پسنی کے ساحل یا کچرا دان


سورج غروب ہونے میں ابھی دو گھنٹے باقی تھے۔ پہاڑ کے دامن میں واقع ”جڈی“ بیچ ایک دلکش منظر پیش کررہا تھا۔ سمندر کی موجیں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کررہے تھے۔ سمندر کے کنارے شام کا منظر بہت حسین تھا۔ لوگ انجوائے کے ساتھ ساحل کو گندہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے تھے۔ ہم بھی بے بسی کے عالم میں پسنی کے حسین سیاحتی مقام سے نکل کر شہر خموشاں کی طرف نکل چکے تھے۔ راستے میں اس وقت احساس ہوا جب ”جڈی“ اور ”ذرین“ کی طرف جانے والی لنک روڑ پر کچروں کی ڈھیر پر نظر پڑی۔

اپنی آنکھوں پر جب یقین نہیں آیا تو نظر کی عینک کو بار بار صاف کرنے سے پتہ چلا کہ ساحل کے عین قریب کچرے کے ڈھیر جمع کیے جارہے ہیں۔ لوگ شام کی خوبصورت موسم کو انجوائے کرنے کے لئے چہل قدمی کررہے تھے۔ آوارہ جانور کچروں کے ڈھیر میں خوراک تلاش کرنے میں مصروف تھے۔ کسی کو کوئی فکر نہیں تھا کہ بلدیہ پسنی شہر کے کوڑا کرکٹ کو کسی محفوظ جگہ پر تلف کرنے کی بجائے ساحل سے چند میٹر دور جمع کر کے اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھا رہا ہے۔ وہی بلدیہ جو چند ماہ پہلے ساحل کے بالکل قریب کچرے جمع کرتا تھا۔

ایک طرف کچرے کی ڈھیر سے بدبو آرہی تھی تو دوسری طرف تیز ہواؤں سے یہ کچرے سمندر میں مکس ہو رہے تھے۔ پھر خیال آیا کہ شاید ہم جیسے بے حس لوگوں کو یہ احساس تک نہیں کہ اس وقت دنیا میں آبی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ پلاسٹک کے ون ٹائم یوز تھیلے ہیں۔ جو کہ حل پزیر نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن رہے ہیں، بلکہ آبی حیات کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہورہے ہیں۔ پھر خیال آیا ہے کہ کیا پورے پسنی میں کوئی ایسا جگہ نہیں ہے جہاں شہر کے کوڑا کرکٹ کو جمع کرکے تلف کیا جاسکے؟

پھر سوچتے سوچتے احساس ہوگیا کہ جن کی ذمہ اس شہر کو گرین سٹی بنانا نہیں مگر شہر کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لئے کوڑا کرکٹ کو محفوظ جگہ پر تلف کرنا ہو، اور وہی ادارہ اس شہر کے حسین ساحل کو کچرہ دان بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا ہے۔ تو پھر کس سے توقع رکھیں۔

گھر پہنچ کر چائے کی چسکیاں لینے کے ساتھ ساتھ موبائیل سے وٹس ایپ پیغامات چیک کرنے لگا، تو شہر کے وٹس ایپ گروپس میں سیاسی الزامات جاری تھے۔ ایمانداری کے سرٹیفیکٹ بانٹے جارہے تھے۔ بلوچستان کے واحد قومی جماعت کی ترجمانی کے دعوے ہو رہے تھے۔ خود قاضی اور منصف ہو کر فیصلے صادر کیے جارہے تھے۔ انا پرستی، بغض اور ہیروازم عروج پر تھا۔ مفاد پرستی کے الزام لگ رہے تھے۔ سیاست کے الف اور ب سے ناواقف لوگ ارسطو، افلاطون، سقراط اور بقراط جیسے فلاسفر بنے ہوئے تھے۔

انہی سوچوں سے نکل کر احساس ہوا کہ یہاں کسی کو ساحل کی فکر نہیں بلکہ اپنی سیاسی دکانداری کو چمکانا ان کی سیاست کا محور ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں