مفتی پوپلزئی ایک بار پھر جیت گئے


\"adnan-khan-kakar-mukalima-3b4\"

اس مرتبہ کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ مسجد قاسم خان پشاور کے مفتی پوپلزئی عمرہ کرنے سعودی عرب چلے گئے۔ پشاور کے گرد و نواح کے چاند شناس شاید صرف انہیں کو چاند کے بارے میں بتاتے ہیں اور لاہور کے لوگ ایک دن عید پہلے کرنے پر پشاور والوں کا ٹھٹھا اڑاتے ہیں۔ مفتی پوپلزئی ملک میں نہیں ہیں تو اس مرتبہ پشاور میں باقی ملک سے ایک دن قبل چاند بروقت نہیں نکل پایا۔ بھارت کے جامع مسجد دہلی کے امام نے اعلان کیا کہ وہاں کل روزہ ہے اور بنگلہ دیشیوں نے بھی یہی کہا۔

لیکن نہیں حضرات، پشاور میں مفتی پوپلزئی نہیں ہیں تو کیا ہوا۔ ہم لاہوری بھلا کسی سے کم ہیں؟ ساری دنیا کو ایک آنکھ سے دیکھنے والے سکھ مہاراجہ رنجیت سنگھ کا یہ دارالحکومت بھلا پشاور سے ہیٹا پڑتا ہے؟ پشاور نے چاند نہیں دیکھا تو بریکنگ نیوز ٹی وی کو لاہور کے جوہر ٹاؤن سے ایک میجر صاحب نے بتایا کہ ان کو چاند نظر آ گیا ہے، بلکہ ان کی اہلیہ محترمہ، اور بال بچوں نے بھی اسے پورے دس بارہ سیکنڈ تک دیکھا ہے۔ وہیں سے کسی اور نے بھی ایسی گواہی دے دی۔ بروقت ایک ایسا دوربین گواہ اور مل جاتا تو بس سب کی تو اسی وقت عید ہی ہو جاتی۔

میڈیا بھی بتاتا رہا کہ علاقہ دیر سے پانچ لیوی اہلکاروں نے بھی چاند دیکھنے کی گواہی دے دی ہے۔ خواتین و حضرات اب تو بات پکی ہو گئی۔ یعنی ایک بڑے صاحب کی گواہی آ گئی اور پانچ چھوٹے صاحبوں کی، تو ان کی گواہی کو بھلا کون جھٹلا سکتا ہے؟ ہم نے تو عید کی تیاری بھی کر لی تھی اور صابن سے منہ بھی دھو لیا تھا تاکہ چاند سا مکھڑا نکل آئے۔

\"moon2\"

اتنے میں غلغلہ اٹھا کہ مفتی منیب الرحمان پریس کانفرنس کرنے آ رہے ہیں۔ ہم دل کڑا کر کے ٹی وی کے سامنے بیٹھ گئے کہ جانے کیسی خبر آئے گی۔ مفتی صاحب تشریف لائے تو ان کے چہرے سے اندازہ ہوا کہ خیر نہیں ہے۔ آتے ہی برس پڑے کہ میڈیا یہ گواہیوں کی جھوٹی خبریں کیوں چلا رہا ہے۔ سب چیئرمین بنے پھرتے ہیں۔ گواہی کے موصول ہونے کی اطلاع صرف چیئرمین دے سکتا ہے اور کوئی گواہی موصول نہیں ہوئی۔

اس پر میڈیا والوں نے کہا کہ آپ کے دائیں ہاتھ پر جو اوقاف کا فون والا شخص بیٹھا ہوا ہے، یہ گواہیاں وصول کرتا ہے اور گواہی لکھتے ہی ہمیں بتا رہا ہے۔ اس پر مفتی صاحب مزید غصے میں آ گئے، اور اس شخص سے فون جھپٹ کر اس کی تار کھینچ ڈالی۔ شاید ان کو غصہ آ رہا ہو گا کہ لاہور کی اونچی ترین عمارت پر توپ جتنی بڑی دوربین لے کر ان کی کمیٹی اور ماہرین موسمیات بیٹھے رہے ہیں، لیکن لاہور کا چاند نظر آیا ہے تو ان سے محض چند کلومیٹر دور اپنے ایک دو منزلہ مکان کی چھت پر بیٹھے ایک میجر صاحب کو جن کے پاس کھلونا دوربین تک نہیں تھی۔ بعد میں مولانا خبیر نے بتایا کہ اس کمرے میں فون نہیں ہونا چاہیے تھا اس لیے مفتی منیب نے اسے توڑ کر ہٹا دیا۔

\"moon1\"

ویسے میجر صاب بھی کروڑوں میں ایک نکلے۔ ایک کروڑ سے اوپر کی آبادی میں سے صرف دو لاہوریوں کو مبینہ طور پر یہ چاند نظر آیا۔ ہم باقی سب لاہوری تو رویت ہلال کمیٹی جیسے ہی نکلے، ہزار کوشش کے باوجود چاند کو نہ دیکھ پائے۔ بہرحال مفتی منیب صاحب فون کو توڑ کر اور چاند کی گواہی موصول نہ ہونے کی اطلاع دیکھ کر واپس چلے گئے۔

اس پر ایک چینل پر ایک شادی اور کئی نکاح سے شہرت پانے والے مفتی عبدالقوی تشریف لائے جو کہ رویت ہلال کمیٹی کے حال ہی میں معزول شدہ ممبر ہیں۔ وہ غصے میں تھے اور انہوں نے اعلان کیا کہ یہ کمیٹی ٹھیک نہیں ہے، اس میں جرات نہیں ہے، اگر میں کمیٹی میں ہوتا تو چاند نکال کر کل عید کر دیتا۔ ہمیں مفتی عبدالقوی کی بات پر کچھ شبہ ہی رہتا ہے کیونکہ وہ خوش جمال شخص ہیں اور کسی بلب یا قندیل کو دیکھ کر بھی اسے عید کا چاند قرار دے سکتے ہیں۔

اسی اثنا میں محکمہ موسمیات نے اعلان کر دیا کہ اب چاند نظر نہیں آئے گا۔ دوسری طرف قبائلی علاقوں میں عید کا اعلان کر دیا گیا۔ اس کے گھنٹہ بھر بعد مفتی منیب دوبارہ ٹی وی پر تشریف لائے اور انہوں نے ملک بھر کو بتایا کہ ملک کے ایک سرے سے دوسرے تک ہر جگہ ہی چاند نظر آ گیا ہے۔ لیکن غضب تو یہ ہوا کہ چینلوں نے ان دس منٹوں میں جب وہ اپنی کمیٹی کے ناموں سے قوم کو آگاہ کر رہے تھے، ان سے پہلے ہی عید کا اعلان کر دیا۔ یعنی گھوڑے نے ایک مرتبہ پھر پہلے پھونک مار دی اور مفتی منیب کھولتے ہی رہ گئے۔

\"popalzai\"

بخدا اب تو ہمیں بھی مفتی پوپلزئی اچھے لگنے لگے ہیں۔ وہ اتنے کنفیوز تو نہیں ہیں۔ جس بات کو سچ جانتے ہیں، وہ اسی وقت دھڑلے سے بیان کر دیتے ہیں۔ رات دس گیارہ بجے تک انتظار نہیں کرتے ہیں۔

لیکن روایت بہرحال وہی رہی ہے یعنی پہلے قبائلی علاقوں اور پشاور میں کابل، یعنی سعودی عرب کے ساتھ عید منائی جاتی تھی، اس مرتبہ مفتی منیب کو مفتی پوپلزئی کی آہ لگی ہے۔ مفتی پوپلزئی نے حرم پاک میں بیٹھ کر نہ جانے کیا دعا مانگی ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان میں ایک ہی دن عید ہو رہی ہے۔ وہاں سعودی عرب میں تیس دن کا رمضان ہوا ہے اور یہاں پاکستان میں انتیس دن کا۔ ماہرین اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ سعودی عرب میں مغرب سے پہلے ہی چاند غروب ہو گیا تھا اس لیے فقہ کے مطابق اسے عید کا چاند نہیں سمجھا جا سکتا ہے۔

مفتی پوپلزئی پھر جیت گئے۔ عید مبارک ہو اہل وطن۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 632 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar