نو حیران کن چیزیں جو چاندی سے بھی مہنگی ہیں


ونیلا

Getty Images
ونیلا جو آئس کریم کے ذائقے کو دوبالا کر دیتا ہے

اگلی بار جب آپ چمچ بھر بھر کے مزیدار دہی یا آئس کریم کھا رہے ہوں تو لمحے بھر کے لیے رک کر کھانے میں پڑے چھوٹے کالے ذرات پر دھیان دیجیے گا۔

دنیا کے گرم نشیبی علاقوں میں اگنے والے یہ چھوٹے دانے دراصل ونیلا کی تین قسم کی سوکھی ہوئی پھلیوں کے بیج ہیں۔ یہ بیج کیک، کسٹرڈ، چاکلیٹ اور دیگر میٹھے پکوانوں میں شیرینی گھولتے ہیں۔ یہ وزن کے اعتبار سے ہلکے مگر قیمت کے اعتبار سے چاندی سے بھی مہنگے ہوتے ہیں۔

جی آپ نے بالکل درست پڑھا ہے۔ ڈوڈوں سے حاصل کیا جانے والا یہ مصالحہ دکھنے میں سوکھے ہوئے کینچووں کی مانند ہوتا ہے مگر چاندی زیادہ قیمتی ہے جو ایک زمانے میں قزاقوں کے لیے اہمیت رکھتی تھی مگر اب اس کا استعمال زیورات، الیکٹرونکس اور طبی آلات میں ہوتا ہے۔

ونیلا

مڈغاسکر میں دنیا کا تین چوتھائی ونیلا اگتا ہے، لیکن 2017 میں آنے والے طوفان کی تباہ کاریوں کی وجہ سے اس کی فصلیں برباد ہو گئیں اور ونیلا کی قیمت 600 پاؤنڈ فی کلوگرام کی ریکارڈ سطح پر جا پہنچی۔ اس کے برعکس چاندی کی فی کلو قیمت 538 ڈالر فی کلوگرام ہے۔

ونیلا کی قیمت اس لیے زیادہ ہے کہ مانگ زیادہ ہے جس کی وجہ سے کچھ آئس کریم بنانے والوں نے پیداوار میں کمی اور کچھ نے تو اس ذائقے کی آئس کریم بنانا ہی بند کر دیا ہے۔ خدشہ ہے کہ اس وجہ سے گرمیوں میں ونیلا فلیور آئس کریم کی قلت ہو جائے گی۔

لیکن ونیلا روزمرہ استعمال میں آنے والی وہ واحد چیز نہیں ہے جس کی فی گرام قیمت چاندی سے زیادہ ہے۔ دیگر مندرجہ ذیل غیر متوقع اشیا چاندی جیسی قیمتی دھات سے زیادہ بیش قیمت ہیں۔

زعفران

Getty Images
زعفران کا چننا مشقت طلب کام ہے

زعفران

دنیا کے سب سے زیادہ مہنگے مصالے کے پھول میں موجود چھ نازک تاروں کو ہاتھ سے توڑا جاتا ہے۔

باورچیوں کے دل میں خاص جگہ رکھنے والی ان سنہرے رنگ کی نازک تاروں کا ایک کلو حاصل کرنے کے لیے ڈیڑھ لاکھ پھول چننا پڑتے ہیں۔ پھول چننے والوں کی گھنٹوں کی انتھک محنت اور زعفران کو سُکھانے اور تخمیر کرنے کی وجہ سے اس کی قیمت اوپر چلی جاتی ہے۔

زعفران کے بارے میں مزید

سونے کے ورق والی نو ہزار روپے کلو مٹھائی

زعفران: یونان کا ’سرخ سونا‘ تصاویر میں

دکانوں پر بکنے والا زعفران مختلف علاقوں سے لایا جاتا ہے اور اس کے ایک گرام کی قیمت پانچ ڈالر سے لے کر 25 ڈالر کے درمیان ہوتی ہے۔ کچھ تخمینوں کے مطابق منڈی میں زعفران کی قیمت دو ہزار ڈالر سے لے کر 15 ہزار ڈالر فی کلوگرام کے درمیان ہے۔

مصالحوں کے ماہر اور آئرش مصالوں کو درآمد کرنے والی کمپنی کے بانی ارون کپل کہتے ہیں: ‘زعفران کو بہت احتیاط سے کاشت کرنا پرتا ہے۔ یہ ایک محنت طلب کام ہے جسے ہاتھ سے کرنا پرتا ہے۔’ انھوں نے مزید کہا ‘میرے ذہن میں زعفران جس بھی چیز میں پڑتا ہے اسے سونے کا بنا دیتا ہے۔’

متعدد طبی شواہد اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ زعفران ڈپریشن ختم کرنے، آنکھوں کے پردے کی حفاظت کرنے اور موٹاپے سے نمٹنے میں مدد دے سکتا ہے۔

زعفران کی اونچی قیمت کی وجہ سے یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ کچھ لوگ زعفرانی پھول کی سنہری نازک ڈوروں کی نقل کرتے ہوئے ریشم کے دھاگوں، چقندر کے ریشوں یا پھولوں کے مختلف حصوں کو رنگ دیتے ہیں اور لوگوں کو نقلی زعفران بیچتے ہیں۔

انسانی خون

ہمارے جسم میں نو سے 12 گلاس خون دوڑ رہا ہے۔ تین سے چار گلاس خون کھو دینا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے ظاہر ہے کہ خون قیمتی ہے۔ لیکن اگر ہم کسی اور کا خون خریدنا چاہیں تو؟

ایک گلاس سے کچھ زیادہ انسانی خون کی قیمت 375 ڈالر تک ہو سکتی ہے لیکن قیمت کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کس ملک سے خون خرید رہے ہیں۔ ایک کلو خون کی قیمت 833 ڈالر فی کلو ہے جو چاندی کی قیمت سے 54 فیصد زیادہ ہے۔

اگر آپ مخصوص قسم کے خلیوں والا خون خرید رہے ہیں تو وہ کم قیمت پر بھی مل سکتا ہے۔ برطانیہ میں لال خلیوں والا خون 167 ڈالر فی یونٹ پر فروخت ہوتا ہے۔ لیکن جما کر ذخیرہ کیا گیا خون جسے پگھلا کر صاف کیا ہو، اس کی فی یونٹ قیمت 1080 ڈالر تک جا پہنچتی ہے جو چاندی کی فی کلوگرام قیمت سے ساڑھے چار گنا مہنگا ہے۔

خون کا عطیہ کرنے والے لوگوں کی کمی اور مریض کو خون لگنے سے پہلے کیے جانے والے بے تحاشا ٹیسٹوں کی وجہ سے خون کی قیمت کافی بڑھ گئی ہے۔

لیکن جن لوگوں کی زندگیاں نیا خون لگنے کی وجہ سے بچ گئی ہیں ان کے لیے شاید یہ قیمت کچھ زیادہ نہیں ہے۔

این ایچ ایس بلڈ اور ٹرانسپلانٹ میں کنسلٹنٹ ہیماٹالوجسٹ کے عہدے پر فائز پروفیسر ڈیوڈ رابرٹس کا کہنا ہے: ‘خون کی اصل قیمت مریضوں کے زندگیوں بچانے کی وجہ سے ہے۔’ انھوں نے مزید کہا کہ ‘یہ صرف حادثات اور ہنگامی حالات کے لیے اہم نہیں ہے۔ کبھی کبھار ہم خون اس لیے لگاتے ہیں کہ مرنے سے پہلے مریض اپنے پیاروں کو خدا حافظ کہہ سکے۔

اس کا کوئی مول نہیں ہے۔’

کافی

اگر کسی نے حال ہی میں لندن سے لاٹے یا نیویارک سے امیریکانو کافی خریدی ہے تو ان کو معلوم ہو گا کہ کافی حیرت انگیز حد تک مہنگی ہو سکتی ہے۔ کبھی کبھار چار ڈالر کی سستی کافی کا کپ پینے کے قابل نہیں لگتا۔

لیکن تمام طرح کی کافی ایک جیسی نہیں ہوتی۔ کچھ قسمیں وزن کے اعتبار سے چاندی سے مہنگی ہوتی ہیں۔ انڈونیشیا میں ایشیائی پام سویت چیری کھانے والی بلیوں کے پاخانے کو اکٹھا کر کے بنائی جانے والی کافی کوپی لوواک اور سویت کے نام سے جانے جاتی ہے۔ یہ ہضم نہ ہونے والی پھلیاں جانورکے انتڑیوں سے گزر کر خمیر ہو جاتی ہیں۔ بھننے اور قہوے کی شکل اختیار کرنے کے بعد ان بیجوں کا ذائقہ نایاب اور میٹھا ہو جاتا ہے۔ اس کافی کی قیمت لگ بھگ 660 ڈالر فی کلوگرام کے قریب ہوتی ہے۔

جانوروں کے حقوق کی مہم جوئی کرنے والوں نے اس کافی کی مانگ پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔ مغربی مارکیٹوں میں اس کافی کو متعارف کرانے والے ٹونی وائیلڈ نے بھی سویت بلیوں کے غیر قانونی شکار اور بے ایمان کسانوں کی طرف سے کوپی لواک کو مہنگے داموں بیچنے کے لیے بلیوں کو برے حالات میں رکھے جانے پر اس کافی کی تجارت روکنے کے لیے پٹیشن دائر کی۔

عجیب بات یہ ہے کہ چند کافی ماہرین کا کہنا ہے کہ بلند قیمت کے باوجود کوپی لواک کا ذائقہ عام کافی کے ایک اچھے کپ سے بہتر نہیں ہے۔

اس کی غیرمعمولی قیمت کے باوجود بھی یہ دنیا کی سب سے مہنگی کافی نہیں ہے۔ یہ اعزاز تھائی لینڈ کی بلیک آئیوری کافی کو جاتا ہے جسے ایشیائی ہاتھیوں کے معدوں سے گزارا جاتا ہے۔ یہ کوپی لواک سے فی کلوگرام 1800 ڈالر زیادہ مہنگی ہے۔

چائے کے شوقین جیب ہلکا کرنے والی چائے سے بھی لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ ڈا ہونگ پائو ایک گہری اولونگ چائے ہے جسے چین کے فیوجیان صوبے کے ووئی پہاڑوں کی پتھریلی زمین میں اُگایا جاتا ہے۔

2002 میں 20 گرام ڈا ہونگ پائو چائے کی پتی کو 28250 ڈالر کے عِوض بیچا گیا، اس کا مطلب ہے کہ ایک کلوگرام پتی کی قیمت 14 لاکھ ڈالر کے لگ بھگ ہے جو 41500 ڈالر فی کلوگرام کے حساب سے بکنے والے سونے سے 33 گنا زیادہ ہے۔

2005 میں آخری بار اس چائے کی فصل کاٹی گئی جس کی وجہ سے ذخیرہ اندوزوں کی جانب سے ذخیرہ کی گئی اصلی ڈا ہونگ پاؤ کی قیمت اب بڑھتی چلی جائے گی۔

ویاگرا

Getty Images

وایاگرا

پرانی کہاوت ہے کہ پیسہ محبت نہیں خرید سکتا لیکن یہ خوشی کے چند لمحات ضرور دلا سکتا ہے۔ خاص طور پر اگر آپ اس پیسے کا استعمال نیلے رنگ کی ایک مخصوص گولی خریدنے کے لیے کر رہے ہیں۔

1989 میں فائزر نامی دوا ساز کمپنی کے سائنس دانوں نے بلڈپریشر اور اینجائنا کا علاج کرنے کے لیے وایاگرا بنائی لیکن ٹیسٹنگ کے دوران انھوں نے اس کے عجیب منفی اثرات دیکھے۔ نو سال بعد اس دوا کو مردوں میں ایریکٹائیل ڈس فنکشن کا علاج کرنے کے لیے لائسنس دیا گیا، اور اس کے بعد جو ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ صرف 2012 میں اس ننھی سی گولی نے فائزر کمپنی کی آمدن میں دو ارب ڈالر کا اضافہ کیا۔

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس سال کے شروع میں فائزر کمپنی نے اعلان کیا کہ وہ امریکہ میں وایاگرا کی قیمت میں 39 فیصد اضافہ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اس کی قیمت 57.94 ڈالر سے بڑھ کر 80.82 ڈالر ہو گئی۔

کمپنی نے اب اس دوا کی سستی جنیرک گولیاں بنانا شروع کر دی ہیں تاہم ان کا رنگ نیلا نہیں بلکہ سفید ہے۔ اس کے ساتھ ہی باقی کمپنیوں کو بھی وایاگرا جیسی ادویات بنانے دینے کے لیے معاہدے پر دستخط کیے گئے، لیکن کمپنی ابھی بھی ان گاہکوں کی وجہ سے پیسے بنا رہی ہے جنھیں اصلی نیلی گولی چاہیے۔

ظاہر ہے کہ وایاگرا مارکیٹ کی سب سے مہنگی گولی نہیں ہے۔ بعض شاد و نادر لاحق ہونے والے جینیاتی امراض کے مہینے بھر کے علاج پر ہزاروں ڈالر خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ ٹوکسوپلازموسس کی وجہ بننے والے پیراسائیٹ کے علاج کے لیے درکار ایک گولی کی قیمت 750 ڈالر ہے۔ (لیکن گولی کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے لوگوں نے برہمی کا اظہار کیا)

ادویات بنانے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ قیمت میں اضافے کی وجہ تحقیق، شعبے میں ترقی اور مارکیٹ میں آنے سے پہلے ادویات کی ٹیسٹنگ پر کی گئی بھاری سرمایہ کاری ہے۔

چھالوں پر لگائی جانے والی کریم

نسخے پر خریدی جانے والی ادویات کی قیمت تو ذیادہ ہوتی ہی ہے مگر چند نسخے کے بغیر خریدی جانے والی بعض ادویات بھی خاصی مہنگی ہیں۔

امریکہ کی ٹیکسس یونیورسٹی کے ماہرینِ جلد کی جانب سے شائع کیے گئے مضمون میں جلد پر استعمال ہونے والی ادویات کی بڑھتی قیمتوں پر روشنائی ڈالی گئی ہے۔ انھوں نے ان ادویات کی قیمت کا موازنہ آئی فون اور سونے جیسی مہنگی چیزوں سے کیا اور کچھ غیر متوقع نتائج مرتب کیے۔

منہ کے چھالوں کے لیے استعمال کی جانے والی زوویریکس کریم ہرپیس سمپلیکں وائرس کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ برطانیہ میں دو گرام ٹیوب کی قیمت 6.75 ڈالر ہے جس کا مطلب ہے کہ فی کلوگرام زوویراکس کی قیمت 3375 ڈالر ہے۔

ٹیکسس یونیورسٹی کے ماہرین نے معلوم کیا امریکہ میں صحت کے انشورنس سسٹم میں بےضابطگیوں کی وجہ سے ادویات کی قیمت بڑھ گئی ہیں۔ 2007 میں مریضوں کو دی جانی والی زوویریکس کی فی گرام قیمت 22 ڈالر تھی جو 2015 میں 168 ڈالر فی گرام ہو گئی۔ امریکہ میں ایک کلوگرام زوویریکس کی قیمت 168000 ڈالر ہے جو سونے کی قیمت سے چار گنا زیادہ ہے۔

اب اس دوا کی قیمت گر کر 48 ہزار ڈالر فی کلو گرام ہو گئی ہے۔ مختلف برانڈز کی جانب سے ملتی جلتی دوا اب کم قیمت میں دستیاب ہے لیکن ایک مخالف برانڈ کی جانب سے بنائی جانے والی زیریز نامی دوا قیمت میں زوویراکس سے بھی زیادہ ہے۔ ماہرین کے بقول 2015 میں اس کی فی کلوگرام قیمت 248000 ڈالر تھی۔

ٹیکسیس یونیورسٹی کی ڈینا ڈائیون اور ان کی رفیق کار نے مضمون میں لکھا ہے کہ ہلکے پھلکے انفیکشن کا علاج کرنے والی ادویات ‘معاشرے میں قیمتی سمجھنی جانے والی چیزوں سے زیادہ اہمیت کی حامل ہیں۔’

کریم

Getty Images
بعض کریمیں چاندی سے چار سو گنا زیادہ مہنگی ہیں

منہ پر لگائی جانے والی کریمیں

خوبصورتی ایک بڑا کاروبار ہے۔ عالمی سطح پرایک سال میں کاسمیٹکس مارکیٹ کی قدر 532 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ خریدار ان چھوٹی ڈبیوں میں موجود کریموں، موائسچرائزر، کاسمیٹکس اور بالوں میں لگانے والے مصنوعات سے ڈھلتی عمر کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ مصنوعات جیب پر بھاری پڑتی ہیں تو کچھ خریداروں کو کنگلا کر کے چھوڑتی ہیں۔

مثال کے طور پر کریم ڈے لا مر کو لیجیے۔ اس کی ایک 30 ملی لیٹر کی ڈبیا کی قیمت 162 ڈالر ہے جبکہ 500 ملی لیٹر والی ڈبیا کی قیمت 2057 ڈالر ہے۔ یہ کریم سمندری کائی کے خمیرشدہ شوربے سے بنتی ہے لیکن اس موائسچرائزر کو بنانے کا اصل فارمولا صیغۂ راز میں ہے۔

اگرچہ اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ غذائیت سے بھرپور اس کریم کا کتنا حجم ایک کلوگرام کے برابر ہے لیکن پیکنگ کو نکال کر کل وزن 450 گرام ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ چاندی سے چھ گنامہنگی ہے۔

لیکن اس مشہور کریم کی ریوائیو نامی موائسچرائزر کے مقابلے میں قیمت کافی کم ہے۔

انٹینسائیٹ کریم لسٹر کے 48 گرام کی قیمت 385 ڈالر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ایک کلوگرام کی قیمت 7988 ڈالر ہے۔

حسن افزا کریمیں

Getty Images

ریوائو برانڈ کا کہنا ہے کہ ‘قیمت زیادہ ہونے کی وجہ اعلیٰ درجے کی ٹیکنالوجی اور وسیع پیمانے پر سائنسی تحقیق ہے۔’

پرنٹر کی روشنائی

وقت آ گیا ہے کہ آپ اپنے کمپیوٹر کے ساتھ پڑے اِنک جیٹ پرنٹر کے جانے والے استعمال کے بارے میں سوچیں۔ پرنٹر تو سستے داموں پر دستیاب ہوتے ہیں لیکن کمپنی والے اصل پیسہ پرنٹر میں استعمال ہونے والی روشنائی سے بناتے ہیں۔

پرنٹر کی روشنائی کے متبادل ڈبوں کی قیمت آٹھ ڈالر سے لے کر 27 ڈالر کے درمیان ہوتی ہے لیکن اس کا انحصار پرنٹر کی قسم پر ہوتا ہے۔کسی بڑے برانڈ کے کالی روشنائی والے ڈبے کی چار ملی لیٹر کی قیمت 23 ڈالر ہے اور اس سے 200 صفحے پرنٹ کیے جا سکتے ہیں۔

کمپنیوں کا کہنا ہے روشنائی پر ہونے والی ریسرچ کی وجہ سے انھیں اسے مہنگے داموں بیچنا پڑتا ہے کیونکہ پرنٹر کو سستا بیچ کر انھیں گھاٹا ہوتا ہے۔ لیکن اگر آپ ایک روشنائی کے کارٹرج کو کھولیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ ساری جگہ تو اندر نصب کیے گئے سفنج نے لے لی ہے۔ اس کا مقصد روشنائی کو محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔

اگر آپ 1733 ڈالر فی کلوگرام روشنائی کے لیے ادا کر رہے ہیں تو اس سے بہتر ہے آپ چاندی سے ہی پرنٹ کر لیں!

تریاق

Getty Images
سانپ کے زہر کا توڑ سانپ کے زہر ہی سے بنتا ہے

زہر کا تریاق

اگر آپ کو کبھی کسی سانپ یا بچھو نے کاٹا ہے تو آپ کو پتا ہو گا کہ ہسپتال جاتے ہوئے آپ کی جان بچانے والے تریاق کی قیمت سوچ کر آپ کو بالکل فرق نہیں پڑے گا۔

لیکن تریاق شاید دنیا کا سب سے مہنگا سیال ہے۔ امریکہ کے کچھ حصوں میں ایک شیشی کی قیمت 7900 ڈالر سے لے کر 39 ہزار ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ اب تک پِٹ وائپر نامی سانپ کے زہر کا علاج کرنے کے لیے تریاق کی شیشی کی قیمت 57 ہزار ڈالر تھی۔

ایک شیشی میں دس ملی لیٹر تریاق ہوتا ہے۔ اسے حاصل کرنا مشکل اور خطرناک ہوتا ہے کیونکہ اس کے لیے سانپوں اور بچھووں کا زہر نکال کر اسے بھیڑ یا گھوڑے کے جسم میں داخل کیا جاتا ہے، جب بھیڑ یا گھوڑے کا جسم اینٹی باڈیز بناتا ہے، تو اسے نکال کر ان سے تریاق تیار کیا جاتا ہے۔

تریاق کی مانگ کافی کم ہے۔ امریکہ میں سالانہ سات ہزار سے لے کر آٹھ ہزار لوگ سانپوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ البتہ دنیا کے دوسرے حصوں جیسے افریقہ اور جنوبی امریکہ میں شکار بننے والے افراد کی تعداد خاصی زیادہ ہے۔

نئے تریاق بنانے میں مدد کرنے والی ایریزونا یونیورسٹی کے وائیپر انسٹیٹیوٹ کی ڈائریکٹر لیزلی بویر کے تجزیے کے مطابق ان تمام پہلوؤں کے باوجود بھی تریاق کی قیمت اتنی زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔

انھوں نے معلوم کیا کہ امریکہ میں 14 ہزار ڈالر کے عِوض بکنے والی شیشی کی اصل قیمت 14 ڈالر ہے جو کُل قیمت کا 0.1 فیصد ہے۔ تجربات، وکلا کی فیس، لائسنس اور انتظامی فیس دوا کی قیمت میں اضافہ کرتی ہیں لیکن بوئیر کا کہنا ہے کہ قیمت کا بڑا حصہ ہسپتالوں کی طرف سے ڈالے گئے اضافی چارجز ہیں جس کی وجہ امریکی نظامِ صحت کے فنانس سسٹم میں بے قاعدگی ہے۔

بویئر کی تحقیق کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اگر مان لیا جائے کہ ایک تریاق کی شیشی 14 ہزار ڈالر کی ہے اور سیرم کا وزن پانی جتنا ہے تو یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ تریاق کے ایک کلوگرام کی قیمت 14 لاکھ ڈالر ہے جو چاندی کی قیمت سے 2600 گنا زیادہ ہے۔

کچھ تشویشناک کیسوں میں سانپ کے کاٹنے پر مریض کا علاج کرنے کے لیے تریاق کی چند شیشیوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے البتہ زہریلے جانوروں سے بھرے علاقوں میں احتیاط علاج سے زیادہ بہتر ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6819 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp