شاہراہ قراقرم پر بڑھتے ٹریفک حادثات


\"ma شاہراہ قرا قرم نہ صرف گلگت بلتستان کو پاکستان کے دیگر علاقوں سے ملانے والی اہم شاہراہ ہے بلکہ یہ پاکستان اور ہمسایہ ملک، چین کے درمیان واحد زمیںی رابطہ ہونے کی وجہ سے ایک بین الااقومی شاہراہ بھی ہے۔ اس شاہراہ پر سالانہ لاکھوں افراد سفر کرتے ہیں اوران کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ اس روڑ پر سفر کرنے والوں میں گلگت بلتستان کے باسیوں کے علاوہ بہت سے مقامی اور بین الاقوامی سیاح بھی شامل ہے۔

 شاہراہ قراقرم دنیا کے مشہوراور طویل پہاڑی شاہراہوں میں سے ایک ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کی پرخطر شاہراہوں میں شمار کی جاتی ہے۔ شاہراہ قراقرام کی تعمیر کے بعد اس پر ٹریفک حادثات ہوتے آرہے ہیں لیکن یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ حالیہ مہینوں میں شاہراہ قراقرم اور اس کے مضافاتی شاہراوں پر ٹریفک حادثات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے کئی افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور بہت سے زخمی بھی ہوئے۔اس صورت حال نے اس شاہراہ پر سفر کرنے والے مسافروں کی تشویش میں کافی اضانہ کیا ہے۔

 شاہراہ قراقرم کی قومی اور بین الا قوامی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت اور عوام کو مل کر ایسے حفاظتی اقدامات کرنے کی شدید ضرورت ہے جن سے ان حادثات ہر قابو پا کر لوگوں کے جانی اور مالی نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ اگرچہ حادثات کو مکمل ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ واضح ہے کہ دنیا میں بہت سے ممالک بہتر حفاظتی اقدامات سے ٹریفک حادثات پر کافی حد تک کنٹرول کرکے حادثات میں جان بحق ہونے والوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی لائے ہیں۔

۔

شاہراہ قراقرم پر ٹریفک حادثات کی وجوہات کئی ہوسکتی ہیں لیکں یہاں حادثات کے چند وجوہات اور حفاطتی اقدامات کا ذکرضروری سمجھتا ہوں۔

 شاہراہ قراقرم اور اس سے ملحقہ شاہراہیں بلند و بالا پہاڑی سلسلے سے گزر نے کی وجہ سے کافی پر خطرمانی جاتی ہیں۔ اس شاہراہ پر سفر کرنے والی گاڑی میں معمولی تکنیکی خرابی کسی بھی بڑا حادثہ کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے اس روڑ پر سفر کرنے سے پہلے گاڑیوں کی کنڈیشن اور فٹنس کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔ خاص طور پر پبلک ٹر ا نسپورٹ کے لیے ایک ایسے فعال نظام کی ضرورت ہے جو گاڑیوں کی فٹنس کو یقنینی بنا سکے۔ وہ افراد یا سیاح جو پرائیوٹ گاڑیوں میں اس شاہراہ پر سفرکرتے ہیں انھیں بھی یہ اطمینان کرنے کی ضرورت ہےکہ وہ جن گاڑیوں پر سفر کر رہے ہیں وہ اس شاہراہ کے لیے موزوں ہیں

دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ اس شاہراہ پر سفر کے لیے ڈرائیور کی مہارت، تجربہ، جسمانی اور ذہنی صحت بہت اہم ہیں۔ سفر سے پہلے یہ اطمینان ہونا چاہیے کہ ڈرائیور کے پاس باقاعدہ ڈرائیونگ لائیسنس موجود ہے اور اس روڑ پر ڈرائیونگ کا تجربہ رکھتا ہے۔ ساتھ ساتھ یہ بھی خیال رکھنا ضروری ہے کہ ڈرایئور نے سفر سے پہلے مکمل آرام کیا ہے اور نیند پوری کی ہے۔ یہ بات سامنے آئی ہے بہت سے حادثات ڈرایئورکے گاڑی چلانے کے دوران سونے کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔ اگر سواریوں کو یہ محسوس ہو کہ ڈرائیور کو نیند آرہی ہے تو سفر بالکل جاری نہیں رکھنا چاہئے بلکہ گاڑی روک کر ڈرائیور کو تھوڑی دیر کے لیے آرام کرنا چاہئے۔

دنیا میں ٹریفک حادثات کی ایک اہم وجہ تیز رفتاری کو مانا جاتا ہے۔ شاہراہ قراقرم پر تیز رفتاری سے گاڑی چلانا خطرے سے بلکل خالی نہیں ہے۔ پہاڑی سلسلے سے گزرنے کی وجہ سے راستہ تنگ اور بہت سے جگہوں پر انتہائی خطرناک موڑ موجود ہیں۔ اس لیے اس روڑ پر تیز فتار گاڑی کو قابو کرنا بہت دشوار کام ہے اور معمولی غلطی کسی بڑا حادثہ کا سبب بن سکتی ہے۔

محفوظ سفر کے لیے ایک ہموار اور مٹٰیلڈ راستہ بہت اہم ہے۔ لیکن شاہراہ قراقرام کا ایک بڑا حصہ، خاص طور پر تھاکوٹ پل سے لیکر رائیکوٹ پل تک بہت خراب حالت میں ہیں۔ اس سے نہ صرف مسافروں کا وقت ضایع ہوتا ہے بلکہ جانی اور مالی نقصان کا خدشہ بھی رہتا ہے۔ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو اس مسئلہ کی طرف خاص طور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اس روڑ پر سفر کرتے ہوئے موسمی صورت حال سے با خبر رہنا بہت ضروری ہے۔ خاص طور پر بارشوں میں لینڈ سلائڈنگ کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ لہذا خراب موسم میں سفر سے کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش آ سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک ایسا موٗثر اور مربوط کمیونیکیشن سسٹم کی ضرورت ہے جو بروقت مسافروں کو موسم کا حال اور شاہراہ کی صورت حال کے بارے میں آگاہی دے سکے۔

 علاوہ ازین اس اہم شاہراہ پر حادثات سے ہنگامی طور پر نمٹنے کے لیے طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ حادثہ کہ صورت میں زخمیوں کو عام گاڑیوں میں ڈال کر قریبی میڈیکل سنٹر میں لانے کے کوشش کی جاتی ہےجس کہ وجہ سے کئی زخمی مسافر ابتدائی طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ حکومت کو اس مسئلہ کی طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ایک قومی اور بین الاقوامی شاہراہ ہونے کی وجہ سے شاہراہ قراقرم پر سالانہ لاکھوں مسافر سفر کرتے ہیں اور آنے والے برسوں میں چین پاکستان اکونومیک کوریڈور کی وجہ سے مسافروں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ کا امکان ہیں۔ لیکن اس شاہراہ پر مسافروں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ ساتھ ٹریفک حادثات بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس بڑھتے ہوئے حادثات کو کم کرنے کے لیے موثر حفاظتی اقدامات جیسے کہ ایک فعال ٹریفک نظام، عوام میں آگہی، روڑ کی بہتری اور بہتر طبی سہولیات کی شدید ضرورت ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔