جام کمال کے خلاف ممکنہ تحریک عدم اعتماد


توقع کی جارہی تھی کہ بلوچستان میں سینٹ کے ایک سیٹ پر ہونے والے انتخابات میں تحریک انصاف اپنے اہم اتحادی بلوچستان نیشنل پارٹی کی حمایت کرے گی لیکن شنید ہے کہ اس کے بر عکس تحریک انصاف نے بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار کی حمایت کا نہ صرف اعلان کیا ہے بلکہ عمران خان نے وزیر اعلیٰ جام کمال کو اپنی حما یت کی یقین دیہانی بھی کرا دی ہے، سینٹ کی سیٹ جیتنے کے لئے امیدوار کو 34 وٹوں کی ضرورت ہے، تحریک انصاف کی جانب سے حمایت کے بعد بظاہر بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار کی پوزیشن مضبوط ہوگئی ہے، بی این پی (عوامی) ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور اے این پی پہلے سے ہی بلوچستان عوامی پارٹی حمایت کر چکی ہیں، جمہوری وطن پارٹی کے اکلوتے رکن اسمبلی نے ابھی تک کسی بھی جماعت کی حمایت کا اظہار نہیں کیا ہے لیکن غالب گمان یہی کہ میر گوہرام بگٹی بلوچستان عوامی پارٹی کی حمایت کریں گے۔

بلوچستان عوامی پارٹی کو اپنی اتحادیوں کی حما یت تو حاصل ہے لیکن اس جماعت کے اندر دھڑے بندیاں موجود ہیں، پارٹی کے زیادہ تر ایم پی ایز وزیر اعلیٰ جام کمال سے نا خوش نظر آتے ہیں، کچھ دن قبل بلوچستان عوامی پارٹی کے ایک سینیٹر کہدہ بابر نے ٹیوٹ کے ذریعہ وزیر اعلیٰ جام کمال سے اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کیا تھا اور وزیر اعلیٰ جام کمال کو پارٹی صدارت چھوڑنے کا مشورہ بھی دیا تھا جب کہ اس سے قبل جماعت کے بانی سعید ہاشمی کے رہائش گاہ میں ایک میٹنگ بلائی گئی جس میں ایک درجن سے زائد ارکین اسمبلی نے شرکت کی تھی، اجلاس کے بعد میڈیا کو ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ حاضرین مجلس اپنے مرکزی قائد جام کمال کی قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں، یہ بیان اگلے دن اخبارات میں چھپنے سے پہلے ہی کچھ “ناگوار وجوہات” کی بنیاد پر روک دیا گیا۔

اس میٹنگ کے چند دن بعد اسپیکر بلوچستان اسمبلی قدوس بزنجو نے حکومت چھوڑنے کا اعلان کر دیا، میر قدوس بزنجو نے دعویٰ کیا تھا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے اکثر اراکین ان کے ساتھ ہیں، میر قدوس بزنجو کی ممکنہ “بغاوت” روکنے کے لئے چئیرمن سینٹ میر صادق سنجرانی کو بیرون ملک سے بلایا گیا اس کے بعد چیئرمن سینٹ کی سر براہی میں 7 رکنی مصالحتی کمٹی نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی سے مذاکرات کیے، اطلاعات کے مطابق مذاکراتی کمیٹی کے سامنے جب اسپیکر نے اپنے تحفظات رکھے تو سب نے یک زبان ہوکر کہا کہ یہ “مسائل“ ہمیں بھی درپیش ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ناراض اور رضامند دونوں فریق جام کمال پر ”تحفظات“ کا شکار ہیں

سینٹ الیکشن قریب آتے ہی ایک بار پھر بلوچستان عوامی پارٹی کے اندر تضادات و اختلافات کی باز گشت سنائی دے رہی ہے، بلوچستان عوامی پارٹی کے سر پرست اعلیٰ سعید ہاشمی اپنے ہی جماعت کے وزیر اعلیٰ اور پارٹی کے مرکزی صدر جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے لئے سر گرم ہوگئے ہیں، سعید ہاشمی اس وقت تحریک انصاف کے صوبائی صدر سردار یار محمد رند اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے سر براہ سردار اختر مینگل سے رابطے میں ہیں، یہاں یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ بلوچستان کے وزارت اعلیٰ کے لئے کم سے کم 34 ارکین کی ضرورت پڑتی ہے جام کمال کو 42 اراکین کی حمایت حاصل ہے، تحریک انصاف کے صوبائی صدر سردار یار محمد رند اپنے جماعت کے اندر عملاً غیر متحرک کر دیے گئے ہیں جہانگیر ترین براہ راست بلوچستان میں پی ٹی آئی چلا رہے ہیں۔ جام کمال کی حمایت جہا نگیر ترین نے کی ہے، سردار یار محمد رند نے نہیں۔

اب دیکھنا ہے کہ ان تمام معاملات کو وزیر اعلیٰ جام کمال کیسے ہینڈل کرتے ہیں؟ راقم کی ذاتی رائے یہ ہے کہ 14 جنوری کو سینٹ کا الیکشن اصل پوزیشن واضح کر دے گی اگر جام کمال نے اپنے امیدوار اور پارٹی جنرل سیکرٹری منظور کاکڑ کو سینٹر کامیاب کراسکے تو اس سے ظاہر ہوگا کہ جام کمال کی حکومت مضبوط ہے ان کے جماعت کے اندر ابھرنے والے اختلافات محض لاف زنی ہیں اگر سینٹ الیکشن میں منظور کاکڑ ہار گئے تو ایک واضح پیغام ہوگا جام کمال کے خلاف ممکنہ تحریک عدم اعتماد کسی بھی وقت لائی جا سکتی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں