گلے آج تو مل لے ظالم۔۔۔ ورچوئل عید مبارک


عید ہمارے یہاں بھی آتی تھی لیکن اصل مزا عید سے پہلے کا ہوتا تھا۔ سکول میں ہم سب دوست ایک دوسرے کو عید کارڈ دیا کرتے تھے۔ ایک \"husnainایک روپے والے عید کارڈ، جنہیں آپ پوسٹ کارڈ کہہ سکتے ہیں لیکن ہمارے لیے وہ عید کارڈ ہی ہوتے تھے۔ کسی پر بھالو کی تصویر بنی ہوئی، کسی پر پیارے سے طوطے بنے ہوئے، کہیں خانہ کعبہ بنا ہے، کہیں مسجد نبوی کا گنبد ہے، کسی کارڈ پر کوئی پیارا سا دیسی بچہ کروشیے کی ٹوپی پہنے دعا مانگ رہا ہے (یہ ٹوپی اس وقت بھی چین سے ہی آتی تھی یا ادھر بنتی تھی، خبر نہیں)، کہیں کھجور کا درخت بنا ہوتا، کسی پر مقدس نام لکھے ہوتے، کسی پر خطاطی کا نمونہ بہاریں دکھلا رہا ہوتا، تو بس وہ بہت سارے کارڈ ایک ایک بندے کا نام ذہن میں رکھ کر خرید لیے جاتے۔ دو صفحوں والا کارڈ، یا جو کارڈ آج کل آپ ہم سال گرہوں پر یا نیو ائیر وغیرہ پر دیتے ہیں، بلکہ دیتے تھے، وہ کارڈ عید پر صرف وی آئی پی شخصیات کو دینے کے لیے خریدا جاتا تھا اور وہ ملتا بھی مہنگا تھا۔

لاہور، کراچی، پشاور، صادق آباد، جہاں جہاں ماموں، خالائیں اور چچا رہتے تھے وہاں وہ کارڈ بڑے اہتمام سے بھیجے جاتے اور یا پھر سکول ٹیچرز کو وہ مہنگا والا کارڈ دیا جاتا تھا۔ بعض اوقات تو ایک جگہ سے آئے ہوئے کارڈ میں سے بیچ والا صفحہ کھینچ کر نیا چپکا دیتے اور اسی کارڈ کو آگے ٹکا دیا جاتا۔ جیب پر منحصر ہوتا تھا، جتنے پیسے ہوتے تھے اسی کے اندر ساری رام لیلا مکمل کرنی ہوتی تھی۔

ہمارا سکول بہت ہی چھوٹا سا تھا، شاید دو تین مرلوں کا یا بہت زیادہ کہہ لیجیے تو پانچ مرلے کا ہو گا، تو اس میں جماعتیں ایک دوسرے کے\"001\" بالکل ساتھ ساتھ ہوتی تھیں۔ وہ جماعتیں خوش نصیب سمجھی جاتیں تھیں کہ جن کو اپنا اپنا باقاعدہ کمرہ ملا ہوتا تھا۔ بھئی تیسری اور چوتھی ایک ہی کمرے میں ہوتی تھی، اسی طرح جب ہم \”چاند میری زمیں پھول میرا وطن\” پڑھتے تھے تو وہ ایک عارضی چھت والا کمرہ ہوتا تھا، پھر پہلی جماعت کی آوازیں دوسری کے کمرے میں آ رہی ہوتیں کیوں کہ دیوار ایک تھی اور بہت چھوٹی سی تھی۔ جب ہم پانچویں میں گئے تو ہمیں الگ کمرہ نصیب ہوا، یا پھر چوتھی میں بھی شاید الگ تھا بہرحال یہ سکول جب ایک دن باہر سے ہم نے آئلہ کو دکھایا تو وہ ناقابل یقین بلکہ (weird) سے تاثرات کے ساتھ پوچھنے لگی، بابا یہ سکول تھا؟ اب کیا بتائے بابا کہ بیٹی یہ کیسا عمدہ سکول تھا۔ یہاں بزم ادب بھی ہوتی تھی، یہاں ٹیبلو، ڈرامے اور تقریریں بھی ہوتی تھیں، یہیں تمہارا بابا زندگی کی پہلی تقریر کرنے اسمبلی میں سب کے آگے کھڑا ہوا اور لہرا کر گر گیا، بابے کو کانفیڈنس ہی نہیں ہوتا تھا بیٹی۔ وہ تو بہت بعد میں جا کر کبھی کبھار نیشنل سینٹر اور کبھی ریڈیو والوں کی مہربانی سے بابا دو لفظ بولنا سیکھ گیا نہیں تو بابا گنوار ہی رہ جاتا۔

تو اس سکول میں جب عید آتی تو اس سے پہلے ایک دوسرے کو عید کارڈ دینے کا بڑا زبردست جوش و خروش ہوتا۔ وہی ایک روپے والے کارڈ کے پیچھے بڑا بڑا لکھا جاتا \”حسنین جمال کو ملے\” اور دینے والا خود ہی حسنین جمال کے ہاتھوں میں کارڈ دے رہا ہوتا۔ پھر ان پر شعر لکھنا فرض ہوتا تھا۔ شعر بھی ایسے کہ جو ٹرک والے بھی لکھنے سے شرمائیں؛

اسی بارے میں: ۔  بلوچستان کے پشتونوں کا مقدمہ

ڈبے میں ڈبا ڈبے میں کیک\"002\"

میرا دوست ہے لاکھوں میں ایک

(ایک مہربان نے دوست لکھتے ہوئے واو حذف کر دیا، آج بھی وہ کارڈ سنبھالا ہوا ہے)

عید آئی ہے زمانے میں

حسنین گر پڑا غسل خانے میں

اے پھول میرے پھول کو یہ پھول دے دینا

کہنا کہ تیرے پھول نے یہ پھول دیا ہے

(یہ شعر اس زمانے میں ایسے مشہور تھا جیسے آج کل جینا مشہور ہیں)

لوگ کہتے ہیں عید کارڈ اسے

یہ روایت ہے اس زمانے کی

ایک دستک ہے ان کے ذہنوں پر\"004\"

جن کو عادت ہے بھول جانے کی

(حالاں کہ کارڈ لینے اور دینے والا لنگوٹیا اور روز ساتھ کھیلنے والے جماعتیے ہوتے تھے)

عید کے دن سویاں ڈھیر ساری کھانا

کھاتے کھاتے مگر ہم کو نہ بھول جانا

اور اس طرح کے کتنے ہی شعر اس کارڈ پر آڑھی ٹیڑھی لکیروں میں لکھے جاتے، املا کی ایسی تیسی پھرتی اور عید کی مبارکی عید آنے سے دس دن پہلے وصول ہو کر بستے میں پہنچ جاتی۔ پھر ہم لوگ کچھ بڑے ہو گئے۔

عید کارڈ ایک روپے کا ہی رہا اس پر بنی تصویریں بدل گئیں۔ مادھوری، انیل کپور، سلمان خان اور ہر اس فلمی اداکار کی تصویر والا کارڈ دوستوں کو دیا جاتا جو ہمیں مشترکہ طور پر پسند ہوتا۔ سنجے دت اور امیتابھ جگت پیارے ہوتے تھے، ان کے عید کارڈ کسی کو بھی بے دھڑک دئیے جا سکتے تھے۔ پھر کچھ اور بڑے ہوئے تو باقاعدہ اچھے والے عید کارڈ خریدنے کا میٹھا برس لگا۔

اب کارڈ پر لکھنے کے لیے اچھے سے اچھے شعروں کی تلاش ہوتی، جب کچھ نیا نہ ملتا تو یہ والی نظم ہمیشہ کام نکال دیتی؛

عید آنے کو ہے میں نے سوچا بہت

پھول بھیجوں کہ مہکار بھیجوں اُسے

چند کلیوں سے شبنم کے قطرے لئے\"006\"

اُس کے رخسار پر آنسوؤں کی طرح

خوبصورت لگیں گے اُسے بھیج دوں

پھر یہ سوچا نہیں

اُس کے عارض کہاں گُل کی پتّیاں کہاں

اُس کے آنسو کہاں اور وہ قطرے کہاں

پھر یہ سوچا کہ کچھ چاند کی چاندنی

اور ستاروں کی بھی روشنی ساتھ ہو

مانگ کر چھین کر

جس طرح بھی ہو

میں اُسے بھیج دوں

پھر یہ سوچا نہیں

اُس کی آنکھیں کہاں چاند تارے کہاں

پھر یہ سوچا کہ تھوڑا سا نورِ سحر

میں سحر سے چُرا کر اُسے بھیج دوں

پھر یہ سوچا نہیں\"007\"

نور اُس کا کہاں نور صبح کہاں

پھر یہ سوچا گھٹاؤں کو ہی بھیج دوں

اُس کے آنگن میں وہ رقص کرتی رہیں

پھر یہ سوچا نہیں

اُس کی زلفیں کہاں یہ گھٹائیں کہاں

پھر یہ سوچا کہ اِک جام مے بھیج دوں

پھر یہ سوچا نہیں

سارے عالم کے جتنے بھی ہیں مے کدے

اُس کی آنکھوں کی مستی ہی بانٹی گئی

اسی بارے میں: ۔  دوسری جنگ عظیم اور ہمارا جنون

ساغر و مئے کہاں اُس کی آنکھیں کہاں

اُس کے قابل مجھے کچھ بھی نہ لگا

چاند تارے ہوا اور نہ ہی گھٹا

میں اسی سوچ میں تھا پریشاں بہت

اِک نِدا مجھ کو آئی کہ سن میری جاں

یاد کرکے اُسے جتنے آنسو گریں

سب کو یکجا کرو اور اُسے بھیج دو۔\"008\"

 اسی دوران \”ای کارڈ\” کی نحوست دنیا میں وارد ہو گئی۔

مطلب بغیر ایک ٹکا آنہ خرچ کیے نیک تمنائیں دوسروں تک پہنچانے کو ای کارڈ کہا گیا۔ نہ اس پر آپ کی لکھائی ہے، نہ کوئی پھول بوٹا بنا ہے، نہ کہیں لکھا ہے \”حسنین جمال کو ملے\” نہ کوئی شعر لکھے ہیں ٹیڑھے میڑھے انداز میں، نہ کوئی لفافہ ہے جس کو ٹیپ سے بند کیا گیا ہے، بس ایک لنک کو کلک کریں اور ٹٹڑوں ٹوں اکیلی ایک تصویر کمپیوٹر کی سکرین پر نمودار ہو جائے گی جسے آپ ای کارڈ کہیں گے، اب اسے چومیں، چاٹیں، کتاب میں چھپائیں یا میز پر سجائیں بس یہی ہے سب کچھ، یعنی محبت بھی Virtual ہو گئی، کمال ہے!

خیر سے وہ دور بھی ختم ہو گیا، اب ایس ایم ایس پر مبارک باد دی جاتی ہے، جو چونی بھی خرچ نہیں کرنا چاہتے وہ واٹس ایپ کر دیتے ہیں، لیجیے بھئی یاد کر لیا آپ کو، اب آپ پر فرض ہے کہ آپ بھی اتنا ہی لمبا چوڑا فارورڈ میسج (کہیں سے ایا ہوا عید کا ایس ایم ایس پیغام) بیچ میں ہمارا نام گھسیڑ کر ہمیں بھیجیں اور ہمیں اور ہمارے اہل خانہ کو عید کی خوشیوں میں شریک کریں!

آج کل کے بچے یقین ہی نہیں کر سکتے کہ ہم لوگ عید کے دن وہ گتے کی عینک جو لال، نیلی اور سبز پنیوں سے بنی ہوتی تھی، پہن کر کتنا\"005\" خوش ہوتے تھے۔ غبارے والے سے وہ عینک ملتی تھی اور وہی غبارے والا ہمارا مکمل گروسری سٹور ہوتا تھا۔ اسی کے پاس املی، چورن اور بتاشے بھی ہوتے تھے، بچیوں کے لیے پلاسٹک کے تاج بھی وہی بیچتا تھا، ڈراونے ماسک، گتے کے بنے ہوئے، وہ بھی وہیں سے ملتے تھے، لٹو اور ٹک ٹک کرنے والا مٹی کا کھلونا اور پتہ نہیں کیا کیا نعمت وہ ایک ڈنڈے پر ٹانگ کر گھومتا تھا۔ تو وہ عید ہم چھو کر دیکھتے تھے اور اس عید کو ہاتھ لگا کر محسوس کرتے تھے۔ آج کل عید کمپیوٹر اور ٹیبلٹ پر گیمز کھیلنے اور ٹی وی دیکھنے کا نام رہ گیا ہے اور اس میں بچوں سے زیادہ ہمارا اپنا قصور ہے۔

تو جناب آپ سب کو اور آپ کے اہل خانہ کو ایک ورچوئل عید بہت بہت مبارک ہو، اسی تحریر کے نیچے خیر مبارک کہیئے، نیک خواہشات کا اظہار کیجیے، باقی آپ اپنے گھر خوش، ہم اپنے گھر خوش، ہینگ لگی نہ پھٹکڑی اور رنگ دیکھیے کیسا چوکھا آیا!

اس تحریر کے ساتھ پرانے عید کارڈوں کی تصاویر محترم صحافی  سید عون علی کے ذخیرے سے لی گئی ہیں


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 337 posts and counting.See all posts by husnain