بھارتی طلبہ کو امتحان میں فیل کرنے کی اجازت دے دی گئی


اگر آپ بھارت سے باہر رہتے ہیں تو یہ بات آپ کے لئے دلچسپ ہو سکتی ہے کہ اب بھارت میں آٹھویں کلاس تک کے طلبہ فیل بھی ہو سکتے ہیں۔ اب تک انہیں اس کا ڈر نہیں ہوا کرتا تھا کیونکہ وہ فیل ہو ہی نہیں سکتے تھے۔ پوری بات سمجھنے کے لئے آپ کو اس کا مختصر پس منظر بتا دیتے ہیں۔ یہ 2009 کی بات ہے جب ہندوستان کی پارلیمنٹ میں حق تعلیم قانون منظور ہوا۔ جس کے تحت 6 سال سے 14 سال تک کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم مہیا کرایا جانا ان کا بنیادی حق قرار پایا۔

یہ قانون 2010 میں ملک بھر میں نافذ کر دیا گیا۔ ملک میں تعلیم کو فروغ دینے کے حوالے سے اس قانون کو ایک تاریخی قدم مانا گیا۔ اس طرح بھارت دنیا کے اُن 135 ممالک میں شامل ہو گیا جہاں بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم کی قانونی ضمانت موجود ہے۔ جہاں ایک طرف وسیع پیمانے پر اِس قانون کے نفاذ کا خیرمقدم کیا گیا وہی اس قانون کی ایک شق ایسی بھی تھی جس نے تعلیم کے میدان میں ایک نیا محاذ کھول دیا۔ یہ تھی
No Detention Policy

ڈیٹینشن سے کنفیوز مت ہوئیے، یہاں ڈٹینشن سے مراد پولیس کے ہاتھوں حراست میں لیا جانا نہیں ہے۔ بلکہ طلبہ کو ایک ہی کلاس میں روکے جانے سے ہے۔ تو چلئے سب سے پہلی یہی جان لیں کہ یہ پالیسی ہے کیا؟

اس نوڈیٹینشن پالیسی کے تحت پہلی سے آٹھویں کلاس تک کے کسی بھی طالب علم کو فیل نہیں کیا جائے گا۔ جو بھی بچہ امتحان دے گا وہ پاس ہوگا اور اگلی کلاس میں جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں امتحان میں طالب علم کو فیل کرنے کا متبادل ہی ختم کر دیا گیا اور طالب علم کو سہولت دی گئی کہ ایک بار اسکول میں پہلی جماعت میں داخل ہو اور چھلانگیں مارتا ہوا آٹھویں تک جا پہنچے۔ اس کام کے لئے سی سی ای طریقہ کار شروع کیا گیا جس کے تحت کسی بھی مضمون میں نمبر دینے کا نظام ہٹاکر گریڈنگ کا نظام متعارف کرا دیا گیا۔

پالیسی سازوں کی دلیل تھی کہ طلبہ پر امتحان میں پاس یا فیل ہونے کا زبردست ذہنی دباؤ رہتا ہے اور اس کی وجہہ سے خودکشی تک کے واقعات پیش آ جاتے ہیں اس لئے بچوں کے ذہن سے فیل ہونے کا خوف نکالنا ضروری ہے۔ امید کی جا رہی تھی کہ اس پالیسی سے فیل ہونے کے سبب تعلیم ادھوری چھوڑنے یعنی ڈراپ آؤٹ کے مسئلہ سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔ اس پالیسی کے حامی مانتے تھے کہ پانچویں اور آٹھویں کلاس کے نتائج سے کسی بھی بچے کی لیاقت کو نہیں جانچا جا سکتا لہذا اِن دو کلاسز میں انہیں فیل کرنا صحیح نہیں ہوگا۔

نو ڈیٹنشن پالیسی کو ایک مثال سے یوں سمجھئے کہ چھٹی کلاس میں پڑھ رہی ایک بچی، جس کا نام ہم عاصمہ فرض کر لیتے ہیں، اُس کے والدین عام مزاج کے تحت پہلے ہی اس کو بادل نخواستہ تعلیم دلا رہے تھے کہ وہ چھٹی میں فیل ہو گئی۔ اب پورا اندیشہ ہے کہ اس کے والدین اس کو اسکول سے اٹھا لیں گے۔ لیکن نئی پالیسی چونکہ عاصمہ کو فیل ہونے سے بچا رہی تھی اس لئے اس کے اسکول سے اٹھائے جانے کے امکانات ختم ہو گئے۔ اِس پالیسی کے نافظ ہوتے ہی لاکھوں طلبہ کو اس کا فائدہ ملا، جو فیل ہو رہے تھے اُنہیں اگلی کلاس میں بھیج دیا گیا۔ اب بچے بے خوف ہو کر اپنا رزلٹ لینے جاتے ہے، کیونکہ اب گریڈنگ سسٹم ہے، کس مضمون میں کتنے نمبر ملے ہیں اس کا ڈر ہی چلا گیا۔ اب رپورٹ کارڈ میں گریڈنگ سسٹم ہے۔ جس میں نمبرات کی جگہ اے، بی، سی، ڈی اور ای لکھا ہوا ہے۔

اس پالیسی سے ہر طرف ایک خوشی اور اطمینان سا پھیل گیا۔ جس میں اب تعلیم سے جڑی تمام مشقتیں ختم ہونے جارہی تھی۔ طلبہ بھی خوش، طلبہ کے والدین بھی خوش، اُستاد بھی خوش اور اسکول انتظامیہ بھی خوش۔ چوطرفہ خوشیاں ہی خوشیاں تھی! اور ہو بھی کیوں نہ؟ اب محض اسکول میں داخلہ کرانے بھر کی دقت کے بعد پھر کوئی اور رکاوٹ یا سردردی باقی نہیں رہ گئی تھی۔ ذرا سوچیے کہ بچوں کی تعلیم جو والدیں کے لئے دن و رات کی فکر ہوا کرتی تھی اب وہ اِس بوجھ سے آزاد ہوگئے تھے۔ اُستاد اپنی اُس ذمہ داری سے آزاد ہو گئے، کہ بچوں کو ایک اچھی اور معیاری تعلیم کیسے دینی ہے، ٹیوشن پڑھانے والے اپنی اُس فکر سے آزاد ہو گئے کہ بچے کو پاس کیسے کرانا ہے اور اسکول اتنظامہ اُس سوچ سے آزاد ہو گئی کہ اسکول میں بچوں کے نمبرات کی شرح کیسے بڑھائی جانی چاہیے۔

وقت گزرتا گیا اور یہ سسٹم یوں ہی چلتا گیا! کچھ ہی سالوں میں بچوں کو ایک کے بعد ایک جماعتوں میں چڑھانے کے نتائج آنے شروع ہوگئے اسکول انتظامیہ کے سامنے ایک بہت بڑا مسئلہ یہ بن گیا، جس میں اُن کا کہنا تھا کہ 8 ویں تک ہم بچوں کو فیل نہیں کر سکتے اور 9 ویں جماعت میں جاکے وہ بچے پاس نہیں ہوتے۔ گویا ایک ہی کلاس کمزور بچوں کی آماجگاہ بن گئی۔ اُن کے لئے آہستہ آہستہ یہ تشویش کا ثبب بنتا جا رہا تھا۔ جہاں کلاس میں سبھی بچوں کو ایک ہی درجہ ملا ہوا تھا، تو ایک دوسرے سے مقابلہ آرائی بھی ختم ہو گئی، اور اُس کے لئے سیکھنے کی چاہ بھی۔ بچوں نے پڑھنا چھوڑ دیا کیونکہ اُن کے دل سے فیل ہونے کا ڈر نکل گیا۔ نا اُنہیں کتابیں پڑھنے میں دلچسپی رہی اور نہ ہی یہ سننے میں کہ ٹیچر کلاس میں کیا کہہ رہا ہے۔

معیار تعلیم میں اس گراوٹ اور حالات کی سنگینی کا احساس اس وقت ہوا جب 2012 سے 2015 کے درمیان ہوئے نیشنل اچیومینٹ سروے نے آنکھیں کھول دینے والے حقائق سامنے رکھے۔ سروے کے مطابق 5 ویں جماعت کے زیادہ تر بچے اپنی نصابی کتابیں نہیں پڑھ پا رہے تھے۔ اُن زیادہ تر بچوں کو نہ تو اپنی نصابی کتابوں کے مواد کی سمجھ تھی اور نہ ہی وہ بنیادی حساب کتاب ہی کر سکتے تھے۔ اس سنگینی کو ایک اور رپورٹ نے بھی سامنے رکھا۔ 2017 کی تعلیم کی صورتحال سے متعلق سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ دسویں کلاس کے زیادہ تر طلبہ جن کی عمر 14 سے 18 سال کے درمیان ہے وہ بنیادی حساب کتاب میں کمزور تھے۔

عالم تو یہ تھا کہ یہ بچے انگریزی کے ایک جملے کی صحیح صحیح ادائیگی تک سے معذور تھے۔ انگریزی تو خیر بدیسی زبان ہے ان میں سے بہت سے ایسے بھی تھے جو اپنی مادری زبان تک میں عبارت نہیں پڑھ پا رہے تھے۔ حالات کی نزاکت اس درجہ تھی کہ بہت سے بچے گھڑی دیکھ کر یہ بتانے سے قاصر تھے کہ ابھی اس میں کیا وقت آ رہا ہے؟ عام لفظوں میں یوں سمجھ لیجیے کہ بچوں کے پاس کتابیں تھیں، نصاب تھا، اساتذہ تھے، لائبریری اور اسکول بھی تھے اگر نہیں تھا تو علم نہیں تھا۔ ان چشم کشا رپورٹوں اور سروے کے بعد معیار تعلیم میں تشویش ناک گراوٹ پر بحث شروع ہو گئی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

صائمہ خان، اینکر پرسن دور درشن، دہلی کی دیگر تحریریں
صائمہ خان، اینکر پرسن دور درشن، دہلی کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

صائمہ خان، اینکر پرسن دور درشن، دہلی

صائمہ خان دہلی سے ہیں،کئی نشریاتی اداروں میں بطور صحافی کام کر چکی ہیں، فی الحال بھارت کے قومی ٹی وی چینل ڈی ڈی نیوز کی اینکر پرسن ہیں

saima-skhan has 2 posts and counting.See all posts by saima-skhan