زندگی کا معمہ


\"1-yasir-pirzada\"عید کے دنوں میں سیٹھ صاحب کو امید تھی کہ وہ سال بھر میں جتنا منافع کماتے ہیں اس سے دگنا اُن کی تجوری میں ضرور بھرے گا، نئے امپورٹڈ مال سے انہوں نے دکان سجا دی، پرانے مال پر سیل کی تختی لگا دی تاکہ گاہک ’’Upto 60% Sale ‘ ‘  کا بورڈ پڑھ کر دکان میں آئیں اور پیسے بچانے کے چکر میں مزید پیسے خرچ جائیں، گزشتہ برس بھی یہ تکنیک خاصی مفید ثابت ہوئی تھی، مگر اب کی مرتبہ حالات پر کچھ نحوست چھائی ہوئی تھی۔ عین عید کے دنوں میں سیٹھ صاحب کا سالا فوت ہو گیا، اس مرگ کا سیٹھ صاحب کو بے حد دکھ ہوا کیونکہ جنازہ کراچی میں تھا! بیوی کا رو رو کر برا حال ہو گیا تھا کہ اس کا اکلوتا بھائی اب اس دنیا میں نہیں رہا، سیٹھ صاحب نے دبے لفظوں میں سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ جانے والا تو چلا گیا، مرنے والے کے ساتھ مرا نہیں کرتے، ان دنوں اگر میں دکان بند کرکے تمہارے ساتھ کراچی جاؤں گا تو لاکھوں کا نقصان ہو جائے گا، تم اکیلی چلی جاؤ چاہے جتنے دن مرضی وہاں رہ جانا۔ مگر نیک پروین نے ایک نہیں مانی، اس کا کہنا تھا کہ اگر آپ ساتھ نہیں چلیں گے تو میں بھی نہیں جاؤں گی اور اگر میں نہ گئی تو میرا بھائی کی میت بے گورو کفن پڑی رہے گا، اب فیصلہ کر لیں چلنا ہے کہ نہیں۔ چار و ناچار سیٹھ صاحب نے جہاز کی ٹکٹیں کروائیں، دکان کا انتظام اپنے منیجر کے سپرد کیا اور بیوی کے ساتھ ٹیک آف کر گئے۔ تین دن بعد واپسی ہوئی تو کایا کلپ ہو چکی تھی۔ منیجر صاحب غائب تھے اور ساتھ میں دکان کا آدھا مال اور ملازمین بھی۔ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ منیجر جسے تین ماہ سے تنخواہ نہیں ملی تھی، دکان کا مال بیچ کر اپنی تنخواہ مع سود کھری کرکے جا چکا ہے۔ سیٹھ صاحب کی نظر میں اس وقت ان کا منیجر کم از کم پھانسی کی سزا کا مستحق تھا۔

منیجر اس وقت ایک ہوٹل کے کمرے میں بیٹھا نوٹ گن رہا تھا، ساتھ میں اس کا یارقلندر تھا جو صرف نام کا ہی قلندر تھا کیونکہ اس کا کام ہر ماہ چین کا پھیرا لگا کر وہاں سےمختلف چیزیں منگوا کر یہاں فروخت کرنا تھا، قلندر اپنے منیجر دوست کو اس کے کارنامے پر داد دے رہا تھا اور ساتھ میں یہ بھی سمجھا رہا تھا کہ ایسے چھکے روز روز نہیں لگتے لہذا بہتر ہے کہ ان پیسوں سے کوئی مستقل اور پکا کام کیا جائے۔ منیجر نے جانا گویا یہ بھی میرے دل میں ہے۔ اس نے قلندر سے کہا کیوں نہ چین سے اس کا مال بھی منگوایا جائے، زیادہ انویسٹمنٹ ہوگی تو ریٹ بھی کم ملے گا اور منافع زیادہ ہو گا۔ ’’اندھا کیا چاہے چار پیسے۔ ‘ ‘ سو قلندر نے یہ تجویز فوری طور پر منظور کر لی، طے یہ پایا کہ عید سے پہلے ہی پھیرا لگایا جائے تاکہ پہلی کھیپ ہاتھوں ہاتھ بک جائے، منیجر کی خواہش تھی کہ وہ قلندر کے ساتھ چین جائے مگر قلندر نے اسے سمجھایا کہ کاروبار کا اصول ہے کہ خرچ کم سے کم ہو، سو تم یہاں رہ کر دکان کا انتظام کرو میں چار دن میں واپس آتا ہوں، اگلی مرتبہ دونوں بھائی ساتھ چلیں گے۔ آٹھ دن گذر گئے قلندر کا کوئی اتا پتا نہیں، فون بند ہے، جس فلیٹ میں وہ رہتا تھا وہاں تالا پڑا ہے اور مالک مکان نے اسے کرائے پر چڑھانے کے لئے بورڈ لٹکا رکھا ہے اور منیجر کا دل کر رہا ہے قلندر کی بوٹیاں کرکے چیلوں کوڈال دے۔

اسی بارے میں: ۔  خاموش اکثریت کی سوچ

چین کے شہر گوانزو کے فلیٹ میں قلندر اپنی نئی گرل فرینڈ کے ساتھ بیٹھا شغل کر رہا ہے، یہ قلندر کی قسمت ہی تھی کہ اس کی ملاقات جُو آن جیسی خوبصورت لڑکی سے ہوئی تھی، جس مارکیٹ میں وہ کاروباری ڈیل کرتا تھا وہاں یہ سیلز گرل تھی، پہلے تو اُسے یقین ہی نہیں آیا کہ اس قدر معصوم اور حسین لڑکی اتنی مجبور بھی ہو سکتی ہے، جب قلندر نے چینی زبان میں اپنے جذبات کا اظہار کیا تو جُوآن تو گویا اس کی قدموں میں بیٹھ گئی اور قلندر کو لگا کہ اس کے ہاتھ کوئی خزانہ آ گیا ہے، جُوآن نے بتایا کہ وہ مقامی کالج میں فلسفے کی طالبہ ہے اور اُس کی ایک آٹھ ماہ کی بچی بھی ہے جس کا باپ اسے چھوڑ کو غائب ہو چکا ہے، اپنی پڑھائی اور بچے کو پالنے کے لئے مجبورا اسے ملازمت کرنی پڑتی ہے۔ جُوآن جیسی کم سِن حسینہ کے ہونٹوں سے اس قسم کی کہانی سُن کر تو چنگیز خان موم ہو جائے وہ تو پھر قلندر تھا۔ اُس نے فوری طور پر نوٹوں کی ایک گڈی اپنی محبوبہ کے ہاتھوں میں دی اور کہا کہ اب اسے یہ ملازمت کرنے کی ضرورت نہیں، وہ ہر ماہ چین آکر اسے ملا کرے گا اور اُ س کا خرچ اٹھائے گا۔ جُوآن کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ فرط محبت سے مغلوب ہو گئی، اس کے بعد کیمرہ پین کرتا ہوا کمرے میں لگے ہوئے ٹیبل لیمپ پر فوکس ہو گیا۔ اگلی روز جب قلندر بیدار ہوا تو رات کا خمار ابھی باقی تھا، اس نے بستر پر نظر دوڑائی، جُوآن غائب تھی اور ایک خط سرہانے رکھا تھا جس کا لب لبا ب یہ تھا کہ ڈئیر قلندر، تمہیں ہر ماہ چین آ کر مجھے خرچہ دینے کی ضرورت نہیں، میں نے اگلے پانچ برس کا ایڈوانس خود ہی لے لیا ہے، تمہاری اور بہت سوں کی، جُوآن! یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ قلندر اس وقت دنیا کی تمام عورتوں کے بارے میں کس قسم کے خیالات رکھتا ہے !

اسی بارے میں: ۔  لگتا ہے لائن ڈراپ ہوگئی

فلسفے کا پروفیسر جُوآن کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس دنیا میں ہمیں جن حالات کا سامنا کر نا پڑتا ہے ہماری زندگی کا مجموعی تاثر انہی سے بنتا ہے، سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہونے والا شخص جس کا باپ اُس کے لئےوراثت میں جاگیریں چھوڑ گیا ہو کبھی زندگی کی اُن سفاکیوں کو نہیں سمجھ سکتا جو اُس شخص کے مقدر میں لکھ دی گئیں جو ہزاروں برس قبل فرعون کے دربار میں بطور غلام پیدا ہوا اور جسے کمر پر کوڑے مار کر کام لیا جاتا تھا۔ طوائف کے گھر پیدا ہونے والی لڑکی، بکنگھم پیلس میں جنم لینے والا شہزادہ، ممبئی کے فٹ پاتھ پر پلنے والے بچے اور ٹاٹا بزنس ایمپائر کا وارث زندگی کے بارے میں وہی سوچ رکھتے ہیں جیسی زندگی انہیں نصیب ہوتی ہے، جیسے تجربات انہیں پیش آتے ہیں، جیسے لوگوں سے انہیں پالا پڑتا ہے۔ یہ تجربات دراصل زندگی کے بکھرے ہوے تصویری معمے ہیں جنہیں جوڑ کر ہی ایک مکمل تصویر بنائی جا سکتی ہے، ہمارا زندگی میں جو بھی تجربہ ہوتا ہے ہم اپنی پوری زندگی کا تاثر اُس ایک تجربے کی بنیاد پر قائم کر لیتے ہیں جو درست بات نہیں۔

پروفیسر کی باتیں شاید ٹھیک ہوں مگر سیٹھ صاحب اب اپنے ملازمین پر ٹکے کا اعتبار نہیں کرتے، منیجر کے نزدیک دوستی یاری جیسی باتیں بس فلموں میں اچھی لگتی ہیں حقیقی دنیا میں اِن کا کوئی وجود نہیں، قلندر کے نزدیک عورت ذات ایک گالی ہے اور جُوآن کو یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ وہ آئندہ زندگی میں اپنی بچی کو مردوں کے اِس مکروہ معاشرے سے کیسے بچائے گی !


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 149 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada