کاشتکار وزیراعظم: اہلیت نہیں تھی، تو زمین کا مزارع بننے کی ضرورت کیا تھی؟


میرا تعلق سرائیکی وسیب کے دیہاتی پس منظر سے ہے۔ یہاں زیادہ تر افراد کا پیشہ کھیتی باڑی ہے۔ یہاں دو جمع دو چار سمجھنے والے سادہ لوگ ہیں انہیں اے برابر اے کی پاور دو، اے بی سکوائر اور ایکس کی پاور دس قسم کے پیچیدہ فارمولوں سے کوئی غرض نہیں، ان کو نہیں معلوم ڈالر کی اڑان کو کیسے روکا جا سکتا ہے یا آئی ایم ایف کے پاس جانا جاری بحران کا واحد حل ہے کہ نہیں؟ برامدات کیوں کم ہو رہی ہیں، معشیت کیوں زبوں حالی کا شکار ہے، تجارتی انڈیکس کیا بتا رہا ہے؟

ان کو اتنا معلوم ہے کہ پہلے جو کھاد کی بوری بارہ سو کی تھی اب چودہ سو کی ہو چکی ہے، پہلے جس بیج کا تھیلا پندرہ سو میں آتا تھا اب بائیس سو کا ملتا ہے۔ پہلے ملز وقت پر چلتی تھیں، ان کو پیسے وقت پر ملتے تھے اور وہ وقت پر نئی فصل کاشت کر لیا کرتے تھے۔ اب یہ گنے کی فصلوں کو آگ لگا رہے ہیں، اب ملز وقت پر نہیں چلتیں، اب سی پی آر ان کے لیے کاغذ کا اک ٹکڑا ہے جس سے ابھی تک پیسے نہیں نکلوائے جا سکے۔ یہ لوگ کاروبار زندگی کے اکثر فیصلے فصلوں کی کٹائی کے وقت کو مدنظر رکھ کر کرتے ہیں، کھاد بیج والے کا ادھار چکانا ہو یا نیا ہل خریدنا ہو، بچوں کی شادی کرنی ہو یا اگلی فصل تک کے راشن کا بندوبست کرنا ہو، آنکھوں کا آپریشن کرانا ہو یا خاندان کے ذہین بچے کو شہر کے کالج میں داخلہ دلانا ہو یہ تمام کام فصل کٹائی کے بعد حاصل ہونے والے محنتانے پر انحصار کر رہے ہوتے ہیں۔

مگر حالیہ فصل ان تمام پریشانیوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے اندیشوں کا انبار لائی ہے۔ ایسے ہی پریشان حال دیہاتیوں کے اک گروپ میں نسبتاً اک بزرگ کاشتکار تحریک انصاف کی حکومت کو آڑے ہاتھوں لے رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا مہنگائی کا طوفان آ گیا ہے جب ان (وزیر اعظم عمران خان) کے پاس مسائل کا حل نہیں تھا تو عوام کو سبز باغ کیوں دکھائے؟ تحریک انصاف والے اب ہر بات پر ن لیگ سے موازنہ کرنے بیٹھ جاتے ہیں اگر انہوں نے اپنی مجرمانہ غفلتوں کا موازنہ ن لیگ سے ہی کرنا تھا تو ن لیگ کیا بری تھی؟ کیا ن لیگ کیا تحریک انصاف سب اک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔ وہ بولے!

ملک بھر میں پیسوں کا بحران ہے کیا نوکری پیشہ کیا دکاندار، کیا ملازم کیا مالک، کیا بزنس مین کیا زمیندار، کیا مزدور کیا کارخانہ مالک سب اس بحران کا شکار ہو رہے ہیں۔ خطرناک بات یہ ہے کہ ان کے پاس اس بحران کا حل بھی موجود نہیں ہے اور اس سے بھی خطرناک بات یہ ہے کہ یہ عوامی فلاح کے لیے مخلص بھی نہیں۔ زیادہ دور نہ جائیں، شوگر مافیا کی ہی مثال لے لیں، گنے کے کاشتکار رل گئے، چیخ چیخ کر تھک گئے کہ ملز چلائی جائیں لیکن حکومت وقت پر ملز نہ چلوا سکی، باوجود اس کے کہ پنجاب میں متعدد شوگر ملز کے مالکان تحریک انصاف کے رہنما ہیں، پھر وہ جہانگیر ترین ہوں خسرو بختیار ہوں یا پھر ہمایوں اختر۔ ان ملز مالکان کی ہٹ دھرمی کے باعث کاشتکار گندم کی فصل نہیں اگا سکے۔ اس سے نہ صرف اگلے سیزن میں زمیندار پھر ان ملز کے چنگل میں ہو گا بلکہ گندم کی قلت کے باعث روٹی مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔

راقم نے عرض کی کہ بزرگوار ملک کے یہ حالات اتنے قلیل عرصے میں کیسے ٹھیک ہو سکتے ہیں؟ جب کہ پچھلی حکومت خزانہ خالی چھوڑ کر گئی ہے۔ اس پر بزرگ بولے کہ بیٹا میں زیادہ پڑھا لکھا آدمی تو نہیں ہوں، مگر اتنا جانتا ہوں کہ پچھلی حکومت کے خزانہ خالی ہونے کا راگ بس اک بہانہ ہے۔ اپنی بات سمجھانے کے لیے انہوں نے اک مثال دی کہ گاؤں میں بڑے زمیندار اپنی جاگیر میں سے رقبہ جات کاشت کے لیے آگے مستعار دیتے ہیں۔ اکثر غریب لوگ بڑے زمینداروں سے یہ زمین ٹھیکے پر مستعار لیتے ہیں۔

یہ ٹھیکہ اک فصل سے لے کر کئی سالوں پر محیط ہو سکتا ہے۔ اکثر جب پرانا مزارع زمین چھوڑ کر جاتا ہے تو وہ بس اپنی فصل اٹھا کر چلا جاتا ہے اور جب نیا کاشتکار آتا ہے تو اسے زمین فصل اگانے کے لیے تیار نہیں ملتی۔ اب نیا کاشتکار بجائے اس زمین کی بوائی کرنے کے رونے رونا شروع کر دے کہ پچھلے کاشتکار نے اسے زمین ٹھیک حالت میں نہیں دی تو اس میں نئے کاشتکار سے چند دن ہمدردی تو کی جا سکتی ہے مگر فصل اگانے کے لیے اقدامات نہ اٹھانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔

چلیں پچھلا کاشتکار بے ایمان تھا، ہم نے مان لیا۔ اس کی وجہ سے زمین تیار کرنے میں چند دن تاخیر بھی قابل برداشت ہے، مگر جب نیا کاشتکار زمین کو سدھارنے کے لیے کوئی قدم نہ اٹھائے تو یہ گزشتہ کاشتکار سے بھی گیا گزرا کہلایا جائے گا۔ آپ دیکھیں اتنے عرصے میں کیا نئے کاشتکار نے زمین میں پانی لگایا؟ پگڈنڈیوں کی کانٹ چھانٹ کی، کھالے صاف کیے، کھیتوں کا گند صاف کیا، ہل چلائے، بیج بویا، کھاد دی؟ کرنے والے پہلے دن سے ہی کام میں جت جاتے ہیں۔

لیکن یہاں تو پچھلے کاشتکاروں کا ارد گرد پھیلایا گیا گند اٹھا کر بھی کھیت میں ڈال دیا گیا اور بجائے بیج بونے کے اس گند کے ڈھیر کے اوپر بیٹھ کر سر پر پٹکا باندھ کر دہائیاں دی جا رہی ہیں۔ کاشتکار کو خبر ہو کہ یہ ڈرامے بازیاں اب نہیں چلیں گی۔ انہیں اٹھنا ہو گا، کسی اٹھا کر کمر کسنی ہو گی، تا کہ وہ فصل تیار کی جا سکے جس کے اناج سے گھر والوں کا پیٹ بھرا جائے۔ اگر آپ کے پاس اہلیت نہیں تھی، تو زمین کا مزارع بننے کی ضرورت کیا تھی؟

اب اگلے پانچ برسوں کے لیے زمین آپ کے پاس ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے پاس فصل اگانے کے لیے اوزار نہیں ہیں، پانی لگانے کے لیے ٹیوب ویل نہیں ہے یا پھر بیج بونے کے لیے مددگار ساتھی نہیں ہیں تو خدارا اب بھی وقت ہے دستبردار ہو جائیں، تا کہ آپ کی ہٹ دھرمی کا خمیازہ خاندان کو قحط کی صورت نہ بھرنا پڑے۔ مانا کہ آپ ایماندار ہیں مگر صرف ایمانداری سے پیٹ نہیں بھرا جا سکتا۔ فیصلہ کریں قبل اس کے کہ دیر ہو جائے اور فصل کاشت کا وقت ہی ہاتھ سے نکل جائے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں