ٹی وی چینلز کی رمضان نشریات اور مفتیان دین


\"anwarمفتیان دین و رہبران ملک و ملت کو ٹی وی چینلز کی رمضان ٹرانسمشنز میں اسلام دشمن مواد نظر آگیا ہے۔ بلکہ انہوں نے ان نشریات کو سرکس، کھیل کود اور تفریح سے تعبیر کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ یہ نشریات سادہ لوح مسلمانوں خصوصاََ نوجوان نسل کو اسلام سے بھٹکانے کا موجب بن رہی ہیں۔ نجی چینلز وہ کام کر رہے ہیں جو سرحد پار سے ہندو بنیا بھی نہیں کر رہا، نئی نسل کے لیے یہی ٹی وی شوز، کھیل کود اور اخلاق باختہ حرکتیں معتبر ہو رہی ہیں اور ایسا نہ ہو کہ نوجوان مسجد و محراب سے دور ہوجائیں اور ایسے اسلام کی طرف چل پڑیں جو آج کل ٹی وی چینلز کی رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر پھیلایا جا رہا ہے۔ \”یہ اسلام نہیں بلکہ اسلام دشمنی ہے۔\” ان مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس مسئلہ پر ہمیں آنکھیں کھولنے کی اشد ضرورت ہے، ان رہنماؤں نے عندیہ دیا ہے کہ عید کے بعد ان پروگرامز کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔ ٹی وی چینلز کی رمضان ٹرانسمشن کو کھیل کود، سرکس اور تفریح قرار دینے والے رہنماؤں میں تنظیم اسلامی کے امیر حافظ عاکف سعید، جماعت اسلامی کے مرکزی جنرل سکریٹری لیاقت بلوچ، حسیب قادری، پیر مختار سمیت دیگر شامل ہیں۔ سیاسی و مذہبی رہنمائوں کے دعوے کے مطابق ٹی وی شوز سحر وافطار کے اوقات میں، جو دعاؤں کی قبولیت کے اوقات ہیں، میں تماشہ گروں کے ذریعے لوگوں کو ڈانس کی تربیت دے رہے ہیں یہ وہ کارنامہ ہے جسے ان اوقات میں سرانجام دینے سے شیطان بھی قاصر ہے مفتیان دین، مذہبی سکالرز نے ان ٹی وی شوز کی کمائی کو بھی حرام سے تعبیر کیا ہے۔

میرے ایک پیارے اور انتہائی لاڈلے دوست نے مفتیان دین و سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کے ان خیالات پر بات کرتے ہوئے خوبصورت تبصرہ کیا ہے۔ کہتا ہے کہ دین کے ان ہمدردوں کو ٹی وی نشریات اس وقت دکھائی دی ہیں جب ماہ مقدس کے اختتام میں چند ایام باقی رہ گئے ہیں۔ اس کا استدلال یہ ہے کہ پورا مہینہ ٹی وی دیکھنے پر پابندی عائد تھی؟ اب جب ان رہنمائوں کے اعتکاف بیٹھنے کا وقت ہے تو انہیں ٹی وی پروگرام یاد آگئے ہیں۔ اس نے سوال کیا ہے کہ پورا مہینہ یہ مفتیان دین اور سیاسی و مذہبی پیشوا کہاں غائب تھے؟ میرے پیارے دوست نے سب سے زیادہ غصہ ایک پیر صاحب پر نکالا ہے جنہوں نے عید کے بعد ان پروگرامز کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دوست کا کہنا ہے کہ سانپ گذر جانے کے بعد لکیر کے پیٹنے کا کیا فائدہ؟ اب جب رمضان کریم کا مقدس مہینہ اختتام کے قریب ہے تو عید کے بعد احتجاجی مظاہرے کرنے کے اعلانات کا کیا جواز رہ جاتا ہے؟ احتجاج کرنا ہے تو ابھی کریں۔

اسی بارے میں: ۔  عورت ہی عورت کے حقوق سلب کر رہی ہے

\"ramazan\"حرام کی کمائی کا فیصلہ مفتیان دین نہیں کر سکتے۔ انہیں کس نے اختیار دیا ہے کہ وہ لوگوں کی کمائی کے حلال اور حرام ہونے کا فیصلہ کریں؟ حرام اور حلام انہیں اس وقت کیوں یاد نہیں آتا جب یہ اور ان کے نمائندے گاڑیوں، دفاتر اور لوگوں کے گھروں سے مساجد کی تعمیر اور مدارس کے طلبہ کے لیے چندہ مانگتے ہیں۔ انہیں تو اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ چندہ دینے والے احباب میں سے کس کی کمائی حلال ہے اور کس کی حرام کی کمائی ہے؟ ہمارے علم میں یہ بات ہے کہ انسداد فحاشی و عریانی کمیٹی کے ارکان لاہور کے ایک بدنام زمانہ سینما گھر کی بندش کے سلسلے میں لاہور کے ڈپٹی کمشنر کے پاس گئے تو ان کے پاس علماء کا ایک وفد بھی آن پہنچا۔ ڈی سی صاحب نے فحاشی و عریانی کمیٹی کے وفد سے معذرت کرتے ہوئے پہلے علما سے معاملہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور ایسا ہی ہوا۔ واپسی پر ڈی سی صاحب نے بتایا کہ مولوی صاحبان اسی سینما کی حمایت کرنے تشریف لائے تھے جسے آپ لوگ بند کروانے آئے ہیں۔ ڈی سی صاحب نے بتایا کہ علما کا کہنا ہے کہ لاہور کا یہ سینما ویسا نہیں ہے جیسا کہا جا رہا ہے۔ اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ہمارے مفتیان دین و مذہبی رہنمائوں کی سوچ اور عمل کیسے ہے؟

پاکستان میں لوگ قانون کو موم کی ناک تصور کرتے ہیں۔ جب اور جیسے چاہا اسے اپنے مفادات کے تابع موڑ لیا جاتا ہے۔ ایسا ہی طرز عمل ہمارے مذہبی پیشواؤں نے مذہب سے متعلق اختیار کر رکھا ہے۔ بس چمک دکھائیں اور فتوی حاصل کریں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مفتیان دین اور مجتہدین عظام مذہب کے سمندر میں غوطہ زن ہو کر مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں اور پھر کہیں جا کر فتوے کشید ہوتے ہیں۔ لیکن ایسا صرف وہ رہبران مذہب کرتے ہیں جو مذہب سے مخلص ہوتے ہیں اور انہیں خوف خدا بھی ہوتا ہے اور ان کا ہر عمل خوشنودی خدائے بزرگ و برتر کے حصول کے لیے ہوتا ہے۔ جبکہ جن مفتیان دین ( ظاہری طور پر دینداروں) کا مطمح نظر حصول دنیا، اہل اقتدار کا قرب اور مال و دولت ہوتا ہے وہ ارباب اقتدار کی خوشنودی و قرب کے لیے دیکھتے ہی دیکھتے فتوے گھڑ کر میڈیا کے حوالے کر دیتے ہیں اور اس طرح وہ عالمی سطح پر مذہب کی بدنامی کا موجب بنتے ہیں۔ مفتی عبدالقوی اور قندیل بلوچ کے قصے ابھی تک عوام کے اذہان میں تازہ ہیں۔ ان سطور کے ذریعہ ایسے دنیا پرست مفتیان دین اور دیگر مذہبی سیاسی جماعتوں کے قائدین کے لیے دست دعا ہی بلند کیے جا سکتے ہیں کہ الله انہیں راہ حق پر لے آئے اور وہ اللہ کی مخلوق کی گمراہی کے دھندے سے باز آجائیں۔

اسی بارے میں: ۔  ڈاکٹر عبدالسلام۔ ڈاکیومنٹری کیوں نہ چل سکی!

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔