نکاح کے بغیر جنسی تعلق


ان دنوں انسانیت جن سنگین مسائل سے دو چار ہے ان میں سے ایک خاندان کی تباہی و بربادی ہے۔ خود غرضی، مفاد پرستی، شہوت رانی، مادیت کے غلبے اور مال و دولت کی حرص کے سبب خاندان کی ذمہ داریوں سے فرار کی راہیں تلاش کی جارہی ہیں، یہاں تک کہ اب اس کی ضرورت سے بھی انکار کیا جانے لگا ہے اور نکاح کے بغیر جنسی تعلق کی توجیحات تلاشی جارہی ہیں۔ اس رجحان کو اصطلاحی طور پر Live in Relationship کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کسی مرد اور عورت کا ایک ساتھ رہتے ہوئے زندگی گزارنا۔

اس کا اطلاق ان جوڑوں پر کیا جاتا ہے، جو نکاح کے بغیر ایک ساتھ رہنے لگیں۔ ان کی یہ معاشرت عارضی اور چند روزہ بھی ہوسکتی ہے اور اس میں پائیداری بھی ممکن ہے کہ وہ طویل زمانے تک ایک ساتھ رہیں۔ اس عرصے میں ان کے درمیان جنسی تعلق بھی قائم رہتا ہے، جس کے نتیجے میں بسا اوقات بچے بھی ہوجاتے ہیں، لیکن میاں بیوی کی طرح رہنے کے باوجود ان کے درمیان نکاح کا معاہدہ نہیں ہوتا، جس کی بنا پر ان میں سے ہر ایک کواختیار رہتا ہے کہ جب بھی اس کی مرضی ہو علیٰحدگی اختیار کرلے۔ نکاح نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے ساتھی کے تعلق سے ہر طرح کی ذمہ داریوں سے آزاد رہتا ہے اور اس پر کوئی قانونی بندش نہیں ہوتی۔

نصف صدی قبل تک دنیاکے بیش تر حصوں میں نکاح کے بغیر جنسی تعلق کو سخت ناپسندیدہ سمجھا جاتا تھا لیکن اب خاندان کی پابندیوں سے آزاد رہ کر زندگی گزارنے کا رجحان پرورش پانے لگا، امریکا میں اٹھاون فیصد مرد حضرات بغیر قانونی شادی کے ساتھ رہتے ہیں، برطانیہ میں اٹھارہ ملین لوگ بنا شادی کے جنسی تعلق قائم رکھے ہوئے ہیں۔ یہی حال یورپی ممالک کا ہے۔ 2011 ء میں یورپی یونین کے ستائیس ( 27 ) ممالک میں پیدا ہونے والے بچوں میں 39.5 فی صد ایسے تھے، جن کی ولادت بغیر نکاح کے جنسی تعلق کے نتیجے میں ہوئی تھی۔

یہ وبا مغربی ممالک کے ساتھ اب مشرقی ممالک میں بھی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ پڑوسی ملک ہندوستان زمانۂ قدیم سے ایک مذہبی اور اخلاقی روایات کا احترام کرنے والا ملک رہا ہے مگر لیکن فیمنزم، فحاشی اور آوارگی میں روزافزوں اضافہ کی وجہ سے اب وہاں بھی Live in Relationship کو گوارا کیا جانے لگا ہے۔ ہندوستان کی پارلیمنٹ کا رجحان بھی اس کی خاموش تائید و حمایت کی طرف ہے اور وہاں کی عدالتیں اسے قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

2011 کے ایک کے کیس میں یہ رولنگ دی کہ بالغ مرد اورعورت بغیر نکاح کے بھی ایک ساتھ رہ سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ فاضل ججوں نے ساتھ ہی اپنے ان احساسات کا اظہار کرنا بھی ضروری سمجھا کہ اگر دو جوان (مرد اور عورت) ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو اس میں جرم کیا ہے؟ یہ معاملہ جرم تک کہاں پہنچتا ہے؟ ایک ساتھ رہنا جرم نہیں ہے۔ یہ جرم ہو بھی نہیں سکتا ”۔

سپریم کورٹ کی ایک بنچ نے یہ رائے دی کہ کوئی مرد اور عورت اگر لمبے عرصے تک بغیر نکاح کے ایک ساتھ رہیں تو ان کے تعلق کو ’نکاح پر مبنی تعلق‘ کے مثل مانا جاسکتا ہے۔ living in relationship کے نتیجے میں اگر کوئی اولاد ہوتی ہے تو اسے اپنے باپ اور ماں دونوں کی جانب سے وراثت کے حقوق حاصل ہوں گے۔

جب کہ وطن عزیز پاکستان میں نکاح سے فرار کے جواز پیش کیے جاتے ہیں کہ جس مرد اور عورت کا آپس میں نکاح ہوتا ہے، ان کے درمیان عموماً پہلے سے تعارف نہیں ہوتا اور اگر ہوتا ہے تو بہت معمولی۔ وہ ایک دوسرے کی عادات و اطوار، مزاج، رہن سہن کے انداز اور دیگر باتوں سے واقف نہیں ہوتے۔ بغیر نکاح کے ساتھ رہنے کا مقصد ایک دوسرے سے تفصیلی واقفیت حاصل کرنا اور یہ جائزہ لینا ہوتا ہے کہ کیا وہ آئندہ زندگی ایک ساتھ رہ کر گزار سکتے ہیں؟

اور نکاح کے کچھ عرصہ کے بعد ناپسندیدگی یا کسی اور وجہ سے الگ ہونے میں قانونی رکاوٹیں اور رواجی بندشیں ہوں گی۔ اس لیے زیادہ بہتر صورت یہ ہے کہ بغیر نکاح کے وہ ایک ساتھ رہیں اور جب ان کا جی بھر جائے، ایک دوسرے سے علیٰحدہ ہوجائیں اور اپنی اپنی راہ لیں۔ لیکن اصل وجوہات کچھ اور ہوسکتی ہیں۔ جن میں نکاح پر آنے والی بھاری لاگت، لڑکی والوں کے غیرضروری مطالبات اور لڑکے کی وہ پوزیشن نہ ہونا ہے جسے بنانے میں عمر بیت جائے پھر بھی شاید ہی بنے۔

اور اس تمام خواری کے بعد بھی گھر والوں کی چُنیدہ ایک سڑی ہوئی بیوی اس کے متھے ماردی جائے جو دن رات کم آمدن کا رونا روئے اور فرمائشوں کی فہرست تھماتی ہو تو وطن عزیز کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اکانومی کلاس کے ڈیروں کا رخ کرکے وقتی تسکین حاصل کرلیتی ہے اور کچھ روز تک اس مسئلے کو بھول جاتی ہے۔ جس کے برعکس خواتین کے لیے ”کُنڈا“ لگا کر گزارا کرنے کا اس نوعیت کا کوئی نظام موجود نہیں، اس لئے مجبوراً یا رضامندی سے وہ بھی من چاہے مردوں کے ساتھ بغیر نکاح جنسی تعلق بنائے رکھنے کو جائز خیال کرتی ہیں۔ یہ رجحان شادی شدہ افراد میں بھی پایا گیا ہے مگر دوسرا طبقہ اس دلدل میں زیادہ دھنسا ہوا ہے۔

ہمارا خاندان اور محفوظ طریقہ مباشرت ہی ہمیں حیوانوں سے جدا کرتا ہے۔ انسانوں میں جولوگ اپنے تعلقات کو صرف جنسی جذبہ کی تسکین تک محدود کرلیتے ہیں اور خاندان کی تشکیل اوراپنی نسل کی پرورش و نگہ داشت سے کوئی سروکار نہیں رکھتے، وہ حقیقت میں خود کو انسانیت کے بلند مرتبے سے حیوانیت کے پست درجے میں گرالیتے ہیں۔ جس میں نقصان سراسر عورت کا ہے مرد کا کام اصلاً صرف تخم ریزی ہے۔ جنسی تعلق قائم کرکے وہ الگ ہوجاتا ہے، آگے کے تمام مراحل عورت کو تنہا سر انجام دینے پڑتے ہیں۔ اس لیے دانش مندی کا تقاضا ہے کہ اس سے احتراز کیا جائے اور اس رجحان کو ختم کرنے کی تدابیر اختیار کی جائیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں