ایک بلڈوزر کی آپ بیتی


میں ایک بلڈوزر ہوں۔ میرا نام Accu super Bull Dozer ہے۔ یہ میری سچی کہانی ہے۔ جو آپ کو انٹر نیٹ پر ڈھونڈنے سے مل جائے گی۔ آپ گوگل میں صرف میرا نام لکھیں۔ تو میرے متعلق بہت سی سائیٹس کھل جائیں گی۔ انٹرنیٹ پر میرے متعلق تفصیلات انگلش زبان میں ہیں۔ میں راجہ ابرار کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے میری آپ بیتی کو اردو میں منتقل کر دیا۔ میری کہانی نامکمل حسرتوں اور خواھشوں کی ایک داستان ہے دنیا کی بے ثباتی اور بے حسی کا ثبوت ہے۔ دنیا میں وفا اور محبت کا ملنا اب کارِ دارد ہو چکا ہے۔ میں نے وفاداری کا عہد کیا۔ لیکن مجھے پابند سلاسل کر دیا گیا۔ میری کہانی کچھ یوں ہے۔

ایکو کمپنی Acco Company اٹلی کی ایک کمپنی ہے جو باغبانی اور کھدائی سے متعلق مشینری بناتی ہے۔ 1980 میں لیبیا کے صدر معمر قذافی نے اٹلی کا دورہ کیا۔ اور اٹلی کی مندرجہ بالا فرم کے ساتھ کنسٹرکشن مشینری حاصل کرنے کے لئے ایک معائدہ کیا۔ فرم نے بلڈوزر اور گریڈر وغیرہ بنا کر لیبیا بھجوانے تھے۔ اور اس مشینری کا سائز عام مشینری سے بہت بڑا رکھنا تھا۔ کیونکہ بہت بھاری کام تھا۔

فرم نے کام کرنا شروع کر دیا۔ میری ڈرائینگ بنی۔ لاگت کا تخمینہ لگایا گیا۔ اور کاریگروں نے کام شروع کر دیا۔ آخر اللہ اللہ کر کے میں ایک مکمل بلڈوزر کی شکل میں تیار ہو گیا۔ میرا نام Accu Super Bulldozer رکھا گیا۔ میں بہت مسرور اور مغرور تھا۔ کیونکہ میں دنیا کا سب سے بڑا اور طاقتور بلڈوزر تھا۔ میری کچھ خصوصیات یہ تھیں۔

لمبائی۔ چالیس فٹ

چوڑائی۔ تیئیس فٹ

اونچائی۔ دس فٹ

وزن۔ 180 ٹن

میرے اندر دو انجن لگے ہوئے تھے۔ جن کی مجموعی طاقت 1350 ہارس پاور تھی۔ میرا بلیڈ 23 فٹ چوڑا اور نو فٹ اونچا تھا۔ میرا انجن بہت طاقتور تھا۔ آپ کہتے ہوں گے کہ میں اپنے منہ آپ میاں مٹھو بن رہا ہوں۔ تو ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ آج بھی دنیا کے بڑے اور طاقتور ترین بلڈوزروں کی لسٹ میں میرا پہلا نمبر ہے۔ اگرچہ میری قسمت اچھی نہ تھی۔ اور مجھے وہ مقام نہ ملا جو میرے دوسرے دوستوں کو حاصل ہوا۔ کیونکہ میں کبھی کام نہ کر سکا۔ کسی کھدائی والی جگہ پر مجھے آزمایا نہ جا سکا۔

موجودہ دنیا میں اس وقت جو بلڈوزر سب سے زیادہ طاقتور سمجھا جاتا ہے وہ komatsu کمپنی کا بنایا ہوا D 575 A۔ 3 ہے جس کا وزن 160 ٹن اور انجن 1150 ہارس پاور کا ہے۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ میں اس بلڈوزر سے کہیں زیادہ طاقتور اور قوی ہیکل تھا۔ لہذا کچھ نہ کچھ تو فخر کرنا میرا حق بنتا ہے۔

جب میں ہر لحاظ سے تیار ہوکر گودام میں کھڑا تھا اور لیبیا شپنگ کے لئے تیار تھا۔ تو ایک قانونی پیچیدگی آڑے آ گئی۔ میں نے سنا کہ امریکہ اور اقوام متحدہ نے لیبیا کو ایک دہشت گرد ملک کہہ کر اس پر تجارتی پابندیاں عائد کر دیں ہیں۔ اب کوئی ملک لیبیا کے ساتھ لین دین نہیں کر سکتا تھا۔ میرا ملک اٹلی بھی ان پابندیوں پر عمل کرنے پہ مجبور ہو گیا۔ اور مجھے لیبیا بھجوانے کا پروگرام منسوخ ہو گیا۔

یہ 1980 کی دھائی کی بات ہے۔ میں اپنے مستقبل سے سخت مایوس ہو گیا۔ اور گودام میں بند انتظار کرنے لگا کہ شاید مجھے لیبیا نہ سہی اپنے ملک اٹلی میں ہی کہیں ادھر ادھر بھیج دیا جائے۔ میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاھتا تھا۔ لیکن میری حسرت پوری نہ ہوئی۔ کیونکہ مجھے ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنے اور کام پر لگانے کی لاگت بہت زیادہ تھی۔ اس لئے کوئی بھی میرے قریب نہ آیا۔

لیبیا پر پابندیاں کبھی ختم نہ ہوئیں۔ بہت بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ لیبیا ایک دہشت گرد ملک نہ تھا۔ بلکہ ایک ایسا اسلامی ملک تھا۔ جو ترقی کر رہا تھا۔ اور اپنی فوجی قوت میں بھی اضافہ کر رہا تھا۔ لیبیا کا صدر معمر قذافی عربوں کے اتحاد کا بہت بڑا حمایتی تھا۔ وہ خواھش مند تھا کہ تمام مسلم ملک اکٹھے ہو جائیں۔ یہ سب باتیں مغرب اور امریکہ کو پسند نہ آئیں۔ اور انھوں نے بہانے سے لیبیا کو دبانے کے لئے تجارتی پابندیاں عائد کر دیں۔ یوں میرا مستقبل عالمی سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا۔

میں تیس سال تک کمپنی کے گودام میں کھڑا رہا۔ میرے پرزے زنگ آلود ہونا شروع ہو گئے۔ اور رنگ پھیکا پڑنا شروع ہو گیا۔ میں ڈپریشن کا شکار رہنا شروع ہو گیا۔ گھنٹوں سوچتا رہتا کہ میری زندگی کا کیا مقصد ہے۔ جھنجھلاھٹ میں میرا جی چاھتا کہ گودام کی دیواروں کو توڑ کر نکل جاٶں۔ لیکن میں ایسا نہیں کر سکتا تھا۔ حضرتِ انسان کی اجازت اور مدد کے بغیر، میں لوھے کے پہاڑ کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا۔

ایک دن میں نے سنا کہ کمپنی کا کام ٹھپ ہو گیا ہے۔ کیونکہ کمپنی کا مالک بھی مر گیا اور اس کا بیٹا بھی کچھ عرصہ بعد مر گیا۔ کمپنی کا کوئی قانونی مالک سامنے نہ آیا تھا۔ کمپنی بند ہونے سے میری طرح بہت سی دوسری مشینری بھی گوداموں میں گلنے لگی۔ 2008 میں کمپنی لپیٹ دی گئی۔ پھر 2012 میں ایک نیک دل انسان نے مجھے گودام سے نکالا اور اپنے رہائیش کے باھر نصب کر دیا۔ میرا رنگ روغن تازہ کیا گیا۔ اور میری حفاظت کے لئے ایک شیڈ میرے اوپر بنا دیا۔

اب میں یہاں اپنی زندگی کے دن پورے کر رہا ہوں۔ بچے اور بڑے آتے ہیں اور میرے ساتھ فوٹو بنواتے ہیں۔ سیلفیاں بناتے اور میرے مختلف حصوں کو چھو کر دیکھتے ہیں۔ میں خاموشی اور افسردگی سے انھیں دیکھتا رہتا ہوں۔ مگر کچھ بول نہیں پاتا۔ آپ کبھی اٹلی آئیں تو مجھے مل سکتے ہیں۔ وینس شہر کے نواح میں ایک قصبہ ہے۔ جس کا نام پورٹوگرارو Portogruaro ہے۔ اسی قصبے میں، میں آپ کو ملوں گا۔ میں آپ کا منتظر رہوں گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

راجہ ابرار حسین عاجز کی دیگر تحریریں
راجہ ابرار حسین عاجز کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں