شادیوں کی لوٹ سیل اور 15 ہزار بچوں کی پیدائش


2019 کے پہلے دن جب فیس بک پر لاگ ان کیا تو سالگرہ کے الرٹس اتنے زیادہ تھے کہ سکرول کرکے نیچے جانا پڑا اور نیچے پہنچتے پہنچتے یہ بھول گیا کہ اوپر کس کس کو جنم دن کی مبارک باد دینی ہے۔

فیس بُک پر سالگرہ کی مبارک بادیں لینے والوں کی تعداد دیکھ کر پہلے تو یکم جنوری کو ڈان میں چھپنے والی خبر آنکھوں کے سامنے گھومی، جس کے مطابق 2019 کے پہلے دن ”15 ہزار سے زائد بچے پاکستان میں پیدا ہوں گے“۔

پھر خیال آیا کہ جن فیس بُک فرینڈز نے اپنا یومِ پیدائش یکم جنوری درج کر رکھا ہے۔ ان میں اکثریت یقینی طور پر اُن دوستوں کی ہوگی۔ جن کے والدین نے نئی گاڑیوں کی طرح اپنے بچوں کی رجسٹریشن نئے سال میں کروانے کی خاطر لیٹ کروائے ہوگی۔ ویسے بھی پرانے پاکستان میں پیدا ہونے والے نوبیاہتا دلہا دلہن جو نئے پاکستان میں سال کے پہلے دن بچے پیدا کرنے کے ریکارڈ بنا رہے ہیں۔ ان کی اپنے تاریخ پیدائش کے اندراج کے لئے نا تو جنم پرچی درکار ہوتی تھی اور نا ہی ”نادرا“ کا ایسا ڈیٹا بیس ایجاد ہوا تھا۔

یکم جنوری کو چھپنے والی خبر پر اگر ”ٹیڑھی نظر“ ڈالی جائے تو انسانی آبادی میں اضافے کا حیاتیاتی اصول بتلاتا ہے کہ یکم جنوری کو پیدا ہونے والے 15 ہزار سے زائد بچوں میں سے جو بچے اپنے والدین کی پہلی اولاد ہوں گے۔ ان والدین کی اکثریت سال 2018 کی شروعات میں ہی رشتہ ازدواج میں بندھی ہو گی۔ جنہوں نے ملکی معاشی و سماجی حالات کو جھٹلاتے ہوئے نئے سال کی شروعات میں بعد از نکاح اپنی نایاب نسل آگے بڑھانے کی کوششیں شروع کردی ہوں گی۔

ربیع الاول کا بابرکت مہینہ سال کے آخری مہینوں میں آنے سے ہر سال شادیوں کا ایسا سلسلہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ جنہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ شادیوں کی لوٹ سیل لگی ہے اور دلہا دلہن اور ان کے والدین سمجھتے ہیں کہ اگر ابھی شادیاں نا کروائیں تو پھر پتہ نہیں شادیاں ہوں گی بھی یا نہیں۔ شادی ہالوں، پارکوں اور گھروں میں شامیانے اور قمقمے گرج برس کر اعلان کررہے ہوتے ہیں کہ آبادی میں اضافے کے لئے ”شادیاں کروالو شادیاں“۔

اسلامی اور انگریزی کیلنڈرز کے درمیان چھتیس کے آکڑے سے پتہ چلتا ہے کہ اگلے کچھ سالوں تک ربیع الاول کا مہینہ سال کے آخر میں ہی پڑے گا اور سال کے آخر اور شروعات میں ہونے والی شادیوں کی بمپر سیل ایسے ہی لگی رہے گی۔ جس کی وجہ سے اس سال رشتہ ازدواج میں بندھنے والے نوبیاہتا جوڑوں سے پوری امیدیں ہیں کہ وہ اگلے سال کے آخر میں یا نئے سال کی شروعات میں والدین کو اولاد نارینہ یا زرینہ سے نوازنے میں کامیاب ہو نگے اور یہ بھی امید کی جاسکتی ہے کہ اس سال تو پاکستان یکم جنوری کو 15 ہزار سے زائد بچے پیدا کرکے چوتھے نمبر پر تھا۔ لیکن اگلے سال پاکستان یکم جنوری کو بچے پیدا کرنے کی دوڑ میں چوتھے سے تیسرے نمبر پر بھی آسکتا ہے۔

سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ ایک طرف دنیا مارس پر جانے کی تیاریاں کر رہی ہیں۔ نئے پاکستان میں ہیلی کوپٹر کا سفر 50 سے 55 روپے فی کلومیٹر میں پڑرہا ہے۔ لیکن نئے پاکستان کے والدین ابھی بھی نو بیاہتا جوڑے سے خوش خبری سننے کی ویسی ہی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ جیسی امیدیں قوم نے وزیراعظم عمران خان کو 18 اگست کو شیروانی پہننا کر لگالیں کہ بس اب تو تبدیلی آئے کہ آئے۔

ہمارے ملک میں عمران خان اور ان کی کابینہ کی طرح نوبیاہتا جوڑا بھی سماجی پریشر کی وجہ سے خوش خبری دینے کی کوششوں میں تن، من اور دھن کی بازی لگا دیتا ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر اور وزیراعظم عمران خان کے آئی ایم ایف اور بیرونی دوروں کی طرح ڈاکٹروں اور حکیموں کے چکر لگاتا ہے۔ حکومت کی طرح پٹرول کی قیمتوں میں معمولی کمی کرنے کے ڈراموں کی طرح نوبیاہتا جوڑا ڈاکٹرز پر جانے اور خوش خبری کے لئے کوششیں جاری رکھنے کا عظم کرتا ہے۔ جن کی اکثریت حکومت کی طرح ”پھوکی“ خوش خبری دینے میں ناکام نہیں ہوتی۔ بلکہ سال نو کے شروع میں ہی نسل آگے بڑھا کر ایسا کارنامہ سرانجام دیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے پاکستان دنیا میں یکم جنوری کو پیدا ہونے والے بچوں کی فہرست میں چوتھے نمبر پر پہنچ چکا ہے۔

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ حکومت کے علاوہ نوبیاہتا جوڑے کو بھی اپنے وسائل کو دیکھتے ہوئے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا چاہیے۔ یہ نہیں کہ مالی وسائل نا ہوتے ہوئے سماجی پریشر میں آکر بچہ تو پیدا کر لیا۔ لیکن پھر پاکستانی حکومتوں کی طرح شش و پنج میں مبتلا ہوگئے کہ اس قوم اور نئے پیدا ہونے والے بچوں کو پالے گا کون؟ کون اس کی بنیادی ضروریات پوری کرکے اس کی اچھی پرورش کریگا؟ اس کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری کس کی ہوگی؟

اس سے بھی بڑھ کر حکومت اور نوبیاہتا جوڑوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ وسائل میں اضافہ آج کے دور میں آسانی سے ممکن نہیں۔ اس کی نسبت اگر حکومت اور نوبیاہتا جوڑے مسائل پر قابو پانے کے لئے وسائل بڑھانے کی بجائے موجودہ وسائل کے مطابق منصوبہ بندی کریں تو وہ زیادہ بہتر ہوگا۔

مثال کے طور پر اگر حکومت نئے ڈیم بنانے کی بجائے موجودہ ڈیمز اور پانی کے دستیاب وسائل کو محفوظ کرکے منصوبہ بندی کرے یعنی کہ چندہ اکٹھا کرنے کی بجائے خاندانی منصوبہ بندی پر نوبیاہتا جوڑوں اور پرانے جوڑوں کو قائل کرنے کی کوشیش کرے تو یہ ملک اور قوم کے علاوہ والدین کے لئے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔ کیونکہ عوام نئی حکومت سے اور والدین نو بیاہتا جوڑوں سے خوش خبری کی امیدیں لگانے سے باز تو آئیں گے نہیں۔ بھگتنا بعد میں حکومت اور والدین کو پڑتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں