جنگ سے نفرت دلانے والی بچی


\"mubashir\"

’اگر یہ لڑکی زندہ بچ گئی ہوگی تو زندگی بھر تصویروں سے نفرت کرتی رہے گی۔‘
وہ تصویر دیکھ کر میں نے یہ سوچا تھا۔
ممکن ہے کہ آپ نے بھی وہ فوٹو دیکھا ہو۔ ویت نام کی جنگ کا ایک منظر ہے۔ جنگی طیاروں نے ایک گاؤں پر نیپام بم سے حملہ کیا تھا۔ اس تصویر میں روتے ہوئے کئی بچے اور ہیلمٹ پہنے فوجی کیمرے کی طرف بھاگتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ ایک ننھی بچی نے اپنی پشت بری طرح جل جانے کی وجہ سے اپنے کپڑے اتار پھینکے ہیں اور تصویر میں اس کا کرب نمایاں ہے۔
میں نے وہ تصویر خبر رساں ادارے رائیٹرز کی کتاب ’’فرنٹ لائنز‘‘ میں دیکھی تھی۔
پہلے میں کتابوں سے محبت کرنے والوں کو یہ کیوں نہ بتاؤں کہ فرنٹ لائنز کیا کتاب ہے؟ یہ صحافیوں کی سچی کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ ممکن ہے کہ وہ سب بڑے صحافی نہ ہوں، پتا نہیں، لیکن انھوں نے بطور رپورٹر اہم ترین واقعات کی کوریج کی تھی۔ ان کی بھیجی ہوئی خبریں اخبارات میں چھپ گئی تھیں۔ لیکن ہر خبر سے کئی دوسری کہانیں بھی جڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ رپورٹر عام طور پر وہ کہانیاں نہیں لکھتے۔
رائیٹرز کو نہ جانے کیا سوجھی کہ اس نے اہم ترین واقعات کی کوریج کرنے والے پینتالیس صحافیوں سے کہا کہ آپ ان واقعات سے جڑی سچی کہانیاں لکھیں۔ یوں وہ کتاب فرنٹ لائنز مرتب ہوئی۔
فرنٹ لائنز 2001 میں چھپی اور رائیٹرز نے اس وقت کے نئے میڈیا یعنی انٹرنیٹ پر اس کی تشہیر کی۔ میں ان دنوں ایکسپریس میں کام کرتا \"book\"تھا۔ جی ہاں، اس وقت بھی کتابوں کا دیوانہ تھا۔ لیکن حال پتلا تھا۔ تنخواہ بھی پتلی تھی، نئی کتاب کون خریدتا۔ کتاب بھی تیس پاؤنڈ کی۔
میں نے رائیٹرز کو ای میل کی کہ بھیا، یہ غریب صحافی اتنے بہت سے پاؤنڈ جمع نہیں کرسکتا۔ یا تو کچھ رعایت کردیں یا اس کے کچھ باب مجھے ای میل کردیں۔ اس کے ساتھ اپنی ایک کہانی بھی بھیجی۔ لندن سے جواب نہیں آیا، سوال آیا کہ آپ کا ایڈرس کیا ہے؟ میں نے جو پتا بتایا، چند دن بعد وہاں بڑے سائز، چکنے صفحات اور غیر معمولی کہانیوں کی کتاب پہنچ گئی۔
میں نے رائیٹرز کی ای میل آج بھی سنبھال کر رکھی ہوئی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ہم آپ کے لیے تحفہ بھیج رہے ہیں، کوئی پیسا بھیجنے کی ضرورت نہیں۔ میں واقعی انھیں کوئی پیسا نہیں بھیج سکا لیکن دو ہفتے بعد انھیں سنڈے ایکسپریس کا وہ شمارہ ضرور بھیجا جس میں اس کتاب پر تبصرہ، ایک کہانی کا ترجمہ اور مزید کئی کہانیوں کے اقتباسات چھاپ دیے تھے۔
فرنٹ لائنز میں ایک کہانی رونالڈ کلارک کی بھی تھی۔ یہ حضرت ویت نام جنگ کے دوران سائیگون میں رائیٹرز کے بیورو چیف تھے۔ انھوں نے جنگ کے حالات اور اپنے دو رپورٹرز کی ہلاکت کا واقعہ لکھا لیکن ساتھ میں وہ تصویر چھاپی جس کا میں نے ذکر کیا ہے۔
آٹھ جنوری 1972 کو لی گئی اس تصویر پر اے پی کے فوٹوگرافر Nick Ut کو Pulitzer انعام ملا تھا۔ شاید آج بھی ویت نام جنگ کی عکاسی کے لیے اسی تصویر کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ میں نے فرنٹ لائنز میں وہ تصویر دیکھ کر سوچا تھا، ’اگر یہ لڑکی زندہ بچ گئی ہوگی تو زندگی بھر تصویروں سے نفرت کرتی رہے گی۔‘
میں نے فرنٹ لائنز پڑھنے کے بعد اسے اپنی کتابوں کی الماری میں کہیں چھپادیا۔ وہ اس وقت میری تمام کتابوں میں سب سے مہنگی کتاب \"kim-vietnam2\"تھی۔ آج میرے پاس اس سے زیادہ مہنگی کتابیں ہیں لیکن اس سے زیادہ قیمتی کوئی کتاب نہیں۔
بہت سال ہوگئے۔ میں فرنٹ لائنز کی کہانیاں بھول گیا۔ ویت نام جنگ اب کسے یاد ہے؟ اب کہیں اس کا تذکرہ نہیں ہوتا۔ میں وہ تصویر بھی بھول گیا۔
لیکن صحافی ہوں نا، تصویروں کی کتابیں جہاں نظر آتی ہیں، انھیں حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ آثار قدیمہ کی تصویروں والی کتابیں۔ کھیلوں اور کھلاڑیوں کی تصویروں والی کتابیں۔ اہم خبریں اور واقعات بیان کرتی تصویروں والی کتابیں۔ ہر کتاب ایک نئی دنیا میں لے جاتی ہے۔
میں نے ایک بار تصویروں پر کہانیاں لکھنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ لیکن بہت جلد احساس ہوگیا کہ الفاظ میں کتنی بھی تاثیر ہو، تصویر سے بہتر کہانی بیان نہیں کرسکتے۔
گزشتہ اتوار کو دفتر جاتے ہوئے حسب عادت ایک پرانی کتابوں کی دکان میں جھانکا تو تصویروں والی ایک کتاب دکھائی دی۔ دکان دار نے اس کے اتنے کم دام بتائے کہ سونگھے چکھے بغیر خرید لی۔
گھر آکر ورق گردانی کی تو پتا چلا کہ اس کتاب کا عنوان محبت ہے۔ اس موضوع پر کتاب چھاپنے کے لیے شاید کوئی مقابلہ منعقد کیا گیا ہوگا۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ چالیس ہزار تصاویر آئیں اور ان میں سے سو تصاویر کو منتخب کرکے شائع کیا گیا۔
تصاویر میں ہر طرح کی محبت نظر آتی ہے۔ پہلی نظر کی محبت، میاں بیوی کی محبت، ماں اور بچے کی محبت، بہن بھائی کی محبت،
بچپن کی محبت، جوانی کی محبت، بڑھاپے کی محبت۔\"kim-vietnam3\"
سو صفحات پلٹ کر بیک ٹائیٹل پر آیا تو پتا چلا کہ یہ کتاب Kim Phuc نے چھاپی ہے۔ وہی لڑکی جس نے پوری دنیا کو ویت نام کی ننگی جنگ کی تباہی دکھائی تھی۔
اس صفحے پر لکھا ہے کہ نو سالہ بچی بم حملے میں اتنی شدید زخمی ہوئی تھی کہ اسے 14 مہینے اسپتال میں علاج کرانا پڑا۔ اس کے زندہ بچنے کی امیدیں کم تھیں لیکن وہ بچ گئی۔ صحت یاب ہوکر اس نے تعلیم پر توجہ دی۔ جنگ ختم ہوئی تو وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے کیوبا چلی گئی۔ اور پھر کمیونسٹوں سے بغاوت کرکے کینیڈا میں پناہ لے لی۔ وہاں اب اس کے نام پر کم فاؤنڈیشن ہے جو دنیا بھر میں جنگ سے متاثر بچوں کی مدد کرتی ہے۔ کم یونیسکو کی خیرسگالی سفیر بھی ہے۔
اس کتاب میں ایک تصویر نے کچھ دیر کے لیے میری قوت گویائی سلب کرلی تھی۔ یہ ایک بوڑھے جوڑے کی تصویر ہے۔ نابینا خاتون اپنی انگلیوں سے کوئی کہانی پڑھ کر اپنے شوہر کو سنا رہی ہے۔
کاش کبھی میں وہ کہانی لکھ پاؤں۔ کاش!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 74 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi