’ہم سب‘ کو مبارک ہو


haris azharچند روز قبل میں شب کے پہلے پہر میں فیس بک پر ادھر ادھر کی خبریں دیکھ رہا تھا، تھوڑی دیر کے بعد وجاہت مسعود کا سٹیٹس دیکھا جس میں انہوں نے کچھ وجوہات کے ساتھ ’دنیا پاکستان‘ کو چھوڑنے کے بارے میں اپنے قارئین کو مطلع کیا تھا۔ میرے فوری احساس میں حیرانی اور اداسی نمایاں تھی جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قلم کی دنیا میں میرا باقاعدہ تعارف وجاہت صاحب ہی کی بدولت ممکن ہوااور انہوں نے میری بھرپور حوصلہ افزائی کی۔گہری سوچ میں تھا کہ اچانک ایک نئی پوسٹ میرے سامنے آ گئی۔ یہ پوسٹ ایک بہت ہی مدّلل اور خوبصورت تحریر لکھنے والے جناب عدنان خان کاکڑ صاحب نے پبلش کی تھی ۔ اداسی کے در پر جیسے خوشی نے دستک د ے دی ہو، امسال کی بہت بڑی خوشخبری میری آنکھوں کے سامنے موجود تھی کہ بہت جلد اُردو کا ایک نیا الیکٹرونک پیپر(E-Paper) ’ہم سب‘ کے نام سے شروع کیا جا رہا ہے جس کے مدیر اعلیٰ جناب وجاہت مسعود صاحب ہیں اور دیگر لکھنے والوں کی فہرست میں اپنا نام پڑھ کے میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ فوراَََ ہی وجاہت صاحب کو مبارک باد دی اور مقام ِ شکر ادا کیا۔
یہ تحریر لکھنے کامقصد یہ ہے کہ میں جناب وجاہت صاحب اور ان کی تمام صلاحیتیوں سے مالا مال ٹیم کو مبارک باد پیش کروں ۔مجھے کامل یقین ہے کہ آپ کی زیر نگرانی یہ الیکٹرانک پیپر ابھی سے ترقی کی جانب گامزن ہو گیا ہے۔ ’ہم سب‘ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں مختلف الخیال لوگ اپنے تحریروں سے ناصرف اپنے قارئین کو محظوظ کریں گے بلکہ مختلف تحریروں کے ذریعے ایک زرخیز زمین کی آبیاری بھی ہو گی۔
2016 ء’ہم سب‘ کی اس خوبصورت خبر کے ساتھ آغاز کر رہا ہے اور میرا یقین ہے کہ یہ علم ،جستجو اور فکر کی نئی راہداریوں سے گزرتا ہوا بلندیوں سے بھی آگے کی سمت اپنا یہ خوبصورت سفر جاری رکھے گا۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “’ہم سب‘ کو مبارک ہو

  • 23-01-2016 at 11:35 am
    Permalink

    Many such electronic papers would disappear and reappear but the destiny of people would not change. Articles or anything which aim at changing the mindset with ultimate objective is to bring quality change in life, change bring justice, health care, education and progress. If that is not happening means are meaningless. This nation is living dead. No word can help them to listen. They need injection of few bucks every few months and they would sell anything including their respect and honour. They are happy. Don’t waste time. Write your words and be rewarded by governments if you want to live. Our judiciary is for sell. Our bureaucracy is for sell. Our parliament is for sell. Our think take is for sell. Our media is for sell. Everything is for sell.. Why not you

Comments are closed.