بے ربط باتیں


چند سال قبل تراویح کے لیے جاتے ہوئے ایک ڈاکو نے میرے سینے پر پستول تان کر کہا جو کُچھ ہے نکال دو۔ وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ ضمنی بجٹ میں نئے ٹیکس لگائے جائیں گے۔ ایک دوست بتا رہے تھے کہ اُن کی گلی کا چوکیدار ہی تمام چوریوں میں ملوث نکلا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق وطن عزیز میں پچھلے 3 سالوں میں جبری گُمشدگیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ صبح دروازے پر دستک ہوئی، کون ہے؟ پر جواب آیا گھر میں راشن بالکل ختم ہے اللہ کے نام پر کُچھ دے دو۔

خبر ہے کہ سعودیہ، چین کے بعد ترکی کا وزیر اعظم نے کامیاب دورہ مُکمل کرلیا ہے۔ ایک دن ہمسائے کو بُہت پُھرتی سے کام کرتے دیکھا تو استفسار پر معلوم ہوا کہ گھر کا داماد آیا ہوا ہے۔ اخبار میں عمران خان صاحب کی عرب شہزادے کے لیے گاڑی چلاتے ہوئے کی تصویر دیکھی۔ کُچھ دن پہلے گاؤں والے ایک شخص کا مُنہ کالا کر کے گدھے پر پھرا رہے تھے، آج اُسی شخص کے گلے میں ہار ڈال کر کندھوں پر اُٹھاے ہوئے تھے۔ سُنا ہے چیف جسٹس صاحب نے بلاول بھٹو اور مُراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حُکم جاری کیا ہے۔

ایک رشتہ دار نے اخباری اشتہار کے ذریعے اپنے بیٹے کو عاق کر دیا تھا مگر دوسرے رشتہ داروں سے معلوم ہوا وہ ابھی تک خفیہ اُس بیٹے کا نان نفقہ اُٹھا رہے ہیں۔ کافی عرصے سے پرویز مُشرف کے خلاف جاری کیسوں میں کوئی پیش رفت نہیں ہورہی اور سُپریم کورٹ کی بار بار طلبیوں کے باوجود اُن کی حاضری مُمکن نہیں بنائی جا سکی۔ میری تنخواہ اور میرے خرچوں میں بالکل بھی توازن نہیں ہے، ہمیشہ مہینہ کے آخر میں دوسروں سے قرض مانگنا پڑتا ہے۔

کہیں پڑھا کہ آئی ایم ایف اور حکومت پاکستان کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ بھائی! جو مرضی کر لیا جائے بیٹی بیٹی ہی ہوتی ہے اور بہو بہو، بے شک بہو کتنی ہی سگھڑ اور ادب و احترام کرنے والی ہو اور بیٹی جتنی مرضی بد زبان و ہتھ چُھٹ کیوں نہ ہو۔ لوگوں کو شکائت ہے کہ راؤ انوار اور احسان اللہ احسان تو مہمانوں کی زندگی گذار رہے ہیں مگر دوسری طرف پشتون تحفظ موومنٹ اور صحافیوں کو اُن کی حدود یاد دلائی جا رہیں ہیں۔

ٹیلی ویژن پر خبر نشر ہو رہی تھی کہ چین چاند کے تاریک حصے تک کامیابی سے پُہنچ گیا ہے۔ کل فیسبُک پر پوسٹ پڑھ رہا تھا کہ مولانا طارق جمیل فرما رہے تھے کہ قیامت کی 15 نشانیاں پوری ہو چُکی ہیں تو کسی بھی وقت آسمان پھٹ سکتا ہے۔ بھارت سمیت دُنیا بھر میں ریلیز ہونے والے میگا سٹار کاسٹ والی فلم ٹھگز آف ہندوستان باکس آفس پر بُری طرح فلاپ ہوگئی جس پر عامر خان نے مداحوں کی توقعات پر پورا نہ اُترنے پر اُن سے معافی مانگ لی۔

وفاقی وزرا روز ٹیلی ویژن پر آکر کہتے ہیں کہ وہ اپنے وعدوں کے مطابق مُلک میں تبدیلی لے آئے ہیں۔ میرے مُحلے دار نے میرے سامنے اپنے کاروباری پارٹنر پر ہیرا پھیری کا الزام لگایا پھر پورے پانچ منٹ بعد اُس سے ساتھ مزید سرمایہ کاری کی حامی بھر لی۔ خبر ہے کہ چیف جسٹس صاحب! نے ڈی ایچ اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ سوسائیٹیاں بنانا کیا فوج کا کام ہے؟ ، پھر کیس کو نمٹاتے ہوئے ایڈن کی زمین ڈی ایچ اے کے حوالے کرنے کا حُکم جاری کر دیا۔

بڑوں نے بتایا کہ چور چوری سے جاتا ہے ہیرا پھیری سے نہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما اور ترجمان صاحب ہر پریس کانفرس میں کہتے ہیں حکومت کو تمام اداروں کی سپورٹ حاصل ہے۔ جعلی ڈگری تو حاصل کی جاسکتی ہے پر اُس سے ہُنر تو حاصل کیا جا سکتا نا۔ پارلیمنٹ کی کارروائی دیکھ کر پتہ چلا کہ حکومت ابھی تک کوئی قانون سازی کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ بے ربط باتیں کر کر کے اب تھک چُکا ہوں۔ ربط میں اب کوئی مزہ نہیں رہا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں