ناروے میں اہل منبر کی ناروائی


\"Mosque-Oslo\"راقم الحروف نے زندگی میں پہلی بار عید کی نماز پڑھنے سے گریز کیا ہے۔ اور یہ بھی زندگی میں پہلی بار ہؤا ہے کہ اپنے بچوں کے ساتھ’ عید گاہ‘ تک جانے کے بعد وہاں سے واپس آنے پر مجبور ہؤا۔ اگرچہ ناروے کی دو مذہبی تنظیموں کے تحت ہونے والے اس اجتماع، اس کی بد انتظامی اور اس کے حوالے سے بولے جانے والے جھوٹ سے شاید دنیا کے دیگر ملکوں اور خاص طور سے پاکستان اور دیگر ملکوں کے مسلمانوں کو زیادہ دلچسپی نہ ہو۔ لیکن یہ معاملہ ریکارڈ پر لانا ضروری ہے کیوں کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمانوں کی مذہبی قیادت خواہ ناروے میں ہو یا مسلمان اکثریت والے پاکستان جیسے ملک میں، لوگوں کی رہنمائی اور قیادت کا حق ادا کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔

جمعتہ الوداع کے موقع پر اسلامی کلچرل سنٹر ناروے کی انتظامیہ نے دوٹوک الفاظ میں نمازیوں کو مطلع کیا کہ نماز عید بدھ کو صبح ساڑھے نو بجے ایکے برگ ہال  Ekeberghallen میں ادا کی جائے گی۔ یہ بھی بتایا گیا کہ اس مقصد کے لئے اوسلو کی ایک دوسری مذہبی تنظیم رابطہ اسلامی سے تعاون کرکے ایک بڑے ہال میں کھلی جگہ پر نماز عید کا اہتمام کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو۔ اور مسلمان خوشی کے اس دن کا آغاز سہولت سے کرسکیں اور انہیں نماز کے لئے آنے اور نماز پڑھنے کے بعد باہر نکلنے میں کوئی تکلیف نہ ہو۔ تاہم جب نمازی عید کی نماز ادا کرنے کے لئے ہال میں پہنچے تو 9 بجے تک دروازے بند تھے اور چند شناسا لوگوں کے علاوہ کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ نو بجے سے چند لمحے بعد ہال کا دروازہ کھولا گیا لیکن ہال کے اندر نہ تو انتظامیہ کا کوئی آدمی موجود تھا اور نہ کسی کو خبر تھی کہ صف بندی کیوں کر اور کیسے کرنی ہے۔ اگرچہ یہ کہا گیا تھا کہ اس موقع پر زیادہ بڑی تعداد میں لوگ آ سکتے ہیں اس لئے لوگ جائے نماز بھی ساتھ لیتے آئیں لیکن انتظامیہ کی طرف سے نماز کے لئے صفیں قائم کرنے کے لئے نہ تو نشاندہی کی گئی تھی اور نہ ہی صفیں بچھائی گئی تھیں۔ ایک دوسرے سے پوچھ کر لوگ اپنی چادریں اور جاء نماز بچھا کر بیٹھنے لگے۔ ساڑھے نو بجے تک اسلامی کلچرل سنٹر کا کوئی رضاکار یا انتظامیہ کا کوئی ذمہ دار وہاں موجود نہیں تھا۔ جب بالآخر وہ تشریف لانا شروع ہوئے تو اسلامی کلچرل سنٹر اور رابطہ کے لوگوں کو صرف اپنے بینر لگانے یا چندہ اکٹھا کرنے کے لئے انتظام کرنے کی فکر تھی۔ انہیں اس بات کا چنداں احساس نہیں تھا کہ انہوں نے لوگوں کو نماز کے لئے ساڑھے نو بجے آنے کا کہا تھا۔

انتظامیہ کے بعض نمائیندوں سے جب اس بارے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ساڑھے نو بجے کا اعلان ’پروگرم شروع ‘ ہونے کے بارے میں کیا گیا تھا۔ نماز تو ساڑھے دس بجے ہوگی۔ انہیں اس بات کا احساس ہی نہیں تھا کہ ان کے اعلان کے مطابق کچھ لوگ صبح سویرے تیار ہو کر، کام سے چھٹی کرکے، خاص طور سے یہ مذہبی فریضہ ادا کرنے کے لئے وہاں آئے ہیں۔ الٹا یہ کہا گیا کہ آپ اس بارے میں سوال کرکے رمضان کے روزے کیوں ضائع کررہے ہیں۔ گویا بد انتظامی پر سوال اٹھانا اور یہ کہنا کہ لوگوں سے نماز کے وقت کے بارے میں جھوٹ بولا گیا تھا، ان کے نزدیک روزوں کی عبادت ضائع کرنے کے برابر تھا۔ اس کی بجائے ایک نیا جھوٹ بول کر خود کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔

واضح رہے اسلامی کلچرل سنٹر اسلامی تنظیموں میں بہتر انتظام کی شہرت رکھتی ہے۔ ناروے میں سب مذہبی تنظیمیں حکومت سے لاکھوں کرونر سرکاری گرانٹ لینے کے علاوہ کثیر مقدار میں نمازیوں سے بھی رقوم جمع کرتی ہیں۔ اسلامی کلچرل سنٹر نے 90 ملین کرونر کی کثیر رقم صرف کرکے چند برس پہلے اپنی نئی مسجد تعمیر کی ہے۔ اس کا قرض حسنہ اتارنے کے لئے نمازیوں سے مسلسل چندہ مانگا جاتا ہے لیکن ان کا یہ مرکز نماز عید کی ضرورتیں پوری کرنے کے قابل نہیں ہے۔ نہ ہی دیگر مسجدوں کی طرح اس مسجد کی انتظامیہ اپنی آمدنی اور مصارف کے بارے میں ان ہزاروں لوگوں کو اعتماد میں لیتی ہے جو باقاعدگی سے وہاں نماز ادا کرتے ہیں۔

میں نے کچھ عرصہ پہلے ہی اوسلو کی ایک دوسری مسجد میں نماز پڑھنے سے انکار کیا ہے۔ اس مسجد کے امام صاحب پاکستان میں سپریم کورٹ کے حکم پر موت کی سزا پانے والے ممتاز قادری کی پھانسی پر احتجاج کرتے رہے ہیں۔ پہلے انہوں نے اپنے دو تین درجن معتقدین کے ساتھ اوسلو میں پاکستانی سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ کیا اور اس پھانسی کو غیر اسلامی اور عاشقان رسول ؑ کے لئے بڑا صدمہ قرار دیا۔ پھر مارچ میں لیاقت باغ راولپنڈی میں ممتاز قادری کے چہلم کی تقریب میں شرکت کی۔ اور وہاں جذباتی تقریر کی۔ ناروے میں ایک امام کی اس حرکت اور ایک مجرم کی سزا پر احتجاج کے خلاف شدید رد عمل سامنے آیا تو اس مسلک کی انتظامیہ نے واضح کیا کہ وہ امام سے باز پرس کریں گے اور انہیں ان فرائض سے سبکدوش کردیا جائے گا۔ امام کی واپسی پر ایک بھرپور پریس کانفرنس میں امام نے ناروے کے لوگوں سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک سیاسی معاملہ میں مؤقف اختیار کرکے غلطی کی ہے اور انتظامیہ نے اس وضاحت کے بعد کسی قسم کی کارروائی کرنے سے انکار کردیا۔ ایک قاتل کا حامی اور اس معاملہ کو ریاست کے خلاف انتشار پیدا کرنے کا سبب بنانے والا شخص اوسلو کی سب سے بڑی مسجد میں بدستور ہزاروں لوگوں کو نماز پڑھاتا ہے۔ کسی کو اس پر اعتراض بھی نہیں ہے۔

کل پاکستان میں رویت ہلال کمیٹی نے عید کا چاند دیکھنے کے حوالے سے جو ڈرامہ رچایا ہے وہ بھی مسلمان لیڈروں کی ذہنی پستی اور کم نظری کا واضح ثبوت ہے۔ دنیا بھر میں مسلمان جن مصائب اور دہشت گردوں کے ہاتھوں جن مشکلات کا سامنا کررہے ہیں، عقیدہ کے نام پر دکانداری کرنے والے اور اس سے روزگار چلانے والے ملاؤں اور ان کے حواریوں کو اس کا کوئی احساس نہیں ہے۔ یورپ اور امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف فضا تیار ہو رہی ہے لیکن یورپ کی کسی مسجد میں جا کر آپ کو یہ اندازہ نہیں ہو سکتا کہ یہ ایسے مظلوم لوگوں کا اجتماع ہے جنہیں نت نئے سماجی اور سیاسی اندیشوں کا سامنا ہے۔ وہاں مسلسل جنت کے ٹکٹ فرخت کرکے اپنے غلے بھرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

ان حالات میں یورپ اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو اپنی مذہبی قیادت کا طرز عمل درست کرنے کے لئے خود اقدام کرنا ہوگا۔ خاموشی رہنے اور نااہل مذہبی قیادت کے گناہ ثواب کے حساب کتاب کے چکر سے نکلے بغیر مسلمان سرخرو نہیں ہو سکتے۔

آج جب میں اپنے بیٹوں کے ساتھ احتجاج کرتے ہوئے نماز عید ادا کئے بغیر عید گاہ سے واپس آرہا تھا تو صورت حال کو سمجھتے ہوئے بھی کسی دوسرے مسلمان کو میرا ساتھ دینے کی توفیق نہیں ہوئی۔ ہماری یہی خاموشی ان مذہبی عناصر کی قوت ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہماری خاموشی سے حاصل ہونے والی اس قوت کی بنا پر یہ قیادت اس وقت مسلمانوں اور اسلام کے ساتھ کیا سلوک کررہی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 701 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “ناروے میں اہل منبر کی ناروائی

  • 06-07-2016 at 6:09 pm
    Permalink

    آپ نے ایک مجاہدانہ عمل کرتے ہوئے وہی کچھ کیا جو ایک حق پرست فرد کو ایسے موقع پر کرنا چاہیئے ۔ عید مبارک ہو۔

Comments are closed.