میں رونا چاہتا ہوں


کوئی دس قبل میں نے امی کا خاکہ لکھا تھا جسے عدنان محسن نے گورنمنٹ کالج لاہور کے سالانہ مجلہ ”راوی“ میں شائع کیا تھا۔ اس خاکے کو لکھنے کا مقصد میں نے اس تحریر میں ہی بیان کیا تھا کہ اکثر لوگوں نے اپنی ماؤں کے متعلق تب لکھا جب وہ اس دنیا میں نہیں رہی تھیں لیکن میں ماں کو ان کی زندگی میں ایک خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہتا ہوں۔ وہ جملہ لکھتے میرا دل اور قلم ایک ساتھ کانپے تھے کہ زندگی میں وہ لمحہ کبھی آئے ہی نہ کہ مجھے ماں کی موت دیکھنا پڑے اس پر لکھنا تو بہت دور کی بات ہے۔

عام طور پر موسمِ سرما کی چھٹیوں کے بعد تعلیمی ادارے یکم جنوری کو کھلا کرتے ہیں۔ لیکن 2016 میں کالجز چار جنوری کو کھلنا تھے۔ میں ان دنوں راولپنڈی میں تعینات تھا۔ موسمِ سرما کی چھٹیاں شروع ہونے سے بھی دو چار روز پیشتر ہی لاہور آ گیا تھا کہ یہاں گھر آنا تو ہمیشہ ایک ضمنی سی کارروائی رہی اصل میں میرے سب دوست اور دلچسپیوں کے ٹھکانے لاہور میں ہی تھے۔ راولپنڈی تبادلے سے قبل جب ابھی میں لودھراں کے قریب جلالپور پیروالہ میں ہی تعینات تھا تب بھی میں چاہے ایک روز کے لیے ہی سہی ہر ہفتہ دس دن بعد لاہور ضرور آتا تھا۔ معمول یہی تھا کہ کالج سے چھٹی کے فوری بعد پہلی دستیاب بس پر لاہور کے لیے نکل کھڑا ہوتا اور پھر جس روز کالج حاضر ہونا ہوتا اس سے قبل رات کی آخری گاڑی پکڑا کرتا تھا۔ مقصد یہی ہوتا تھا کہ چھٹی کا زیادہ سے زیادہ وقت لاہور میں گزارا جا سکے۔

اس مختصر قیام کے دوران میرا سارا وقت گھر سے باہر ارحم انعم لوگوں ساتھ، سانجھ پر یا لاہور کے مختلف کتب و چائے خانوں پر ہی گزرا کرتا تھا۔ ان سب مصروفیات سے نمٹتے گھر لوٹتے اتنی دیر ہو چکی ہوتی تھی کہ امی سو چکی ہوتی تھیں۔ ان سے ملاقات بس ناشتے کے دوران ہی ہوا کرتی تھی۔ اس کے بعد میں ہوتا اور لاہور کی سڑکیں ہوا کرتی تھیں۔ اس معمول کے سبب لاہور سے واپس روانہ ہوتے وقت امی سے مل کر نہیں جایا کرتا تھا۔

لیکن دو ہزار سولہ میں شاید اس وجہ سے کہ لاہور آئے خاصے دن ہو چکے تھے یا سردی کچھ زیادہ پڑی تھی میں نے بجائے رات کا سفر کرنے کے دن میں ہی واپسی کی ٹھان لی تھی۔ سہ پہر چار بجے کا ٹکٹ تھا۔ امی کی طبیعت کچھ ناساز تھی۔ بلکہ انہیں گزشتہ ہفتے بخار بھی رہ چکا تھا۔ اسی بخار سے ہو جانے والی کمزوری کے سبب انہوں نے دو دن پیشتر یکم جنوری جمعہ کے روز مجھے ہی کہا تھا کہ میں ان کے غسل کے لیے گرم پانی کا پتیلا غسل خانے میں چھوڑ آؤں۔

اس بات سے بھی میں ٹھٹکا نہیں، نہ کسی غیر معمولی پن کا ہی احساس کر پایا۔ وہ جو دس سال قبل ان کا خاکہ لکھا تھا اس میں میں لکھ چکا ہوں کہ ان کو میں نے شاید اپنی ہوش سے بھی قبل اپنے ارد گرد کے لوگوں اور بعد ازاں اپنی اولاد کی خدمت گزاری میں ہی مشغول دیکھا ہے۔ ایسا ہی اس دن تک بھی تھا جب میں ان سے آخری دفعہ ملا ہوں۔

عنایہ کی سالگرہ ابھی پچھلے ہی ہفتے گزری تھی۔ اس میں ہم نے اپنے بہت سارے رشتے داروں کو بلایا ہوا تھا۔ رات بھر ٹھہرانے کا پروگرام تھا، امی نے میرے ساتھ مل کر دن میں ہی ان کے لیے کمرے تیار کروا دیے تھے، بستر نکلوا دیے گئے تھے۔ پھر کسی وقت پلان بنا کہ رات Bonfire کیا جائے گا۔ تجویز نجانے کس کی تھی لیکن چھوٹی بہن کاشی ضد کرنے لگ گئی کہ یہ لازمی کرنا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ امی کو قطعاً معلوم نہیں تھا کہ Bonfire کس بلا کا نام ہے لیکن انہوں نے کسی ملازم کو بھیج کر لکڑیاں بھی شام سے پہلے ہی منگوا دی تھیں، بلکہ اگلی صبح بچ جانے والی لکڑی کہیں سنبھال کر ہمیں بتا بھی دیا کہ ان کا خیال تھا کہ ہم نے پھر کبھی یہ کام کرنا ہو گا اور یہ نہ ہو کہ اتنی اعلیٰ درجے کی سوختنی بابا طالب حقے میں ہی پھونک ڈالے۔

ہاں یاد آیا، ان سب تیاریوں کے دوران امی سیڑھیوں کے موڑ پر گر گئیں تھیں۔ میں انھیں بازوؤں میں اٹھا کر ان کے بستر پر لایا تھا۔ ان کے سر پر چوٹ آئی تھی۔ اور شاید میرے دل پر۔ گھر میں سالگرہ کی تیاریوں کے سبب خوشی کا سماں تھا، اس لیے امی کی چوٹ دیکھ کر مجھے اکیلے میں اوپر والے کمرے میں جا کر رونا پڑا تھا۔

رونے سے یاد آ رہا ہے کہ رویا تو میں اس وقت بھی بہت تھا جب گڑھی شاہو والے گھر میں ٹی وی پر ماں کی شان متعلق کوئی پرسوز کلام سن لیا تھا۔ امی تب میرے پاس آئی تھیں، مجھے گلے سے لگایا تھا اور دیر تک سمجھاتی رہی تھیں کہ ابھی تو میں ہوں، ابھی تو میں ہوں۔

لیکن اب امی نہیں ہیں۔ ان کے نہ ہونے سے پہلے وہ آخری ملاقات ہے جو میرے معمول میں تبدیلی کے باعث ہی ممکن ہو پائی۔ امی میرے کپڑے دھو کر اور چند قمیصیں اپنے ہاتھ سے استری کر کے خود ہی بیگ تیار کر کے رکھ دیا کرتی تھیں۔ تین جنوری دو ہزار سولہ کو بھی یونہی تھا۔ دوست جانتے ہیں کہ میں میل جول کی رسومات سے قطعی نا آشنا یوں۔ مجھے رخصت ہونا بالکل ہی نہیں آتا۔ اس روز بھی میں اپنی طرف سے بیگ اٹھانے کے لیے جھکا تھا لیکن امی نے مجھے پیار دیا۔

میں وہ پیار لے کر رخصت ہو گیا۔ سات جنوری کو کاشی کا فون آیا کہ جس روز سے گئے ہو امی کو بخار ہے واپس آ جاؤ۔ کاشی کے مزاج سے ہم سب آگاہ ہیں۔ وہ ہم سب بھائیوں کو یونہی آنے بہانے بلاتی رہا کرتی تھی۔ میں نے بتایا کہ کل مجھے اٹک ایک مقابلہ جج کرنے جانا ہے اب ہفتے کو ہی آؤں گا، شام میں گھر فون کیا۔ امی سے بات کرنا چاہتا تھا لیکن کاشی نے بتایا کہ امی دو تین روز سے بالکل سو نہیں پا رہی تھیں ابھی آنکھ لگی ہے۔ بات نہیں ہو پائی۔

اگلی صبح اٹک جاتے گھر سے پیغام ملے کہ امی رات سے اسپتال میں ہیں۔ سوچا مقابلے سے نمٹ کر آج ہی لاہور نکل جاؤں گا۔ اٹک پہنچتے بڑے بھائی صاحب کا فون موصول ہوا، ان دنوں ہمارے آپس میں معاملات خاصے کشیدہ تھے ان کا فون آنا نہایت غیر معمولی تھا۔ ہوا بھی یہی۔ امی کی طبیعت بگڑ رہی تھی۔ اٹک کالج میں مقابلہ شروع ہونے سے قبل ہی میں نے معذرت کی اور واپسی کی سواری ڈھونڈنے لگا۔ بارش اور چھوٹا شہر ہونے کے سبب مشکل سے ہی سواری ملی۔

اسلام آباد پینچتے دوپہر ہو چکی تھی۔ یہاں سے لاہور کے لیے روانہ ہونا تھا۔ مگر یہاں جمعے کا وقفہ چل رہا تھا۔ میں پشاور موڑ کے مختلف بس اڈوں پر لاہور کی سواری کی تلاش میں مارا مارا پھرتا رہا۔ جب تک لاہور پہنچا امی وینٹی لیٹر پر منتقل ہو چکی تھیں۔ پھر تین روز یونہیں گزرے۔ ہم لمحہ لمحہ گن کر گزار رہے تھے۔ ایک دوسرے کو کم اور خود کو زیادہ جھوٹی تسلیاں دے رہے تھے۔ صبح سے دوپہر، دوپہر سے شام ہو جاتی۔ رات ڈھل جاتی لیکن کوئی تسکین بھری خبر نہ ملتی۔

گیارہ جنوری شروع ہوئے دو گھنٹے گزر چکے تھے۔ عثمان کچھ کزنز ساتھ اسپتال میں تھا۔ کسی کو، پتا نہیں کس کو فون آتا ہے، ہم باقی چاروں بھائی ایک ہی گاڑی میں اسپتال کے لیے نکلتے ہیں۔ تمام راستہ جو خاموشی گاڑی میں طاری رہتی ہے وہ کسی قیامت کی پیش گوئی کر رہی ہے۔ اسپتال پہنچتے ہی قیامت ٹوٹ پڑتی ہے۔

امی سے کبھی کسی نے پوچھا تھا آپ اپنی اولاد میں سب سے زیادہ پیار کسے کرتی ہیں، ہر ماں کی طرح ان کا یہی جواب تھا کہ میرے لیے سب برابر ہیں۔ پوچھنے والے نے سوال بدلا کہ آپ سے سب سے زیادہ پیار کون کرتا ہے؟ انہوں نے کہا تھا وقاص۔ مجھے یہ بات اپنے لیے ہمیشہ ایک اعزاز، ایک تمغہ لگی ہے کہ میں جو محبتوں کے اظہار میں ہمیشہ ہی نہایت کورا رہا یوں دنیا میں کم از کم ایک شخصیت تک اس جذبے کی ترسیل کرنے میں کامیاب ہوں۔

اور پھر امی نے ایک دفعہ کہا تھا کہ میرے مرنے پر سب سے زیادہ وقاص روئے گا۔ میں معافی چاہتا ہوں امی، ایسا نہیں ہو سکا، میں رویا ضرور تھا لیکن مجھے اس طرح سے چپ کروانے والا کوئی نہیں تھا جس طرح آپ چپ کرواتی تھیں۔ میں نے رونا چھوڑ دیا۔ لیکن قسم ہے اس مٹی کی جس کے نیچے آپ اپنے بچوں کے لیے ابھی بھی آسانیوں کے اسباب کی فکر میں ہیں میں لگاتار رونا چاہتا ہوں صرف اس ایک جملے کے سننے کو کہ ابھی تو میں ہوں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں