو جاتی ہے۔ اور جہاں آوازیں تھیں، وہاں خاک کی اونچی نیچی ڈھیریاں کیوں نمودار ہو جاتی ہیں۔ کشمیری مہاجروں کے کیمپ کے سامنے سے گزرتے ہوئے اور برساتی پانی سے بھرے چھوٹے چھوٹے گڑھے پھلانگتے عید گاہ کے سبز میدان تک پہنچے تو دائیں ہاتھ کچھ نہایت بدنما عمارتیں تھیں، کچھ ظالموں نے کالج کی زمین پر قبضہ کر کے کارخانے بنا لئے تھے۔ ایک مٹی مٹی سی یاد یہ ہے کہ جب بھی اسلامیہ کالج کے قریب سے گزرتے تو بتایا جاتا تھا کہ کالج کی انتظامیہ نے ناجائز قبضہ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ کر رکھا ہے۔ یہ بدنما عمارتیں کھیل کے میدان میں کسی جلدی مرض کی طرح پھیلی ہوئی تھیں اور آنکھ پر گراں گزرتی تھیں۔ ہماری نسل کالج پہنچی، تعلیم پائی اور رخصت ہوگئی۔ یہ تجاوزات قائم رہیں۔ کوئی بیس برس بعد کالج کے پاس سے گزرنے کا اتفاق ہوا۔ مادر علمی کی کشش نے زور کیا، قد آدم چار دیواری تعمیر ہو چکی تھی۔ پنجوں کے بل اچک کر ایک طائرانہ نظر ڈالی، نئے تعلیمی بلاک دور دور تک پھیلے ہوئے تھے۔ دائیں طرف بد ہیئت کارخانے بدستور درسگاہ کے سینے پر مونگ دل رہے تھے۔ خیال آیا کہ یہ کسی زور آور کا مجرمانہ قبضہ نہیں، ناانصافی نے ہماری خوشی کے منطقے پر تجاوزات کھڑی کر رکھی ہیں۔ نا انصافی ہماری یاد کا حصہ بن چکی ہے اور ہمارے احساس میں ایک مستقل چبھن کی طرح کھٹکتی ہے۔ ناانصافی نے درس گاہ کی زمین ہی پر دھرنا نہیں دیا، ہمارے وجود میں اتر گئی ہے۔ ہم نے بچوں کی معصومیت اور رنگ برنگے غباروں کی خوشیوں کو گلے ملنے کی محبت سے جوڑنے کا خواب دیکھا تھا۔ شام ہو رہی ہے اور ایک دو روز میں عید ہوگی۔ ناانصافی کی دیواروں کے بارے میں کچھ سوچنا چاہئے۔ گھر، درسگاہ اور کارخانے میں خلل دور کرنا چاہئے۔ عید خوشی کا استعارہ ہے۔ خوشی کو ماو¿ں کی آنکھ ، باپ کی انگلی اور بچوں کے دل تک وسعت دینی چاہئے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔