مجاہد اسلام کے مجاہدین اسلام


\"mujahid

ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ مغربی دنیا نے مسلم ممالک کو اپنے ہی خنجر سے خودکشی کرنے کے لیے آزاد چھوڑدیا ہے۔ اگر آپ تھوڑی دیر کے لیے تلملانا موقوف کریں اور مجھے اپنی بات پوری کرنے دیں تو میں آسانی سے کہہ سکتا ہوں کہ مسلم ممالک نے اپنی نوجوان نسل کی جس طرح پرورش کی ہے اور بیرونی دنیا کے بارے میں جس طرح کا سبق نوجوانوں کو پڑھایا گیا ہے،  وہ بار آور ہوا ہی چاہتا ہے۔ تقریباً تمام معلوم مسلم ممالک میں نوجوانوں کی بڑی تعداد اپنے اپنے مقامی دہشت گردوں اور انتہا پسندوں سے جڑ چکی ہے۔ اگر کہیں پر نوجوان مسلم نسل اور دہشت گردوں میں کوئی فاصلہ ہے تو سوشل میڈیا اس حوالے سے نہایت ’کارآمد‘ کردار ادا کر رہا ہے،  کچھ عرصے کے بعد یہ فاصلے بھی سمٹ جائیں گے۔ بہت زیادہ وقت نہیں گزرا کہ دنیا نے دیکھا کس طرح مغربی ممالک میں صرف چند ماہ میں دس ہزار سے زائد تعلیم یافتہ نوجوانوں نے شام میں بشار حکومت کا تختہ اُلٹنے کے لیے سوشل میڈیا کی مدد لی اور ہزاروں ٹویٹر اور فیس بک اکاونٹس کی مدد سے خودکش جہادیوں کی ایک پوری فوج اکٹھی کر لی، بہت سے عرب نوجوانوں نے ملازمتیں ترک کر کے اپنے خاندانوں کو ساتھ لیا اور شام کی طرف چل پڑے۔ سوشل میڈیا کی مدد سے جمع ہوئے یہ مجاہدین بہت تھوڑے عرصے میں ہزاروں افراد کو ذبح کرچکے ہیں، لاکھوں خاندانوں کو بے گھر کر چکے ہیں جب کہ اربوں ڈالر خرچ کر کے مغربی ممالک اِن کو شام، عراق اور لیبیا سے نکال دینے کے لیے جدید طیارے استعمال کر رہے ہیں۔ اِن کے ساتھی آج پاکستان سے لے کر بنگلہ دیش تک میں قتل وغارت کررہے ہیں اور آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ اِنہیں روک دینا متذبذب حکومتوں کے لیے آسان نہیں۔ ترکی سے لے کر سعودی عرب تک اِن خودکش بمباروں کے نشانے پر ہیں اور جن بادشاہتوں نے اِن نوجوانوں کی شام اور عراق میں مدد کی تاکہ روایتی دشمنوں کو ناکوں چنے چبوائے جا سکیں یہ اب خود اِن کے لیے لوہے کے چنے ثابت ہو رہے ہیں۔

آئیے تھوڑی دیر کے لیے پاکستانی نوجوان نسل اور مقامی دہشت گردوں و انتہاپسندوں کے باہمی روابط اور اس کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں۔ اس میں کوئی دو آرا نہیں کہ آج پاکستانی نوجوان کے ذہن میں افغانستان اور کشمیر کے حوالے سے سوائے اس کے کچھ نہیں کہ اِن دو مقامات پر کفر اور اسلام کی جنگیں لڑی جارہی ہیں۔ نہ یہ نوجوان کشمیر کی سیاسی تاریخ اور کشمیر میں بسے لوگوں کی روایات سے واقف ہیں اور نہ ہی اِنہیں معلوم ہے کہ ہر وقت برسر پیکار افغان کب کس کے لیے لڑ رہے تھے اور افغان جنگ کے تین عشروں میں کس کی گردن کس لیے کاٹی گئی۔ دوعشرے پہلے ایسا کونسا انقلاب آرہا تھا جس کے لیے جماعت اسلامی اور پاکستان کی دوسری مذہبی جماعتیں واشنگٹن سے بھاری مالی امداد حاصل کرکے نہ صرف نوجوانوں کو تعلیمی اداروں میں سے نکال کر افغانستان کے محاذوں پر شہید ہونے کے لیے بھیجتی تھیں بلکہ اِن کے اشاعت گھروں میں سی آئی اے کی بدولت جہاد افغانستان کے فیوض و برکات کی تشریخ کے لیے لاکھوں صفحات روزانہ شائع ہوتے تھے۔ آج یہ انقلابی صفحہ پلٹ چکا ہے اور شہادت کے حصول کے لیے امریکہ سے لڑنا افضل جہاد کے زمرے میں کیوں شمار ہونے لگا ہے؟ کشمیر جو کامل طور پر ایک سیاسی مسئلہ تھا اِس میں کفر و اسلام کی جنگ کا تصور کس طرح شامل کیا گیا اور آج کیوں کشمیری ایک مرتبہ پھر تنہا  کھڑے ہیں اور اِن کو قربان کرنے والے اربوں روپیہ کمانے کے بعد پُرآسائش زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں؟ تیسرا سبق جو اِن تین پُر آشوب عشروں میں پاکستانی نوجوان کو ازبر کروایا گیا وہ ہے مقامی سطح پر ’تطہیر‘ کا کامل تصور کہ کس طرح پاکستان میں موجود اقلیتوں اور دوسرے مسالک کو کھدیڑ کر ایک یکسو اور یک سوچ بے لچک’مسلم معاشرے‘ کی ترتیب نو کرنا ہے۔

آج ہمارے مذہبی دانش وروں کو پھر افغانستان کی طر ف سے خوشبو آ رہی ہے اور کشمیر کی گھاٹیوں سے غزوہ ہند کے لیے لشکر خراسان کے گھوڑوں کی ٹاپیں سنائی دے رہی ہیں۔ اگرچہ اب اِنہیں عراق، شام، ترکی اور سعودی عرب میں بے گناہ مارے جانے والوں کے خون کی بساند نے تھوڑا پریشان کرنا شروع کردیا ہے لیکن ’آخری فتح حق کی ہوگی‘ کے تاریخی فقرے سے ابھی اِنہیں بہت سے اُمیدیں وابستہ ہیں۔ پہلی مرتبہ اِنہیں شہیدوں کے خون کی خوشبو آنا اور لشکر خراسان کے گھوڑوں کی ٹاپیں اُس وقت سنائی دینا شروع کیں جب آج سے ٹھیک اُنتالیس سال پہلے یہی ماہ مبارک یعنی جولائی کا پہلا ہفتہ اور پانچ تاریخ تھی کہ پاکستان کے فوجی ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں ایک مجاہد اسلام  بیدار ہوا، جس نے استخارہ کرنے کے بعدایک سویلین حکومت کا تختہ اُلٹ کر نفل ادا کیے اور قرآن شریف پر قسم اُٹھا کر یہ وعدہ کیا کہ وہ وطن عزیز میں نوے دن کے اندر اندر شفاف انتخابات منعقد کرواکے اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کو سونپ دے گا اور فوج واپس بیرکوں میں چلی جائے گی۔ یہ مجاہد اسلام جو اس سے پہلے بیت المقدس میں نوافل ادا کرنے کے علاوہ اردن میں فلسطینیوں کو سبق سکھاچکا تھا بعد میں بھی گیارہ سال تک مسجد نبوی اور خانہ کعبہ میں نوافل ادا کرتا رہا لیکن نہ اس نے شفاف انتخابات کا وعدہ پورا کیا اور نہ ہی اپنی اندوہ ناک موت تک اقتدار چھوڑنے پر رضا مند ہوا۔ اگرچہ مجاہد اسلام کسی صورت اقتدار چھوڑنے کو تیار نہیں تھا لیکن اندرونی سازشوں اور بعض ذرائع کی فراہم کی ہوئی خبروں کے مطابق کافر دنیا کے لیے جہاد افغانستان کا یہ ناپسندیدہ ہیرو اپنے ملک میں انتہا پسندی، فرقہ واریت اورکئی توانا امراض کو پیچھے چھوڑ کر بہاول پور کے قریب بقول صدر غلام اسحاق خان’ہوا میں پھٹ گیا‘ اس واقعے کو تین عشرے ہو رہے ہیں اور اب مجاہد اسلام کے مزار پر کوئی دعا پڑھنے کو تیار نہیں لیکن اس کی کاوشوں سے جنم لینے والے مجاہدین اسلام نے نہ صرف ریاست پاکستان بلکہ پوری دنیا کو یرغمال بنا رکھا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔