ٓآگ تکفیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیں


mujahid aliاللہ کے یہ سپاہی اللہ کا قانون نافذ کرنے نکلے ہیں۔

اعلان ہوتا ہے:

اب ہم سپاہیوں کا اور فوج کا مقابلہ نہیں کریں گے۔ اب ہم ان ٹھکانوں پر حملہ آور نہیں ہوں گے جہاں پسپائی ہمارا مقدر ہو بلکہ اب ہم درس گاہوں ، اسکولوں اور یونیورسٹیوں کو نشانہ بنائیں گے۔ یہی ادارے فوجی افسر، سیاستدان اور قانون دان پیدا کرتے ہیں جو اللہ کے اختیار اور قانون کو چیلنج کرتے ہیں۔

یہ کون سے اللہ کے ماننے والے ہیں جو انہیں کمزوروں پر حملہ کرنے اور نونہالوں کو روندنے کا حکم دیتا ہے اور یہ جہالت کے پتلے ان شیطانی اقدامات کی بدولت اس جنت کی آس بھی لگائے بیٹھے ہیں جہاں بہتّر حوریں، دودھ اور شہد کی نہریں ، شراب طہورہ اور اونچے ایوانوں والے محل ان کے منتظر ہیں۔

پوچھو ان سے:

کیا تمہیں یقین ہے کہ اللہ اور شیطان میں فرق کر سکتے ہو۔ یا گمرہی کے پیام کو نور کا پیغام قرار دے کر خود ایک ایسی جہنم کی طرف روانہ ہونے کی تیاری کر رہے ہو جہاں تمہاری روحیں کرب سے بلبلائیں گی اور تمہیں رحم نہیں ملے گا۔ معافی تو دور، تمہاری آواز بھی نہ سنی جائے گی۔ تب تمہاری بندوقوں کا بارود خاموش ہو گا اور تمہارے سینے اس آگ سے بھر دئیے جائیں گے جو تم بستے گھروں ، کھلکھلاتے بچوں سے بھرے اسکولوں اور شاد آباد بستیوں میں جھونک کر خود اپنے لئے ٹھنڈی میٹھی ابدی زندگی کی امید لگائے بیٹھے تھے۔

تب تم تلاش کرو گے۔ اس استاد کو جس نے قرآن سامنے رکھ کر تمہیں شیطان کے راستے پر چلنا سکھایا تھا۔ اس رہنما کو جو اللہ کی رحمت کے نام پر تمہیں کفر بکنے اور تباہی کے راستے پر چلنے کی تربیت دیتا تھا۔ ان ملاﺅں اور مفتیوں کو جو تمہیں گمراہ کرنے میں قرآن و سنت سے حوالے نکال نکال کر ہلکان ہوئے جاتے تھے۔

تم پکارو گے مگر سننے والا کوئی نہ ہو گا۔

معافی مانگو گے مگر اس کا امکان نہ ہو گا۔

کہو گے ہمیں دھوکہ دیا گیا۔ اے پروردگار ہم سے تیرے نام پر ظلم کروایا گیا۔ ہم کہاں اس راستے پر چلنے والے تھے۔ ہمیں تو کھینچ کر یہاں تک لایا گیا۔

تم نے جسموں کے جلنے اور لاشوں کے گرنے کا منظر ضرور دیکھا ہو گا لیکن کبھی روح کو مسلسل عذاب میں نہ دیکھا ہو گا۔ کیوں کہ تمہیں گریبان میں جھانکنے کی توفیق سے محروم کر دیا گیا ہے۔

دیکھو اپنے اندر۔ یہ کون سی آگ ہے جو تمہیں جلاتی ہے لیکن تم جلتے نہیں۔ تم مرنا چاہتے ہو مگر تم مر نہیں سکتے۔ تم اسے خواب سمجھتے ہو۔ یہ حقیقت ہے۔ تم بے آواز ہو کہ تمہاری آواز تمہارے حلق میں دفن کر دی گئی ہے۔

کیا سمجھتے تھے کہ خدا صرف تمہارا ہے۔ کون تھا جس نے تمہیں استحقاق دیا کہ تم پیدا کرنے والے پر حق ملکیت کا اعلان کرو اور پھر اس کفر کی ترویج کے لئے ہر اس حد سے گزر جاﺅ جو اس رب نے اپنی مخلوق کے لئے مقرر کی ہے، جس نے زندگی کی لذت اور تازگی سے اسے روشناس کروایا ہے۔

یاد کرو جب تمہاری ماں نے تمہیں محنت مزدوری کے لئے شہر بھیجتے ہوئے تمہارے بازو پر امام ضامن باندھا تھا اور تمہارے کان میں کہا تھا: ’سب کا بھلا چاہنا۔ بھلا کرنا۔ دوسرے بھی تمہارا بھلا کریں گے۔‘

اور وہ دن بھی یاد کرو جب ماں کی بیماری کا سن کر تم اس سے ملنے گاﺅں گئے تھے تو تمہاری چھوٹی بہن نے تمہیں گھر کے آنگن میں روکتے ہوئے تم سے کہا تھا کہ ماں تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتی۔ وہ کہتی ہے تمہارے ہاتھ خون سے رنگے ہیں۔ تم اس کی اولاد نہیں ہو سکتے۔

تم تڑپتے رہے اور ماں نے آخری سسکی لی۔ جب تم نے اس کے مردہ چہرے پر آخری نگاہ ڈالی تو تمہارا مردہ ضمیر ان موندی ہوئی آنکھوں کا سامنا ہی نہیں کر سکا۔ تم ماں کے جنازے کو کاندھا دئیے بغیر واپس چلے آئے۔

پھر شیطان نے ایک نورانی چہرے کا روپ دھارا اور حجرے میں تمہارے پاس آیا۔

” پریشان ہو “

” نہیں۔ بس ماں نے مرنے سے پہلے ملنے سے انکار کر دیا۔ آخر میں نے ایسا کیا کیا کہ وہ ناراض ہو گئی۔ میں نے تو اللہ کی رضا کے لئے ہی ہر اقدام اٹھایا ہے۔“

”بے شک میرے بچے۔ یہی تو مومن کا امتحان ہے۔ جو اس تپش سے نہیں گزرتا، وہ کندن نہیں بنتا۔ خدا اپنی راہ میں چلنے والوں کو امتحان کے بغیر نہیں چنتا اور تم پہلے ہی امتحان میں شکست خوردہ نظر آتے ہو۔ کیا تم اپنے پیدا کرنے والے کو مایوس کرو گے۔“

”نہیں “ تم نے بے ساختہ کہا کیوں کہ تمہاری عقل پر پتھر اور تمہارے قلب پر تالے لگ چکے تھے۔

تم نہ دیکھ سکے کہ جس نے تمہیں جنم دیا وہ تمہاری صورت دیکھے بغیر مر گئی اور اس کے مردہ چہرے پر تمہارے لئے ایسی حقارت تھی کہ تم اس کی شدت کا سامنا نہ کر سکے۔ لیکن اس صوفی نما شیطان کی باتوں کو تم نے راہ راست سمجھا۔ گمراہی کے سفر پر روانہ ہوئے جو

ہر مرحلے پر تمہیں اپنے خدا اور خود اپنے آپ سے دور لے جا رہا ہے۔

اب بھگتو۔ یہ آگ ہی تمہارا مقدر ہے۔ یہ اسی بارود سے تیار کی گئی ہے جو تم ان معصوموں کے سینے میں اتارتے رہے ہو جو دنیا میں نغمے بکھیرنا چاہتے تھے۔ جو خوشیاں بانٹنا اور سمیٹا چاہتے تھے۔ جو امید تھے اور جو ایک سنہرے مستقبل کا ایسا خوب تھے جو رب کریم نے انسانوں کی بھلائی کے لئے اس دنیا میں اتارا تھا۔

تم نے وہ خواب چکنا چور کیا۔

لیکن تم بھول گئے کہ خواب ٹوٹتے نہیں ہیں۔ تم سمجھتے ہو تم نے انہیں توڑ دیا۔

یہ خواب تو خوشبو کی طرح ہوتے ہیں۔ ایک پھول مرجھائے تو دوسرا مہکنے لگتا ہے۔ یہ تو پورا باغ ہے۔ اس کو آباد کرنے کا وعدہ اس اللہ نے کیا ہے جس کے نام پر تم نے بندوق اٹھائی اور بم جسم سے باندھے ہیں۔

وہ دیکھو وہ سارے اٹھکیلیاں کرتے ہیں۔ وہ اس بات سے بے نیاز ہیں کہ تم موت کے سوداگر ہو۔ انہیں اس بات کا یقین ہے کہ وہ زندگی کے پیامبر ہیں۔

زندگی بڑھنے ، پنپنے ، ابھرنے ، آگے بڑھنے کا نام ہے۔

زندگی ایک پیغام ہے۔

ہمت ، حوصلے اور جیتنے کا۔

اس جیت میں کسی کی ہار نہیں ہوتی۔ یہ سب کی کامیابی ہے۔ زندگی موت سے مقابلہ نہیں کرتی۔ موت فرد کو گھیرتی اور اسے ہلاک کرتی ہے۔ زندگی چمن کو حیات نو عطا کرتی ہے۔

تم جن درسگاہوں کو نیست و نابود کرنا چاہتے ہو، وہ زندگی کی علامت ہیں۔ تم دیواریں گرا دو گے۔ آنگن میں بم پھوڑ کر خاک اڑا لو گے۔ چند بچوں ، نوجوانوں یا ان کے استادوں کو نشانہ بنا لو گے۔

تم نے دیکھا نہیں، ایک گرتا ہے تو دس اس کی جگہ لینے کے لئے موجود ہوتے ہیں۔ تم کہاں تک مارو گے۔

یہ آگ جو تمہارے سینوں میں دھری ہے یہ تمہارے اعمال کا پھل ہے۔ یہ تمہیں خاکستر کئے دیتی ہے۔ تم زندہ لاشیں ہو۔ تم ان سوداگروں کے گوداموں کا سرمایہ ہو جو شیطان کی حیوانیت عام کرنا چاہتے ہیں۔ وہ حشر بپا کر کے اللہ کو بتانا چاہتے ہیں۔

مٹی سے بنے آدم کو سجدہ نہ کرنے کی پاداش میں جنت بدر ہونے والا فرشتوں کا سردار خدا کی اس زمین پر انسان کو بھی چین سے نہیں رہنے دے گا۔

تم تو ان کے ہاتھ میں مہرہ ہو۔

یہ جنگ اللہ کا حکم نافذ کرنے کے لئے نہیں ہے۔

یہ معرکہ اللہ کی نافرمانی کو درست ثابت کرنے کی احمقانہ کوشش ہے۔

تم اس میں کیسے کامیاب ہو سکو گے!


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 413 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali