نیا سال، ترکی اور مزید ترکی !

آمنہ مفتی - مصنفہ و کالم نگار


ہر برس کی طرح دسمبر جاتے جاتے بہت سے پیاروں کو ساتھ لے گیا۔ کئی بھیانک یادیں جو دسمبر سے پیوست ہیں، ہر برس کی طرح اس برس بھی بھوت بن کے ذہن کی غلام گردشوں میں گھومتی رہیں۔ نئے سال کے لیے نئی امیدیں اس سال بھی باندھی گئیں۔

نیا سال آیا، پچھلے سال سے بھی زیادہ سرد۔ بنیادی شہری سہولیات سے محروم شہری، اپنی بتیسیاں کٹکٹاتے، ٹھنڈ سے ٹھٹھرتے، بغلوں میں ہاتھ دیے، ناک کی پھننگی لال کیے، آنکھوں، ناک سے بہتے پانی کو کبھی پونچھتے اور کبھی سڑکتے، افق سے ابھرتی، تبدیلی کو تاک رہے ہیں۔

میں چونکہ پینڈو ہوں اس لیے شہری سہولتوں کے ہونے یا نہ ہونے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ڈبیوں والے کھیس میں جنڈ کی لکڑی کی آگ تاپتے ہوئے مجھے تمام اہلِ وطن پہ بہت ترس آتا ہے۔ خاص کر ان لوگوں پہ جو، اپنے آبائی گاؤں اور شہر چھوڑ چھوڑ کے چند بڑے شہروں میں اکٹھے ہوئے تھے۔

شہری زندگی کے نام پہ جو دھوکہ ان کے ساتھ ہوا گو اس کی ذمہ دار موجودہ حکومت تو نہیں لیکن بہر حال اس وقت، گیس اور بجلی کی کمیابی نے ہوش اڑا رکھے ہیں۔ غریب بستیوں کا حال تو خیر بہت ہی پتلا ہے۔ خاصی پوش آبادیوں میں بھی گیس دیے کی لو برابر ٹمٹماتی ہوئی آ رہی ہے۔ خواتینِ خانہ، چاول پکنے کو رکھتی ہیں اور لئی کھانے کو ملتی ہے۔

اس دوران، ہمارے ہر دل عزیز وزیرِ اعظم، ہمارے عظیم برادر دوست ترکی کے دورے پہ سدھارے۔ ترکی کے دورے پہ ان سے پچھلی حکومت کے اراکین بھی سدھارتے تھے۔ اس سے پچھلی اور اس سے پچھلی حکومت کے بھی، اور کیوں نہ سدھاریں؟ آخر ہمارے بدنامِ زمانہ ’مطالعہ پاکستان‘ میں ایک پورا باب ’خلافت موومنٹ‘ پہ ہے۔

خلافت موومنٹ کے روحِ رواں مولانا محمد علی جوہر کے نام پہ ہمارے لاہور میں یہ بڑا ٹاؤن ہے۔ اسی ٹاؤن میں وہ شوکت خانم ہسپتال ہے، جس کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کی مہم نے عمران خان کو کرکٹ کے میدان سے نکال کے سیاست اور پھر اقتدار کی بھول بھلیوں میں لا پٹخا۔

صاحبان، تاریخ کو پڑھیے اور کڑیاں ملایے، سر تو دھنئے گا ہی، بزعمِ خود بابا وانگا بھی بن جایے گا۔ نہ پاکستان، جو کہ 1914 میں ہندوستان تھا، ترکی میں خلافت کے لیے آواز اٹھاتا، نہ یہاں ترکوں کی مدد کے لیے چندہ جمع ہوتا ( جو کہ اب پاکستان ہے )،نہ ہی مولانا محمد علی جوہر اتنے بڑے ہیرو بنتے، نہ ہی ان کے نام پہ جوہر ٹاؤن بنتا نہ شوکت خانم ہسپتال کے لیے زمین ملتی اور نہ ہی عمران خان آج وزیرِ اعظم ہوتے۔

مختصر یہ کہ:

‘وقت کرتا ہے پرورش برسوں

حادثہ ایک دم نہیں ہوتا’

ترکی، عمران خان

اب ترکی سے اس قدر گہرا منطقی تعلق تو مجھ جیسے کم عقل کو بھی نظر آگیا تو بھلا ہمارے وزیراعظم کی نظر کیسے چوک جاتی۔ خان صاحب چاہتے ہیں کہ، ماضی کی شاندار روایات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، ترکی اور پاکستان نہ صرف، روایتی، امداد، امداد کا کھیل کھیلیں بلکہ ترکی سرمایہ کار بھی پاکستان کا رخ کریں۔

امید تو یہ ہی ہے کہ ترکی سرمایہ کار، اتنے کہے کو بہت جانیں گے اور خورجیوں میں روپے کھنکھناتے، گھوڑوں کے سموں سے چنگاریاں نکالتے، گرتے پڑتے، کشاں کشاں، اس سر زمینِ پاکستان کا رخ کریں گے جہاں اس وقت نہ بجلی ہے، نہ گیس ہے، نہ پانی ہے، مقامی بزنس مین سر پہ ہاتھ رکھے رو رہا ہے۔ کاشتکار خودکشی کے ایک سو ایک طریقوں پہ غور کر رہا ہے اور تنخواہ دار طبقہ سر چھپائیں تو بدن کھلتا ہے کی تفسیر بنا ہوا ہے۔

جنڈ کی آگ کا سینک عجیب خمار آلودہ سا ہوتا ہے۔ ذہن میں عجیب عجیب شبیہیں رقص کر رہی ہیں۔ اچھے اچھے خیال آرہے ہیں۔ ہمارا پیسہ ہی منحوس اور سرمایہ کار ہی جنم جلے ہیں۔ اب دیکھیے گا ترکی اور چینی اور ملائیشین سرمایہ کار آ کر اس ملک کو جنت بنا دیں گے اور ایک دن آپ سب بھی میری طرح جنڈ کے مچ پہ ہاتھ تاپتے چین ہی چین لکھیں گے اور آپ کی قمیض کا دامن بھی چھلنی ہو گا۔ اس دن تک صبر کیجیے آپ نے گھبرانا نہیں ہے!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6795 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp