پولیس میں اصلاحات کی ضرورت


\"sherafzalرومن فلسفی کا قول ہے\’\’ عوام کی حفاظت سب سے بڑا قانون ہونا چاہئے\’\’۔ وہ تمام قومیں جنہوں نے خوشحالی اور ترقی پائی انہوں نے عوامی نظم ضبط اور تحفط کو اولین ترجیح بنایا، البتہ جن قوموں نے اچھے نظم و ضبط کے ساتھ ساتھ قانون کی بالا دستی قائم کی وہاں حقیقی جمہوریت اور انصاف کا قیام عمل میں آیا اور انسانی حقوق کو تحفظ حاصل ہوا۔ پاکستان کو ایک مستحکم اور جمہوری مستقبل کی ضرورت ہے جس کے لئے پولیس سمیت ریاستی اداروں کی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا اور عوام سے جڑے تمام مسائل کو حل کرنا ہو گا۔

ہماری 68 سالہ تاریخ میں دیگر ریاستی اداروں کی طرح پولیس کا نظام بھی ہمیشہ تنقید، الزامات، بدعنوانی اور سیاسی مداخلت کی زد میں رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام اور پولیس کے مابین اعتماد اور نیک نیتی کی فضا بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ یکے بعد دیگرے فوجی اور سویلین حکومتیں قانون پر اثر انداز ہوئیں اور ریاستی مشینری کا ناجائز استعمال کرتی رہیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پولیس کبھی بھی اپنے حقیقی فرائض انجام نہ دے پائی اور ہمارا ریاستی نظام متاثر ہوتا رہا۔ دور جدید کی پولیس خدمات کی ابتداء کا سہرا لندن میٹرو پولیٹن ایکٹ 1829 کے سر ہے جس نے ایگزیگٹو اور آزاد عدالتی نظام کے مابین اختیارات کو تقسیم کیا۔ البتہ برصغیر پاک و ہند میں برطانوی سلطنت کو ایک مختلف طرز کی انتظامیہ کی ضرورت تھی، ان کا طرز حکمرانی محصولات جمع کرنے اور نظم ضبط کو قائم رکھنے تک محدود رہا، جس کی وجہ سے انصاف پر عمل کرنا ممکن نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انگریز دور میں ایک ہی فرد کے پاس محصولات اکھٹا کرنے اور پولیس اور عدلیہ کو کنٹرول کرنے کے اختیارات موجود تھے۔ حالانکہ یہ کام ڈسٹرکٹ آفیسر، ڈپٹی کمشنر اور ضلعی مجسٹریٹ کا تھا۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا انگریز دور میں سرکاری ملازمین کا کام صرف محصولات اکٹھے کرنے اور منظور نظر رہنے کے لئے وفاداری دکھانا تھا۔ جبکہ پولیس کا استعمال صرف مقامی لوگوں کو دبانے کے لئے کیا جاتا تھا۔

محصولات جمع کرنے والا افسر اور مقامی پولیس اتنی ظالم اور بد عنوان تھی کہ 1855  میں برطانیہ نے ایک کمیشن بنایا جو کہ ٹارچر کمیشن کے طور پر جانا جاتا تھا، جس کا مقصد ہندوستان میں انصاف کی فراہمی میں اصلاحات لانا تھا۔ کمیشن کی جانب سے دی جانے والی سفارشات اور اس پر برطانوی پارلیمنٹ میں کی جانے والی بحث کے بعد حکمران اس فیصلے پر پہنچے کہ مقامی انتظامیہ کی ان برائیوں کو قانون کی حکمرانی اور اختیارات کی تقسیم کے ذریعے ختم کیا جائے اور 1856ء میں برطانوی سرکار کی طرف سے بمبئی، کلکتہ اور مدراس کو میٹرو پولیٹن شہروں کا درجہ دیا گیا جہاں آزادانہ کارروائی کرنے والے پولیس کمشنر، ایک آزاد عدلیہ کو اپنی کارکردگی سے مطلع رکھتے تھے تاہم اصلاحات کی کوششوں کو 1857 کی جنگ آزادی کی وجہ سے بہت دھچکا لگا۔

اس کے بعد، برصغیر پاک و ہند نوے سال کے لئے براہ راست تاج برطانیہ کے ما تحت آ گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پولیس خدمات کی فراہمی میں آئرش کانسٹیبلری کے طرز کو متعارف کروایا گیا جس کا کام بغاوت کو دبانا تھا۔ 1861ء کے بعد پولیس نے شاہی حکمرانوں کے فوجی دستوں کے فرائض سر انجام دئیے۔ یوں لگتا تھا جیسے پولیس عوام کے تحفظ اور فلاح کے لئے نہیں بلکہ ان پر حکمرانوں کا تسلط قائم کرنے کے لئے کام کر رہی تھی۔ نو آبادیاتی حکومت نے پولیس خدمات کی فراہمی کو افواج کی شکل دینے کا عارضی قدم اٹھایا لیکن بہت جلد ہی یہ قدم آگے چل کر نظام کا حصہ بن گیا۔

پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح قانون کی حکمرانی اور جمہوریت قائم کرنا چاہتے تھے لیکن ایسا نظام جہاں انتظامیہ مکمل طور ہر غیر جانبدار اور اس کے ساتھ ساتھ فوج، عدلیہ اور انتظامیہ تینوں اپنے اپنے دائرہ کار میں علیحدہ علیحدہ کام کریں۔ 1947 میں نئی ریاست کے قیام کے بعد محمد علی جناح نے کراچی میں میٹرو پولیٹن پولیس کے ماڈل کے قیام کا فیصلہ۔ کیا یہ ویسا ہی ماڈل تھا جیسا کہ تاج برطانیہ نے 1856 کلکتہ، مدراس اور بمبئی میں اور1939 کو حیدر آباد میں قائم کیا تھا۔ بد قسمتی سے ستمبر 1948ء میں قائد اعظم کی وفات کے بعد افسر شاہی نے کراچی میں پیشہ ورانہ پولیس قائم نہ ہونے دی اور ٰ پولیس کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا رہا۔ بعد میں آنے والی سیاسی قیادت نے بھی پاکستان کو قائد اعظم کے خواب کے مطابق نہیں ڈھالا۔

ایوب خان کے دور میں جب مارشل لا لگایا گیا تو اس میں ایسا نظام وضع کیا گیا جس میں پولیس کو افسر شاہی کے ماتحت لایا گیا۔ بعد ازاں کافی عرصہ تک پولیس فوج کے ماتحت کام کرتی رہی اور اسی کے عشرے میں جب کچھ عرصہ کے لئے محمد خان جونیجو وزیراعظم منتخب ہوئے تو انہوں نے ڈائیریکٹر انٹیلی جنس بیورو کی سربراہی میں پولیس افسران کی ایک کمیٹی تشکیل دی جس کا کام پولیس کے نظم و نسق میں اصلاحات لانا تھا۔ کمیٹی نے انڈین پولیس کمیشن سے متاثر ہو کر اس بات کی سفارش کی کہ تمام صوبائی دارلخلافوں اور اسلام آباد میں میٹرو پولیٹن ماڈل کو اپنایا جائے۔ یہ نظام بھارت کے تمام 26 بڑے شہروں میں قائم پولیس کمشنر نظام اور بنگلہ دیش کے تین بڑے شہروں کے نظام سے ملتا جلتا تھا۔ بعد ازاں بے نظیر دور حکومت میں پاکستان پولیس سروس کے عشایے میں وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی طرف سے تمام صوبائی دارالخلافوں اور اسلام آباد میں میٹرو پولیٹن ماڈل کو اختیار کرنے کی منظوری دی۔ مگر 1948ء میں قائد اعظم کے فیصلے کی طرح بے نظیر بھٹو کے فیصلے پر بھی 1990 تک عملدر آمد نہ کیا گیا۔

نوے کی دہائی میں میاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو یکے بعد دیگرے اقتدار میں آئے مگر وہ اصلاحات کو بھول کر اقتدار کی بھول بھلیوں میں کھو گئے اور کوئی پیشرفت نہ ہو سکی۔ مفاد پرست نہیں چاہتے تھے کہ ایسا نظام قائم ہو جس میں عوام کی فلاح اور سسٹم کی بہتری شامل ہو۔

جب پرویز مشرف کا دور شروع ہوا تو تمام فوجی حکومتوں کی طرح پرویز مشرف نے بھی اپنے دور کا آغاز ایک اصلاحاتی ایجنڈے سے کیا لیکن جلد ہی وہ بھی سیاست کے تیز رفتار کھیل اور اپنے اقتدار کو سنبھالنے کی کوششوں میں لگ گئے۔ پرویز مشرف کے ابتدائی اصلاحاتی اقدامات میں سے ایک پولیس آڈر 2002 کا نفاذ بھی تھا۔ اس آرڈر کا مقصد سیاسی طور پر غیر جانبدار، جوابدہ، خود مختار اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی حامل پولیس فورس قائم کرنا تھا۔ اس نئے قانون کے کئی اہم مقاصد تھے۔ یعنی ایک طرف اختیارات کا ناجائز استعمال روکنا اور سیاسی مداخلت کو روکنا تو دوسری طرف پولیس فورس کو بد عنوانیوں سے پاک کر کے ایک با ضابطہ اور موثر فورس بنانا۔

اس قانون میں پولیس کے لئے ایسا نظام قائم کیا گیا تھا جس میں پولیس فورس کو ضلعی، صوبائی اور قومی سطحوں پر قائم پبلک سیفٹی کمیشنوں کے ذریعے غیر جانبدار بنایا گیا۔ یوں اس کے اندر بنیادی اور انتظامی تبدیلیاں لانے پر زور دیا گیا تھا۔ یہ تصور برطانیہ سے لیا گیا جہاں پولیس سروسز کا ادارہ منتخب اور خود مختار افسران کی نگرانی میں کام کرتا ہے حالانکہ مشرف کو بعض سینئر افسروں کی سفارشات کے خلاف جانا پڑا لیکن اس کے باوجود اس نے جاپانی ماڈل (جہاں عوامی سیفٹی کمیشن غیر سیاسی اراکین پر مشتمل ہوتا ہے) پر یو کے ماڈل کو ترجیح دی جس میں منتخب نمائندے عوامی سیفٹی کمیشن کے رکن ہوتے ہیں۔

تاہم 2004 میں اتحادی جماعتوں سے مل کر پرویز مشرف عوامی مفادات کو پس پشت ڈال کر سیاسی مقاصد کے لئے سرگرم عمل ہو گئے اور پولیس آرڈر 2002 کے الفاظ اور مقاصد کو بدل کر رکھ دیا اس کے اندر تمام ضروری اور اہم اصلاحات کو ختم کر دیا گیا۔ پرویزمشرف کی طرف سے اپنے ہی اصلاحاتی ایجنڈے پر پانی پھیرنے کے بعد ایک غیر جانبدار اور خود مختار پولیس فورس کے قیام کا خواب ادھورا رہ گیا۔ پرویز مشرف کے بعد آنے والی جمہوری حکومتوں نے بھی اس سلسلے میں کوئی خاطر خواہ قدم نہیں اٹھایا سوائے خیبر پختونخوا (کے پی) پولیس کے جنہوں نے پی ٹی آئی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد اٹھائے۔

پولیس آرڈر 2002 کے دیباچے کے مطابق پولیس کے قیام کا مقصد جرم کی موثر روک تھام اور اس کی پیش بندی کرنا اور عوامی سطح پر امن و امان کا قیام ہے۔ اس کا فرض ہے کہ وہ آئین، قانون اور عوام کی خواہشات کے مطابق اپنے فرائض ادا کرے۔ پولیس کی ایسی کارکردگی کے حصول کے لئے اس کا پیشہ ورانہ، خدمت گزار اور عوام کو جوابدہ ہونا ضروری ہے۔ لہٰذا قانون کی حکمرانی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے حکومتوں اور سرکاری عہدیداران کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایسی پولیس فورس قائم کریں جو سیاست میں ملوث نہ ہو اور آزادانہ اپنے فرائض ادا کر سکے اور اس کے ساتھ ہی پیشہ ورانہ عوامی خدمت کی حامل ہو۔

اس سلسلے میں سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس وقت عوامی شکایات کے ازالے کے نظام کو اولین ترجیح دینی چاہئے اور اسے خیبر پختونخوا پولیس کی طرح صحیح خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ آئن لائن ایف آئی آر رجسٹریشن، پولیس ہیلپ لائنز، روز مرہ شکایات کے لئے ڈاک خانوں کا استعمال، آن لائن شکایات رجسٹریشن، پولیس کے معاونتی سنٹرز، جو سویلین سٹاف پر مبنی ہیں، خواتین کے لئے ہیلپ ڈیسکوں کا قیام، خواتین ملزمان سے خواتین تفتیشی آفیسران کے ذریعے تفتیش ایسے اقدامات ہیں جو عوامی سہولت کے لئے ضروری ہیں۔ تحقیقات کا علیحدہ شعبہ قائم ہونے کے بعد اب تفتیشی عملہ کو مہارت اور جدید تربیت سے آراستہ ہونا چاہئے۔ تفتیش کے فرسودہ طریقہ کار کو چھوڑ کر سائئنسی بنیادوں پر تفتیش کے جدید طریقے اپنانے چاہئے۔ جیو فینسنگ کی سہولیات اور ملزمان کے ڈیٹا تک فوری رسائی کے لئے تفتیشی افسران کے پاس جدید آلات کی موجودگی از حد ضروری ہے۔ سب ڈویژن سطح پر کرائم سین یونٹ قائم ہونے چاہئے۔

تفتیش کاروں کے لئے ایسا ہدایت نامہ تیار کیا جائے جس میں ہر جرم کے پہلوئوں کی چیک لسٹ اور ان کے لئے مطلوبہ شہادتوں کو درج کیا جائے۔ ضلعی سطح پر ایسی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو بریت اور ضمانتوں کا جائزہ لیں تا کہ تفتیش کاروں کو عدالتوں کے بتائے جانے والے نقائص کا پتہ چل سکے بطور پالیسی حکومت کو پولیس مقابلوں کی کبھی بھی حمایت نہیں کرنی چاہئے اور ہر ایسا پولیس مقابلہ جس میں کسی کی موت واقع ہوئی ہو کی فوری اور آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئے۔

بد عنوان اور نا قابل اصلاح پولیس اہلکاروں سے نجات حاصل کرنی چاہئے۔ پولیس اہلکاروں کے لئے بڑے پیمانے پر از سرنو تربیت اور رویوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ موزوں جائزے کے ذریعے تربیتی کورس کو از سرِ نو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ پولیس اہلکاروں کے گھر والوں کے لئے شہروں، ضلعوں، ذیلی ڈویژنوں اور سٹیشنوں میں جہاں کہیں ان کی تعیناتی ہو موزوں پولیس رہائش گاہیں قائم کرنی چاہئے۔ اہلکاروں کے کام کار کے اوقات میں بہتری لائی جائے یعنی آٹھ گھنٹوں کی ایک شفٹ اور ہفتہ وار چھٹی۔ اوور ٹائم الاؤنس، بوقت ڈیوٹی/ ملازمت کھانے کی فراہمی، نقل حرکت کی سہولیات اور دیگر فلاحی اقدامات اٹھائے جانے چاہئے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

شیر افضل گوجر کی دیگر تحریریں
شیر افضل گوجر کی دیگر تحریریں