اب مدینتہ النبیؑ نشانے پر


\"edit\"ابھی بغداد میں ہونے والے المناک سانحہ کا غم ماند نہیں پڑا تھا اور ملبے سے بدستور ہفتہ کو ہونے والے دھماکہ سے لاشیں نکالی جارہی تھیں کہ کل سعودی عرب میں تین دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ان میں مسجد نبوی اور رسول پاک ﷺ کی آرام گاہ کے قرب میں ہونے والے خود کش حملہ نے مسلمانوں کے دل دکھ اور رنج و الم سے بھر دئے ہیں۔ ایک حملہ آور نے مسجد نبوی کے نزدیک واقع سیکورٹی چیک پوسٹ میں گھسنے کی کوشش کی اور روکنے پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس سانحہ میں چار سیکورٹی اہلکار جاں بحق ہوگئے۔ یہ حملہ روزہ افطار سے کچھ دیر پہلے ہی ہؤا تھا۔ عین اسی وقت قطیف میں ایک شیعہ مسجد کے قریب بھی دھماکہ ہؤا لیکن اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہؤا۔

کل سعودی عرب میں ہونے والے تین دھماکوں میں سے پہلا دھماکہ جدہ میں ایک اسپتال کے پارکنگ ایریا میں ہؤا۔ یہ اسپتال جدہ میں امریکی قونصل خانے کے عین سامنے واقعہ ہے۔ ایک مشتبہ شخص علی الصبح کار میں بیٹھا تھا ۔ پولیس نے اس سے باز پرس کرنے کی کوشش کی تو اس نے خود کش جیکٹ سے خود کو اڑا لیا۔ اس دھماکہ میں حملہ آور ہلاک اور دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ اب سعودی وزارت داخلہ کے ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ میں بتایا گیا ہے کہ جدہ میں ہونے والا دھماکہ ایک پاکستان نژاد شخص نے کیا تھا جو گزشتہ بارہ برس سے سعودی عرب میں اپنی بیوی اور اس کے والدین کے ساتھ مقیم تھا اور ڈرائیور کے طور پر کام کرتا تھا۔ اس شخص کا نام عبداللہ گلزار خان بتایا گیا ہے۔ پاکستانی حکام اس معاملہ کی تحقیق کررہے ہیں۔ سعودی عرب میں پاکستانی سفیر منظور الحق نے سعودی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حجاز مقدس میں دہشت گردی کرنے والا کوئی شخص پاکستانی نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کے لوگ حرمین شریف کی حفاظت کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز جانتے ہیں۔ پاکستانی وزارت خارجہ اس معاملہ کی پوری تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  دستاویزات کہاں سے لائیں

سعودی عرب اور خاص طور سے مسجد نبوی کے نزدیک خود کش حملہ نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو غم و غصہ اور رنج و الم سے دوچار کیا ہے۔ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد حرمین شریف میں موجود ہوتی ہے۔ کل مغرب سے پہلے ہونے والے دھماکے کے باوجود مدینہ منورہ میں موجود زائرین نے کسی قسم کا خوف یا پریشانی کا اظہار کئے بغیر مسجد نبوی میں عشا کی نماز اور تراویح میں شرکت کی۔ لیکن عام طور سے مسلمانوں نے اس حملہ پر شدید ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی مذمت کی ہے۔ خاص طور سے مدینہ منورہ میں ہونے والے حملہ کی وجہ سے مسلمانوں کو شدید تکلیف پہنچی ہے۔ مکہ معظمہ کے بعد یہ مقام مسلمانوں کے لئے مقدس ترین جگہ ہے۔ یہاں رسول پاک ﷺ کی آرامگاہ ہے اور ہر مسلمان اس جگہ پر خود کو محفوظ و مامون اور رحمت کے سائے میں محسوس کرتا ہے۔ فیضان رحمت رسول کے اس منبع پر حملہ کرنے کی جسارت کرنے والے عناصر کا اسلام یا مسلمانوں کے شعائر سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔ ابھی تک کسی نے سعودی عرب میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن عام طور سے خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ حملے داعش نے کروائے ہیں۔ اس سے پہلے بھی داعش سعودی عرب میں حملوں میں ملوث رہی ہے، تاہم یہ حملے ملک کی شیعہ آبادی والے علاقوں میں کئے گئے تھے۔ پہلی بار مدینتہ النبی کو نشانہ بنانے کی جسارت کی گئی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  دو بھیڑیوں اور ایک بھیڑ کی جمہوریت

پاکستان کی حکومت اور فوج نے سعودی عرب میں دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے سعودی وزیر دفاع اور نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے فون پر بات کی اور ان حملوں کی مذمت کرنے کے علاوہ قرا ر دیا کہ پاکستانی عوام اور فوج اپنی جان کی قربانی دے کر بھی حرمین شریف کی حفاظت کریں گے۔ آرمی چیف نے کہا کہ پاک فوج سعودی عرب کی حفاظت کے لئے ہر دم تیار ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے سعودی عرب میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان مجرموں کے لئے اب کوئی ریڈ لائن باقی نہیں رہی۔ سنی اور شیعہ بلا امتیاز ان لوگوں کے نشانے پر ہیں ۔ ان عناصر کو شکست دینے کے لئے ہم سب کو متحد ہو کر جد و جہد کرنا ہوگی۔ ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

گزشتہ چند روز کے دوران دولت اسلامیہ کے دہشت گردوں نے استنبول، ڈھاکہ ، بغداد اور اب مدینہ منورہ سمیت جس طرح سعودی عرب کے تین شہروں کو نشانہ بنایا ہے، اس سے صرف یہی سبق سیکھا جا سکتا ہے کہ ہر ملک اور پورے خطے میں مسلک اور سیاسی ضرورتوں سے قطع نظر دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لئے حکمت عملی تیار کرنے اور مل جل کر ان عناصر اور ان کے پیدا کردہ شدت پسندانہ رویوں کو ختم کرنے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 683 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “اب مدینتہ النبیؑ نشانے پر

  • 06-07-2016 at 12:45 am
    Permalink

    تازی رپورٹ آیی ھے کہ سعودیہ میں خودکش دھماکہ سعودی خاندان کے کسی آدمی نے کیا ھے. اور شاھی خاندان نے اس پاکستانی پر الزام لگا دیا.

Comments are closed.