سعودی عرب میں خودکش حملہ پاکستانی شہری نے کیا: سعودی وزارت داخلہ


\"gulzar-khan2\"

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پیر کے روز جدہ میں امریکی قونصل خانے کو نشانہ بنانے کی کوشش میں ہلاک ہونے والا خودکش بمبار عبداللہ گلزار خان پاکستانی شہری نکلا اور جدہ میں گزشتہ بارہ سال سے والدین اور بیوی بچوں سمیت رہائش پذیر تھا۔

اس سے قبل سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے بتایا تھا کہ جدہ خودکش بمبار کا تعلق سعودی عرب سے نہیں بلکہ وہ مملکت میں مقیم غیر ملکی ہے، تاہم اس کی شہریت اور نام کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ ترجمان کے مطابق خودکش بمبار کی جیکٹ مکمل طور پر پھٹ نہیں سکی تھی جس کی وجہ سے اس کی شناخت کرنے میں آسانی ہوئی۔

سرکاری ٹی وی نے نے سیکیورٹی ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ حملہ آور نے قونصل خانے کے بالمقابل ہسپتال میں اپنی گاڑی سحری کے وقت سوا دو بجے پارک کی اور جونہی دو سیکیورٹی اہلکار اسے مشتبہ جان کر اس کے قریب آئے تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں وہ خود ہلاک ہو گیا جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں کو معمولی زخم آئے۔

عینی شاہدین نے خبر رساں ایجنسی \’رائیٹرز\’ کو بتایا کہ خودکش دھماکے کی جگہ پر بعد تین مزید دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں جو پولیس کی جانب سے جائے حادثہ پر مشکوک مواد کو ناکارہ بنانے کے لئے پولیس کارروائی معلوم ہوتی ہے۔

جائے حادثہ پر موجود عینی شاہدین کی جانب سے ارسال کردہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے دھماکے سے پہلے گاڑیوں کی اوٹ لیکر اپنے کانوں کو ڈھانپ لیا تھا کہ دھماکے کی آواز سے محفوظ رہ سکیں۔ مزید تفصیل حاصل کرنے کے لئے \’رائیٹرز\’ فوری طور پر حکام سے رابطہ نہیں کر سکی۔ آن لائن نیوز پورٹل \’سبق\’ پر دیکھی جانے والی تصویر میں ایک ٹیکسی کے قریب پڑے انسانی اعضاء خودکش بمبار کے معلوم ہوتے ہیں۔

سرکاری ٹی وی پر جاری بیان میں جائے حادثہ کا ذکر براہ راست سفارتی مشن کے طور پر کرنے کے بجائے اس کا محل وقوع گلی کے پتے پر کیا گیا جو متوقع ٹارگٹ کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش معلوم ہوتا ہے۔

بشکریہ العربیہ، سعودی عرب


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔