پینتیس سال پہلے کا سلیم اختر..!


(گزشتہ سے پیوستہ)

باتوں باتوں میں سلیم اختر کا سراپا بیان کرنا تو بھول ہی گیا، پچاس کا سن اور اس کے باوجود سر پر پورے بال چاہے گن کر پورے کر لیں سانولا رنگ کتابی چہرہ چہرے پر عینک جو انہیں ’’معنک‘‘ بنانے کی بجائے، ان کی شخصیت کو مزید باوقار بناتی ہے۔ دوران گفت گو کھلکھلا کر ہنستے ہیں اور اچھے لگتے ہیں کالج یا تقریبات میں جاتے وقت گرمیوں میں پینٹ شرٹ اور سردیوں میں سوٹ میں ملبوس ہوتے ہیں، جب کہ گھر میں اور علامہ اقبال ٹاون کے جہان زیب بلاک میں ہوائی چپل دھاری دار پاجامہ اور تنگ چولی جیسی ایک قمیص پہن کر پھرتے ہیں۔

اس میں سے نیلے رنگ کا دھاری دار پاجامہ تو اب ان کا ’’ٹریڈ مارک‘‘ بن گیا ہے، کیوں کہ قمیص کا رنگ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ مگر پاجامہ وہی رہتا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ اب فیکٹری والے یہ کپڑا صرف سلیم اختر کی سرپرستی کی وجہ سے بنا پائے ہیں اور غالباً یہ خاصا نادر کپڑا ہے کیوں کہ میں نے کئی ماڈرن گھرانوں کے ڈرائنگ روم میں اس ڈِزائن کے کپڑے کو بطور ڈیکوریشن پیس دیواروں پر چسپاں دیکھا ہے۔

میں نے اپنے مضمون کا آغاز ڈاکٹر صاحب کی کچھ اور نوع کی تحریروں کے حوالے سے کیاتھا اور اب اختتام بالکل کچھ نوع کی تحریروں کے حوالے سے کرنا چاہتا ہوں۔ ڈاکٹر سلیم اختر غالباً بائیس کے قریب انتہائی وقیع کتابوں کے مصنف ہیں۔جن میں ان کی مقبول زمانہ کتاب ’’اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ‘‘ بھی شامل ہے، جس کے کتنے ہی ایڈیشن اب تک فروخت ہو چکے ہیں؛

تاہم صرف اقبال پر ان کی نو کتابیں موجود ہیں، جن میں سے دو کتابیں ان کی تصنیف ہیں اور سات ترجمہ و تالیف کی ذیل میں آتی ہیں۔ یوں ڈاکٹر سلیم اختر صرف نفسیاتی ناقد، ناول نگار، افسانہ نویس اور مزاح نویس ہی نہیں، باقاعدہ ماہر اقبالیات بھی ہیں ۔

سلیم اختر ہمارے ملک کے ان چند دانشوروں میں سے ہیں جن کا سچ مچ علم ہی اوڑھنا اور بچھونا ہے؛ کیوں کہ دانشور وہ ہوتا ہے جس کی کوئی تصنیف نہ ہو بس دوسروں پر علم کا رعب ڈالنے کے لئے بازار میں بک آف کوٹیشنز قسم کی بے شمار کتابوں میں سے کچھ خرید لے جن میں سے کوٹیشن یاد کر کے دوسروں کو اور کچھ نہیں تو بوجھوں ضرور مارا جا سکتا ہے، بلکہ سنار طاہر نے بھی سلیم اختر کو یہ بات سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر موصوف کسی کی سنتے ہی نہیں۔

بس ہر وقت پڑھنے میں لگے رہتے ہیں، پھر اپنے سلیم اختر کی ایک بات مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ ان کی بات سمجھ میں کیوں آتی ہے۔ صرف سمجھ ہی میں نہیں آتی بلکہ دل پر گہرا اثر بھی کرتی ہے۔

چناں چہ وہ ناول لکھ رہے ہوں، افسانہ لکھ رہے ہوں، یا تنقید لکھ رہے ہوں پڑھنے والا اس میں محو ہو کر رہ جاتا ہے۔ حالاں کہ کم از کم تنقید تو انسان کو ایسی لکھنی چاہیے، کہ قاری کو جاگتے رہنے کے لیے تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ایک لوٹا پانی کا سر پر ڈالنا پڑے؛ بہرحال یہ ڈاکٹر سلیم اختر کا داخلی معاملہ ہے اور شرفا دوسروں کے داخلی معاملات میں دخل نہیں دیا کرتے!

اور اب آخر میں مجھے ڈاکٹر صاحب کو چند ضروری مشورے دینے ہیں، جس میں سے سب سے اہم مشورہ یہ ہے کہ گو ڈاکٹر صاحب کی عمر کے تیس سال بہترین خدمت کی بہترین مثال ہیں، مگر یہ بات رجسٹر کروانے کے لیے لمبی چوڑی پبلسٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔

اپنے ساتھ شامیں منوانا پڑھتی ہیں، لکھنا پڑھنا ترک کرنا پڑھتا ہے، دوستوں دشمنوں پر نظر ثانی کرنی پڑتی ہے؛ مگر ڈاکٹر صاحب ان میں سے کوئی کام بھی کرنے کو تیار نہیں ہیں کیوں کہ علمی ادبی حلقے ادب میں ان کی برائی کو تسلیم کر چکے ہیں اور غیر علمی و ادبی حلقوں کو ڈاکٹر صاحب اپنے حلقہ انتخاب میں تصور ہی نہیں کرتے۔

سلیم اختر اپنے ’’دور جاہلیت‘‘ میں شاعری بھی کرتے رہے ہیں اور سلیم اختر انجان کے نام سے ان کی شاعری شایع بھی ہوتی رہی ہے۔ اب وہ صرف سلیم اختر کہلاتے ہیں مگر کچھ معاملات میں وہ اب تک انجان ہیں، جن میں سے ایک کا بیان ابھی ہو چکا ہے اور خدا کرے کہ وہ انجان ہی رہیں؛ یہ میرا مشورہ بھی ہے اور دعا بھی ہے۔

(بشکریہ روزنامہ  جنگ)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں