برطانیہ میں ایک خاتون کو دو نئے ہاتھ مل گئے


پانچ برس سے ہاتھوں کی پیوندکاری کی منتظر برطانوی خاتون کا انتظار ایک کامیاب آپریشن کے بعد ختم ہو گیا ہے۔

لیڈز جنرل انفرمری میں کیے جانے والے اس پیچیدہ آپریشن میں 12 گھنٹے لگے۔

اس کامیاب آپریشن کا اعلان ’فائنڈِنگ یوئیر فیِٹ‘ نامی اس خیراتی ادارے نے کیا جس کی بنیاد خود 47 سالہ کورین نے ڈالی تھی۔

کورین ہٹن 2013 میں شدید نمونیا اور سیپسِس کا شکار ہوئیں جس کے بعد ان کی جان تو بچ گئی لیکن ان کے دونوں ہاتھ اور پیر کاٹنا پڑے۔

آپریشن کے بعد کورین ہٹن نے طبی عملے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، ’اب میرے ہاتھ ہیں، اور بالکل ویسے ہی دکھتے ہیں جیسے میرے ہاتھ تھے۔ میری انگلیاں ہیں، میں انہیں ہلا سکتی ہوں۔ ویسے مجھے ابھی ایسا کرنا نہیں چاہیے، مگر مجھے یقین نیں ہوتا۔ میں کتنی خوش ہوں بیان نہیں کر سکتی۔‘

یہ بھی پڑھیے

رحم مادر کا ٹرانسپلانٹ، بے اولاد افراد کے لیے بڑی خبر؟

فرانس میں ایک شخص کا ’تیسرا چہرہ‘

گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری، 16 افراد کو قید

’فائنڈِنگ یوئیر فیٹ‘ کے فیس بک پیج پر پوسٹ کیے گئے ایک پیغام کے مطابق، ’یہ اس دن کی سالگرہ پر ہوا ہے جس دن کورین نے ایک سانحے سے ایک خوبصورت کمیونٹی تخلیق کی۔ آپ اسے قسمت کہہ سکتے ہیں۔‘

ماہرین کافی عرصے سے کورین کے لیے معقول ہاتھ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کورین ایک سابق بزنس وومن ہیں جنھوں نے اعضا عطیہ کرنے سے متعلق آگہی پھیلانے کے لیے کافی کام کیا ہے۔

کئی سال کے انتظار کے بعد انہیں اس ہفتے بتایا گیا کہ ان کے خون کے گروپ، رنگ اور ہاتھ کے سائز سے ملتے ہاتھ مل گئے ہیں۔

’فائنڈِنگ یوئیر فیِٹ‘ کے مطابق ان کا آپریشن پیر دن ایک بجے شروع ہوا۔

ان کے طبی عملے میں پروفیسر انڈرو ہارٹ شامل تھے جنہوں نے 2013 میں ان کے ہاتھ اور پیر علیحدہ کرنے کا آپریشن بھی کیا تھا، اور جو اب ان سے قریبی دوست بھی ہیں۔

یہ آپریشن برطانیہ میں 2016 میں پہلی بار دونوں ہاتھوں کی کامیاب پیوند کاری کرنے والے پروفیسر سائمن کی قیادت میں ہوا۔ پروفیسر کے اس سے پہلے پانچ ایسے آپریشن کر چکے ہیں۔

انھوں نے کہا، ’کورین ایک نہایت ہی مثبت، ہار نہ ماننے والی اور پرعزم خاتون ہیں، اور تمام تر مشکلات کے باوجود اب انھیں وہ ہاتھ مل گئے ہیں جن کی انھیں خواہش تھی۔‘

انھوں نے مزید کہا، ’کورین نے یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر اور کافی تحقیق کے بعد کیا۔ انھیں اس کے فوائد اور خطرات دونوں کا بخوبی اندازہ تھا۔ انھیں احساس ہے کہ انھیں ایک ایسے نامعلوم خاندان کی طرف سے یہ بیش قیمت تحفہ ملا ہے جو اس وقت درد اور غم سے گزر رہا ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ کورین اس تحفے کے لیے ہمیشہ شکرگزار رہیں گی۔‘

کٹے اعضا والے افراد کی مدد

جب کورین ہٹن بیمار پڑیں تو ان کے زندہ بچ جانے کا صرف پانچ فیصد امکان تھا۔ اس سے پہلے وہ گلاسگو میں اپنی گرافِکس کی کمپنی چلاتی تھیں۔

اب وہ اپنا سارا وقت اس خیراتی ادارے کو چلانے میں استعمال کرتی ہیں جس کی بنیاد انہوں نے پورے ملک میں ایسے افراد کی مدد کرنے کے لیے ڈالی تھی جن کے اعضا کسی بھی وجہ سے کاٹنے پڑے ہوں۔

کورین ہٹن ماؤنٹ کِلِیمنجارو سر کرنے والی پہلی خاتون بنیں جن کے ہاتھ اور پیر دونوں نہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے بین نیوِس کی چوٹی سر کی، اران جزیرے کے گرد سائکل پر چکر لگایا، سکیئنگ سیکھی اور بال روم رقس بھی کیا۔

ان کے خیراتی ادارے نے اب تک سات لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ رقم جمع کی ہے۔

2016 میں انہوں نے ایک ایسی برہنہ تصویر کے لیے پوز کیا جس میں ان کے جسم پر ان تمام اعضا اور ٹِشوز کو پینٹ گیا تھا جو ڈونیٹ کیے جا سکتے ہیں۔ اس کا مقصد پیوندکاری سے جڑے مسائل کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا تھا۔

برطانیہ میں ٹانیا جیکسن وہ پہلی خاتون تھیں جنھیں پیوند کاری کے ذریعے دونوں ہاتھ ملے۔ انہوں نے کورین ہٹن کو ٹی وی پر دیکھنے کے بعد یہ آپریشن کرانے کا فیصلہ کیا۔

دیگر افراد کے لیے مشعل راہ

’فائنڈِنگ یوئیر فیِٹ‘ کے ایک ترجمان نے ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اب تک کورین ہٹن کی حمایت کی ہے۔

انھوں نے کہا، ’کورین نے اپنے اعضا کھونے کے بعد جو کچھ کر دکھایا ہے وہ آسان نہیں تھا، اور ہمیں یقین ہے کہ وہ آگے بھی اوروں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوں گی۔

یہ موقع حوشی ساتھ کچھ تلخی کا بھی ہے کیوںکہ پیوندکاری کے لیے ہمیشہ ایک ڈونر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس شخص اور اس کے خاندان نے آج بہت سی زندگیاں بدل دیں اور ایک ماں کے لیے اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑنے کو پھر سے ممکن بنایا۔ کورین اس تحفے کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں ہونے دیں گی۔‘

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6755 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp