یہ شاہراہ عام نہیں ہے


یہ شاہراہ عام ہے شاہراہ اس راستے کو کہتے ہیں جو اپ کو ایک مقام سے دوسرے مقام پر لے جائے۔ شاہراہیں دو طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک شاہراہ جس کا مطلب بادشاہ کے گزرنے کی جگہ اور دوسری عام شاہراہ جس پر عوام چل سکے

شاہراہ دراصل منزل پر لے جانے والا وہ راستہ ہے جو آپ کو ایک مقام سے دوسرے مقام پر لے جائے۔ منزل کا انتخاب مسافر کو کرنا ہوتا ہے کہ یہ سفر اس کے لیے کتنا ضروری ہے؟ اسے کہاں جانا ہے کون سا روٹ استعمال کرنا ہے؟ اسے کتنی دیر میں اپنی منزل مقصود پہ پہنچنا ہے؟ اس کے لیے یہ راستہ کتنا دشوار گزار یا آسان ہے؟ اسے موسم کی خرابی، ناگوار ماحول، ٹریفک کا رش، گاڑی یا وسائل متاثر کر سکتے ہیں؟ وہ لمبے سفر پہ کتنی دیر سفر کر سکتا ہے اس کی صحت اور اعصاب اس کا کتنا ساتھ دے سکتے ہیں؟ کبھی کبھی راستہ ہموار نہیں ہوتا؟ مگر بعض میزبان کہ دیتے ہیں

انہی پتھروں پر چل کے آ سکو تو آؤ

کہ میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

اگر آپ کو گاڑی خود چلانی ہے تو گاڑی چلانا آنی چائیے۔ ڈراوینگ کرنے کے کوڈ آنے چاہیں۔ کس جگہ رکنا ہے کہاں چلنا ہے؟ کہاں کتنی سپیڈ رکھنی ہے؟ ہمارے ہاں اکثر مسائل اورسپیڈ ہونے کی وجہ سے ہوتے ہیں چاہے وہ روڈ پہ ہوں یا زندگی کے معاملات میں ہم بحیثیت قوم اپنے اوپر قابو نہیں رکھ پاتے اور ٹکرا جاتے ہیں۔ اوراپنا اور دوسروں کا نقصان کر بیٹھتے ہیں یہ ہمارے خطے کے لوگوں کا ٹیکنیکل فالٹ ہے۔ جس کا سبب تربیت کی کمی ہے۔

آپ کو ڈرائیونگ کے اصولوں، خراب موسموں اور سفری تکلیف، تھکاوٹ اور دشواریوں کے لیے تیار ہونا چاہیے۔

آپ کا مستقل مزاج ہونا منزل کے حصول کے لیے بہت ضروری ہے جیسا بھی سفر ہو منزل پی ہر صورت پہنچننا ہی ہے دیر یا سویر۔ پھر اگر آپ کے پاس وقت زیادہ ہے تو سفر ور مظاہر قدرت سے محظوظ ہونا چاہتے ہیں تو لوکل روٹ اپنائیں گے اور آرام سے جائیں گے لوکل عوامی شاہراہ پر اگر آپ کوئی غلطی سے غلط سڑک پر چلے جائیں تو جناب آپ کو کافی سفر جاری رکھنے کے بعدیو ٹرن لے کر اپنی سمت درست کرنی پڑے گی ورنہ آ پ اپنی منزل پی نہیں پہنچ سکتے

دوسری شاہراہ موٹروے ہے جو لوکل سے نسبتاً آسان ہے کھلی اور لمبی سڑک۔ اپ کو صرف سائن بورڈ کی سمجھ ہونی چاہیے اور سپیڈ کا خیال رکھنا چاہیے اور اپنی لائن میں رہنا چاہیے۔ یورپ کے دس سالوں میں میں نے سفر کر کے دیکھا ہے کے موٹر وے کے سفر کے دوران لوگ اور سپیڈ ہوتے ہیں مگر جیسے ہی کیمرہ کے مقام کے پاس سے گزرتے ہیں سب بالکل عاجز اور مسکین ہو جاتے ہیں ور جیسے ہی کیمرہ کی حد سے باہر نکلتے ہیں تو سپیڈ تیز کر دیتے ہیں۔

کیوں کے جب آپ کی گاڑی کو ایک بار کیمرہ فلش کرتا ہے اوور سپیڈ ہونے کی وجہ سے تو لیٹر آپ کے گھر آ جاتا ہے اس پہ تحریر ہوتا ہے موٹروے پہ سپیڈ اتنی تھی اور آپ کی گاڑی اتنی سپیڈ سے جا رہی تھی لہٰذا اتنے پوائنٹس آ پ کے گئے اور اتنا فائن دیں۔ یہاں اس نقصان کی وجہ سے انسان تھوڑے حد میں رہتے ہیں اوور سپیڈ کم ہوتے ہیں۔ قانون تربیت کرتا ہے معاشرے کی کہ انسان کتنی سپیڈ پہ گاڑی کا حادثہ کرے تو زخمی ہو سکتا ہے کتنی سپیڈ پہ ہو تو اس کی جان جا سکتی ہے اس اصول کے پیش نظر ٹریفک کے قوانین بنائے جاتے ہیں۔

انسان سے بھول چوک ہو ہی جاتی ہے کبھی وہ خوش گپیوں میں مصروف ہوتا ہے کبھی غلطی سے ایگزٹ نہیں لے پاتا ٹھیک جگہ سے اور اس غلطی کو سدھارنے کے لیے اسے گھوم کے یو ٹرن لے کر آنا پڑتا ہے۔ ایسا اگر کبھی کبھی ہو تو نارمل ہے مگر یہ آ پ کی عادت بن جائے تو پھر اصلاح اور ریاضت ضروری ہے سب سے پہلا کام سپیڈ کنٹرول کریں اور سپیچ بھی کیوں کہ آپ کا دھیان اور آپ کی زبان دونوں اپ کو مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔ آپ اکیلے ہوں تو خیر لیکن اپ کی فیملی یا کنبہ بیٹھا ہو ساتھ یا آپ بس ڈ رائیور ہوں تو آپ پہ سب کی ذمداری آتی ہے کوئی بچہ ہے کوئی بوڑھا، کوئی بیمار، کوئی کم ہمت جلدی گھبرا جانے والا تو اپ کو سب کا خیال رکھنا پڑے گا اور عافیت سے منزل پہ پہنچانا ہو گا۔ کبھی ایک صورت اور پیش آتی ہے آگے تعمیر ہو رہی ہے یا آگے کوئی ایکسیڈنٹ ہوا ہے تب آپ کی غلطی نہیں آپ کے ساتھ بیٹھے لوگوں کو ہمت رکھنی چاہیے

حادثہ ہو چکا کہ ہونا ہے!

بھیڑ کیسی ہے شاہراہ پہ

اگر ہم بحثیت مسلمان دیکھیں تو زندگی کو بہترین گزارنے کی من پسند شاہراہ میرے رب نے میرے اور آپ کے لیے صراط مستقیم پسند کی ہے مجھے موٹروے کا سفر پسند ہے کیوں کے یہ مجھے صراط مستقیم کی مشابہ لگتی ہے بس آپ ٹریفک کے قانون کو فالو کریں اور اپنی لائن میں رہیں اور ٹم ٹم آن رکھیں اپنا ضمیر جو آپ کی رہنمائی کرتا رہے کہاں فاصلہ رکھنا ہے۔ کہاں سے گزر جانا ہے حدود اللہ کے دائرے میں رہنا ہے کیونکہ ضمیر کی بتی آن ہو تو سفر بڑا آسان اور اطمینان کے ساتھ کٹتا ہے انسان کو پتا ہوتا ہے۔ جب بھی اوور سپیڈ ہوا قانون قدرت کی گرفت میں آ کر پکڑا جاؤں گا۔

سپیڈ آہستہ رکھیں، فاصلہ رکھیں، پاس کریں یا برداشت کریں۔ یہی لوکل شاہراہ کے سفر میں آپ کو پڑھنے کو ملے گا۔ صراط مستقیم پہ چلیں اللہ کے قانون کی پاسداری کریں ور سفر جاری صراط مستقیم ہی وہ راستہ ہے جو انسان کو اپنے رب سے ملوانے کا بہترین راستہ ہے۔ اور اس راستے کو اتنا پسند کیا گیا کے ہر نماز کی ہر رکعت میں د عا مانگنے کو کہا گیا۔ اور اس دعا کی اہمیت اتنی کی انسانوں کی رہنمائی کرنے والی کتاب قرآن مجید کا آغاز اس د عا سے کر کے یہ د عا کا طریقہ سکھا کر جواب میں سارا قرآن نازل کر دیا گیا۔

اَ لْحَ۔ مْدُ لِلّ۔ ٰھِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ( 1 )

سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے۔

اَلرَّحْ۔ مٰنِ الرَّحِیْ۔ مِ ( 2 )

بڑا مہربان نہایت رحم والا۔

مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ( 3 )

جزا کے دن کا مالک۔

اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ( 4 )

ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِ۔ یْ۔ مَ ( 5 )

ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔

صِرَاطَ الَّ۔ ذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْ۔ ہِ۔ مْۙ غَیْ۔ رِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْ۔ ہِ۔ مْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ ( 6 )

ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا، نہ کہ جن پر تیرا غضب نازل ہوا اور نہ وہ جو گمراہ ہوئے۔

جناب والا! یہ دوسری طرح کی شاہراہ عام نہیں ہے۔ اشرف المخلوقات انسان کے چلنے کے لیے شاہراہ ہے۔ اللہ ہماری رہنمائی فرمائے۔ یو ٹرن بڑا لیں یا چھوٹا یو ٹرن لیں اگر اپ کے اندر لگا ٹم ٹم آپ کو الارم کرے یا آپ کا دل بے چین رہنے لگے اس کام میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ راستہ یہی نجات کا ہے جو منزل کی طرف جاتا ہے

یہ شاہراہ عام نہیں ہے اس راستے پی خود کو لانا پڑتا ہے اور اس رستے کے کوڈ کی کتاب قرآن پاک ہے، اسے پڑھیں اور صراط مستقیم اختیار کریں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

نوشابہ یعقوب راجہ کی دیگر تحریریں
نوشابہ یعقوب راجہ کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں