کتا کاٹ رہا ہے


\"fakhraبرسوں پہلے ایک مختصر کہانی پڑھی تھی۔ بھوں بھوں بھوں۔۔۔ کتا پچھلی سے پچھلی گلی میں بھونک رہا ہے۔۔۔ تم سو جاﺅ، کتا ابھی بہت پیچھے ہے۔ بھوں بھوں، بھوں۔۔۔ کتا اب پچھلی گلی میں بھونک رہا ہے۔۔۔ سو جاﺅ یہ پچھلی گلی والوں کا مسئلہ ہے۔۔۔ بھوں بھوں بھوں۔۔۔ کتا اب ہماری گلی میں بھونک رہا ہے۔۔۔ اٹھ جاﺅ اب کہیں سے کوئی نہیں آئے گا۔

دہشت گردی اور انتہا پسندی کی زد پر دھرا عالم اسلام اور عربوں کی بے حسی دونوں عروج پر رہی ہیں۔ جس زمانے میں مسلمان خاص طور پر پاکستان کے مسلمان دہشت گردی کے خلاف صبر آزما جنگ میں لازوال قربانیاں دے رہے تھے، ایک عجیب سے خوف و ہراس کا شکار تھے۔ صبح گھر سے نکلنے والے پیچھے رہ جانے والوں کو الوداع کہ کر نکلتے تھے کہ جانے واپس آنا نصیب ہو کہ نہیں۔ اور پیچھے رہ جانے والوں کے دل ہولتے رہتے کہ جانے یہ آخری ملاقات ہے یا جانے والا خیریت سے پلٹے گا۔ مسجدیں، سکول، بازار، مدرسے، میلاد، سیرت کانفرنسیں، سیاسی جلسے، انتخابی مہمات، اور یہاں تک کہ جنازے بھی محفوظ نہ تھے۔ لوگ ایک کا جنازہ پڑھنے جاتے تو خود چیتھڑوں میں بٹ جاتے ۔ ہر شخص کتنے عدم تحفظ کا شکار تھا، معاشرتی طور پر کیسی بے اعتمادی اور خوف کی فضا تھی۔ کہ جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کر، شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے۔ حالات یہاں تک جا پہنچے کہ کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت خوف اور دہشت کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی علامت بھی بن گئے۔ پاکستانی قوم نے کتنے سپوت بم دھماکوں اور خود کش حملوں میں مرنے والوں کی صورت بھی گنوائے اور مارنے والوں کی صورت بھی۔ میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں۔ کہ سارے لوگ ہی تو اپنے تھے۔ ہر باشعور آدمی دہشت گردی کے خلاف بولنے یا لکھنے میں مصروف رہا۔ خود کش حملوں میں مرنے والے شہید قرار پائے اور کبھی جاں بحق۔ خود کش حملہ کرنے والوں کو ہم سب دل ہی دل میں ٹھیک سمجھتے رہے اور کہیں نہ کہیں ان کے کاز کو درست مان کر ان کی حمایت کرتے رہے۔ کچھ سال پہلے جب ہم ذرا چھوٹے تھے اکثر سوچا کئے کہ سعودی عرب چاہے تو یہ دھماکے رک کیوں نہیں سکتے۔ امام اعظم کو شاید خبر نہیں ہو سکی کہ یہاں اسلام کے نام پر کیا کیا کھیل کھیلے جا رہے ہیں۔ لیکن تھوڑے بڑے ہوئے تو بہت سارے بتوں کی طرح جو ایک بڑا بت ٹوٹا وہ یہی سعودی عرب کا تھا۔

دنیا بھر کے مسلمانوں کے انتشار، خونریزی اور منتشر الخیالی کا ایک علاج تھا کہ امام اعظم اپنی مذہبی عظمت اور اہمیت کا فائدہ اٹھاتے کبھی کھل کھلا کر کوئی فتوی نہیں تو مذمت ہی کر دیتے۔ چپ کا جو روزہ وہ رکھ کر گونگے کا گڑ کھائے بیٹھے تھے اسے ہی توڑ دیتے۔ مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔ عبرت ناک صورت حال یہ تھی کہ اسلامی سربراہی کانفرنس میں آنے والے معمر قذافی اور شاہ فیصل کو لوگوں نے حصول ثواب کی خاطر دیکھا، زیارت کی لیکن امام اعظم پاکستان میں قیام فرما کر چلے بھی گئے لیکن ایسی مقتدر ہستی کی آمد پر نہ تو پاکستانی قوم دیوانہ وار امڈ آئی نہ ان کے رخ انور کی زیارت کسی نے باعث ثواب سمجھی۔ یمن کے ساتھ تنازع پر پاکستانی افواج بھیجنے سے انکار اس بات کی دلیل تھا کہ بہر حال پاکستانی معاشرے کو سعودی عرب کی چیرہ دستیوں اور منفی کردار سے کافی حد تک آگہی ہے۔ مکہ مدینہ ہر مسلمان کی آنکھوں کا نور اس کے دل کا سرور ہیں۔ اس علاقے کا نام ہی راحت جاں ہے لیکن یہ کیا ہوا کہ ناداں عربوں نے خود ہی اس عقیدت کے غلاف میں لپٹا اپنا وجود عریاں کر دیا۔

پاکستان کو تو سولہ دسمبر دو ہزار چودہ نے جگا دیا۔ معصوم جانوں کی قربانی نے قوم کو ایک صفحے پر لا کھڑا کیا۔ ہم نے سوچ لیا کہ ہمیں اس دہشت گردی کی جنگ میں کیا قیمت ادا کرنی ہے اور کیا نہیں۔ اللہ نے چاہا تو ہم اس واقعے کو دوہرانے سے گریز کریں گے۔ ہم نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے۔ سعودی عرب کے شہروں میں رمضان کے آخری دنوں میں ہونے والے خودکش حملوں نے دل دکھی کر دیا کہ ہمارے لئے وہ خاک حرمت والی ہے جہاں ہمارے آقاﷺ کے قدم پڑے، وہ ہوائیں ہمیں مشک و عنبر سے بھی معطر لگتی ہیں جہاں ان کی سانسیں مہکتی رہیں۔ لیکن سعودی حکومت اپنا بویا کاٹ رہی ہے۔ یہ آگ اب صرف کراچی لاہور کوئٹہ یا وزیرستان کو نہیں خود سعودیہ کے دامن کو بھی جلا رہی ہے۔ نہ جانے امام اعظم کی چپ کا کیا حال ہوتا ہے، کس رنگ میں ان کا ردعمل ظاہر ہوتا ہے۔ وہ خود کش حملوں کو اس وقت کا گناہ کبیرہ بتاتے ہیں کہ نہیں۔

برسوں پہلے ایک مختصر کہانی پڑھی تھی۔ بھوں بھوں بھوں۔۔۔ کتا پچھلی سے پچھلی گلی میں بھونک رہا ہے۔۔۔ تم سو جاﺅ کتا ابھی بہت پیچھے ہے۔ بھوں ۔ بھوں، بھوں۔۔۔ کتا اب پچھلی گلی میں بھونک رہا ہے۔۔۔ ۔ سو جاﺅ یہ پچھلی گلی والوں کا مسئلہ ہے۔۔۔ ۔ بھوں بھوں بھوں۔۔۔ ۔ کتا اب ہماری گلی میں بھونک رہا ہے۔۔۔ اٹھ جاﺅ اب کہیں سے کوئی نہیں آئے گا۔

پتہ نہیں سعودی عرب میں یہ کہانی کسی نے پڑھی کہ نہیں ۔ کتا ادھر بھونک ہی نہیں، کاٹ بھی رہا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔