فرموداتِ عمران اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت – ناقابل اشاعت کالم

عمران خان نے جس نئے پاکستان کا خواب دیکھا اور پھر طویل سیاسی جدوجہد کے بعد اس کی بنیاد رکھی، اس کا بنیادی فلسفہ ہی یہی تھا کہ سیاست اور کاروبار ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ بانی نیا پاکستان قوم کوغیر مبہم انداز میں لاتعداد مرتبہ یہ بتاچکے ہیں کہ اقتدار کے ذریعے ذاتی کاروبار کو فروغ دینا کرپشن کی بدترین شکل ہے اس لئے کاروباری شخصیات کے سیاست میں آنے پر پابندی ہونی چاہیے۔ (ملاحظہ فرمائیں 16 نومبر 2015 ء کو میانوالی میں بلدیاتی انتخابات کے سلسلہ میں کی گئی تقریر) جب انہوں نے یہ بات کی تب بھی ناقدین نے یہ طنز آمیز سوال اٹھایا کہ اعظم سواتی، جہانگیر ترین، عبدالعلیم خان اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنما کیا نمازیوں کے لئے ٹوپیاں بنا کر گھر کا چولہا جلاتے ہیں؟

مگر کپتان کے چاہنے والوں کا حسنِ ظن یہ تھا کہ اقتدار میں آنے کے لئے ایسے امیر ترین لوگوں کا تعاون ناگزیر ہے مگر ایک مرتبہ نیا پاکستان بن جانے کے بعد عمران خان کسی اصول پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ پی ٹی آئی مرکز کے بعد پنجاب میں بھی حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی تو ہم جیسے صحافی اس ادھیڑ بن میں تھے کہ ذاتی اور ملکی مفاد کے ٹکراؤ سے بچنے کے لئے کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا؟ کیا کاروباری شخصیات کو سرے سے کوئی عہدہ ہی نہیں دیا جائے گا یا پھر یہ لوگ اپنی فیکٹریوں، ملوں اور کمپنیوں کو فی سبیل اللہ وقف کر دیں گے؟

بعض لوگوں کا خیال تھا کہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے بظاہر کاروباری عہدے چھوڑ دیے جائیں گے۔ مجموعی طور پر تو کسی نے اس طرف دھیان ہی نہ دیا البتہ پنجاب کے سینئروزیر عبدالعلیم خان نے سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہ کیا کہ وہ حلف اٹھانے سے پہلے تمام کاروباری منصوبوں سے الگ ہو رہے ہیں۔ میرا خیال تھا کہ وہ ہتھیلی پر سرسوں جمانے کے لئے اپنی بیوی، بچوں، کسی قریبی عزیز یا ذاتی ملازم کو ان کمپنیوں کا سربراہ بنادیں گے لیکن تادم تحریر 43 کمپنیوں کے معاملات حسب سابق ان ہی کے ہاتھ میں ہیں۔

لیکن اگر انہوں نے بظاہر یہ عہدے چھوڑ بھی دیے ہوتے تو اس سے کیا فرق پڑتا؟ کیا ان کے اثر و رسوخ سے کاروبار پھلنے پھولنے کا سلسلہ رُک جاتا یا پھر اس سے حاصل ہونے والی آمدن اور منافع سے انہیں کوئی سروکار نہ رہتا؟ کیا یہ محض اتفاق ہی ہے کہ عبدالعلیم خان کی لمیٹڈ کمپنی کا اسلام آباد میں ایک رہائشی منصوبہ جسے سی ڈی اے نے غیر قانونی قرار دیا تھا، مسلم لیگ (ن) کی حکومت جاتے ہی اس کا لے آؤٹ پلان منظور کرلیا گیا؟

یہ سلسلہ محض عبدالعلیم خان تک ہی محدود نہیں بلکہ وفاقی اور صوبائی کابینہ میں شامل تمام افراد حکومت میں رہتے ہوئے کاروبار کرکے بقول عمران خان کرپشن کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر صوبہ جنوبی پنجاب محاذ کے نام پر سیاست کرنے والے وفاقی وزیر خسرو بختیار کی نہ صرف اپنی شوگرملیں ہیں بلکہ وہ چند ایک کاروباری منصوبوں میں جہانگیر ترین کے پارٹنر بھی ہیں۔ غلام سرور خان کے پاس پیٹرولیم کی وزارت ہے اور ان کے اپنے پیٹرول پمپ اور سی این جی اسٹیشن ہیں۔

مفادات کے ٹکراؤ کی بہترین مثال چند روز قبل تب دیکھنے کو ملی جب وزیراعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد کی کمپنی کو مہمند ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ دیدیا گیا۔ اگر آپ کی یادداشت زیادہ کمزور نہیں تو یاد ہوگا کہ موصوف نے چند ماہ قبل پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر تنقید ی بیان دے کر حکومتِ پاکستان کو مشکلات میں ڈال دیا تھا اور پھر عسکری و سیاسی قیادت کو بذات خود چین جا کر یقین دہانی کروانا پڑی کہ سی پیک سے جڑے منصوبوں میں کسی قسم کا کوئی ردو بدل نہیں کیا جائے گا۔

وزیراعظم کے مشیر نے ملکی مفادات کے برعکس بیان کیوں دیا؟ یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے لیکن پہلے مہمند ڈیم منصوبے کے ٹھیکے پر بات کر لی جائے۔ ان کی طرف سے اپنے دفاع میں ایک بات تو یہ کہی جا سکتی ہے کہ میں نے مشیر بنتے ہی کاروباری ذمہ داریوں سے خود کو الگ کرکے اپنے بیٹے تیمور داؤد کو سی ای او بنا دیا تھا لہٰذا میراکاروباری معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔ مگر دِقت یہ ہے کہ اگر ان کا یہ استدلال درست تسلیم کرلیا جائے تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ نواز شریف بھی ان کی طرح بے قصور ہیں کیونکہ انہوں نے بھی تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے سے بہت پہلے خود کو شریف خاندان کے کاروباری معاملات سے الگ کر لیا تھا لیکن انہیں سزا دلوانے والے کہتے ہیں کہ چونکہ آپ کے بیٹے آپ کو پیسے بھیجتے ہیں اس لئے وہ دراصل آپ کے بے نامی دار ہیں اور یہ کمپنیاں آپ ہی کی ہیں۔

وزیراعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد کی کمپنی کو مہمند ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ دینے پر ہورہی تنقید کے جواب میں دوسری بات یہ کہی جا سکتی ہے کہ محولہ بالا کمپنی عالمی ساکھ کا حامل بڑاتعمیراتی ادارہ ہے جس نے سب سے کم بولی دی اور میرٹ پر اسے یہ ٹھیکہ دیدیا گیا تو اب اس میں مفادات کا ٹکراؤ کہاں سے آگیا؟ ممکن ہے یہ کمپنی واقعی بہت بڑی ہو اور یقیناًاس نے سب سے کم بولی بھی دی ہوگی لیکن سوال یہ ہے کہ 2013 ء سے 2018 ء تک سی پیک سے جڑے توانائی اور انفراسٹرکچر کے 6 بڑے منصوبوں پر کام کا آغاز ہوا، ان منصوبوں کی مجموعی مالیت کم و بیش 18 بلین ڈالر ہے یہ کیسا عجیب اتفاق ہے کہ ان پانچ سال کے دوران ”عالمی معیار“ کی حامل ”بڑی کمپنی“ کسی ایک منصوبے کا ٹھیکہ بھی حاصل نہ کر سکی لیکن جونہی عبدالرزاق داؤد وزیراعظم کے مشیر بنے تو 309 ارب کا منصوبہ پکے ہوئے پھل کی طرح ان کی جھولی میں آگرا؟ الزام لگانے والے تو کہہ سکتے ہیں کہ ممکن ہے سی پیک منصوبے سے موصوف کی ذاتی پرخاش کی وجہ بھی یہی ہو کہ ان کی کمپنی کو اس منصوبے میں کوئی ٹھیکہ دے کر حصہ دار کیوں نہیں بنایا گیا اور اب یہ ٹھیکہ دے کر ”رانجھا“ راضی کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔

ابھی تو تحریک انصاف کی حکومت کو محض چار ماہ ہوئے ہیں اور منصوبوں کی شفافیت اور میرٹ پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ تعیناتیوں اور تقرریوں میں بھی ”دوست پروری“ کا سلسلہ عروج پر ہے۔ ویسے ناقدین کے سیاپے سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ممکن ہو تو عوام کی رہنمائی کے لئے وزیراعظم سیکریٹریٹ سے وضاحت کر دی جائے کہ قیام نیا پاکستان سے پہلے کے ارشادات میں سے مفادات کے ٹکراؤ کے باعث کاروباری شخصیات کے سیاست میں آنے پر پابندی کی بات تاحال موثر ہے یا پھر یوٹرن پالیسی کے تحت اسے فرموداتِ قائد سے حذف کر دیا جائے؟

ویسے اس سے بھی بڑھیا بات تو یہ ہے کہ سوشل میڈیا ٹیم کے ذریعے فرموداتِ قائد کو لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹ کیا جاتا رہے، حلال اور حرام، جائز اور ناجائز کاموں کی فہرست حسبِ ضرورت تبدیل کی جاتی رہے تاکہ کوئی بدگمانی پیدا نہ ہو، کسی شرپسند ”پٹواری“ یا ”لفافہ صحافی“ کو تنقید کا موقع میسر نہ آئے اور یوں روز روز کی ”کِل کِل“ ختم ہو۔

کالم نگار روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں، ان سے فیس بک پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
www.facebook..com/b.ghauri