مذہبی بیانیہ یا مذہبی ذہن؟


akhtar-ali-syed اختر علی سید 

بیانیہ (Narrative) کا اردو متبادل ہے اور ما بعد جدیدیت فکر کی ایک اصطلاح بھی. اردو زبان میں اس کا استعمال جدید فکر رکھنے والے علما نے حال ہی میں شروع کیا ہے. مذہبی بیانیہ بھی ان ہی علما کی وضع کردہ ترکیب ہے. یہ ترکیب مذہبی فکر، سوچ اور بیان کے لئے استعمال ہو رہی ہے

مذہبی فکر کے دو پہلو غور و فکر کا تقاضا کرتے ہیں. ایک، یہ درست ترین سوچ ہے اور اس سے مختلف ہر سوچ غلط اور قابل اصلاح ہے. دوسرے، اس کا اعلان، بیان اور عمل سے متعلق اس کے ہر پہلو پر پوری جماعت کا عمل پیرا ہونا لازم ہے. اس بیان اور اعلان کا مقصد دوسروں کو اس مذہبی فکر کے فیوض سے سرفراز کرنا اور جنّت ارضی کے خواب کو تعبیر دینا ہے. مذہبی فکر اپنے اندر دوسروں کو بہر صورت قائل کرنے کا مطالبہ سموئے ہوئے ہے اور اس بات کی خواہش اور کوشش کرتی ہے کہ دوسرے بھی حقیقت اور سچائی کی ان صورتوں کے سامنے بہ رضا و تسلیم اپنے سر جھکائیں جن پر اعلان کرنے والا ایمان لا چکا ہے. مابعد جدیدیت میں ایسا بیان جو حقیقت کی ایک صورت پر متعدد افراد سے ایقان کا مطالبہ کرے مہا بیانیہ یا عظیم بیانیہ کہلاتی ہے. اس اعتبار سے مذہبی بیانیہ کی ترکیب یقیناً محل نظر ہے ۔

ایک ایسا مذہبی ذہن جو اپنی فکر کے بیان، ابلاغ اور نفاذ پر مصر ہو وہ حال میں کیا لائحہ عمل اختیار کرے گا اور مستقبل کے لئے کیسے خواب بنے گا یہ جاننے کے لیے نفسیات کا طالب علم ہونا قطعاً ضروری نہیں ہے. اور یہ مذہبی ذہن اپنے سے مختلف فکر و اعتقاد رکھنے والوں کے لیے دنیا و ما بعد میں کون سا مقام تجویز کرتا ہے یہ جاننے کے کسی کو علم دین کی ضرورت نہیں صرف انسانی خون کے رنگ سے واقف ہونا کافی ہے.

تقابل ادیان کے مضمون کا رواج نہ پا سکنا دوسروں کے افکار و اعتقاد کا ہمدردی سے غیر جانبدارانہ مطالعہ کرنے کی صلاحیت سے تہی ہونے کے ساتھ ساتھ مذہبی ذہن کی حدود و قیود سے بھی آگاہ کرتا ہے. یہاں تقابل ادیان کے مطالعے کا سوال بے محل محسوس ہونا قابل فہم ہے کیونکہ جو مذہبی ذہن ایک دین پر کار بند دیگر مسالک کی تکفیر اور قتال میں مصروف ہو اس سے دیگر ادیان کے معروضی مطالعے کی توقع شعلوں سے برودت کی امید ہے.

بعض احباب نے گزشتہ گزارشات کے شائع ہونے کے بعد ایک نامور مذہبی مفکر کے آسٹریلیا میں ارشاد کردہ خطبات کی جانب اشارہ فرمایا جن میں انہوں نے مختلف اسلامی تحریکات کا جائزہ لیا ہے یہ بجا طور پر اپنی نوعیت کی پہلی کوشش ہے تاہم ان ہی صاحب علم نے تصوف کو متوازی دین قرار دیا ہے. کیا کوئی ’خارج از دین‘ اور ’متوازی دین‘کے مابین فرق اور فاصلے کی نشان دہی کر سکتا ہے؟ گزارش فقط یہ کرنا تھا کہ تقابل ادیان کے مضمون کی اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں عدم موجودگی کے ذمہ دار چارسدہ کے سانحے میں ملوث دہشت گرد نہیں ہیں. اس کے ذمہ دار وہ ہیں جو ملک کے تعلیمی نظام کے خد و خال معین اور وضع کرتے ہیں اور تعلیمی نظام کے ذریعے نظریاتی سرحدوں کا تحفّظ یقینی بنانے کی سعی فرماتے ہیں.

تحفظ کا یہ طریقہ عدم تحفظ کے ایک شدید احساس کے ساتھ ساتھ خود محصوری کے دفاعی طرز عمل کا پتا بھی دیتا ہے. ذہنی خود محصوری آزادی فکر و مطالعہ کے لئے وہی حیثیت رکھتی ہے جو باد سموم برگ و بار کی نشو و نما کے لئے. عہد حاضر کے مسائل کی تفہیم اور حل کے لئے دوسری اور تیسری صدی ہجری کے فقہا کی کتابوں سے استدلال لانا, ان میں موجود مسائل کا اپنے مسائل سے تقابل اور انطباق کرنا اور ان میں تجویز کردہ ضوابط کو قوانین کی اساس بنانے پر اصرار اسی ذہنی محصوری کی علامات ہیں۔ مذہبی ذہن کا ایک لازمی وظیفہ اپنی فکری صداقت پر غیر متزلزل یقین اور بے لچک اصرار ہے. اس وظیفے کی ادائیگی کے دوران مذہبی ذہن کا زمان مکان اور واقعات سے لاتعلق ہو جانا لازمی اور قبل تفہیم ہے. بصد احترام عرض ہے کہ عالمی خلافت کا خواب، جمہوریت اور موجودہ قومی ریاستوں کی مخالفت مذہبی ذہن کی پیچیدگی کی علامات ہیں. ان علامات کو مسئلہ سمجھنا، غلط تشخیص اور جوابی بیانیہ کو علاج قرار دینا غلط تجویز ہے.

علم نفسیات کا ہر مکتب فکر اس امر پر متفق ہے کہ نفسیاتی پیچیدگیوں کی ایک اہم وجہ کسی سبب سے رک جانے والی نشو و نما ہے. ہر نامیاتی وجود وقت کے ساتھ نشو و نما کے مراحل طے کرتا ہے. اگر یہ سفر بوجوہ رک جاے تو اس کا لازمی نتیجہ نفسیاتی خلل کی صورت میں نکلتا ہے. ’استدلال کی پیدائش ‘ سے قبل دوسروں کو اپنی بات پہنچانے اور قائل کرنے کے طریقوں کا اطلاق اور استعمال اگر ’نظریے کی وفات‘ کے بعد والے زمانے میں کیا جاے تو ہر طالب علم کامیابی کے امکانات کا تناسب پوچھنے کے ساتھ ساتھ ابلاغ و ترسیل کے ان طریقوں کو استعمال کرنے والوں کے اختلال ذہنی کی پیمائش کرنے کا بھی حق رکھتا ہے. مسلمان معاشروں کے دشمنوں کا سب سے کاری وار اس مذہبی ذہن کی تشکیل، تربیت اور مسلسل آبیاری ہے ۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “مذہبی بیانیہ یا مذہبی ذہن؟

  • 23-01-2016 at 11:28 pm
    Permalink

    Great

  • 24-01-2016 at 10:54 am
    Permalink

    حالیہ چند سالوں میں ‘‘ مذہبی بیانیہ ‘‘ کے عنوان سے میڈیا پر جو اصطلاح یا تصور سامنے آیا ھے اسکا تعلق اجتہاد یا فکر نو کی تشکیل کے سلسلے میں ھونے والی تاریخی جدوجہد کا تسلسل نہیں بلکہ ‘‘ دھشت گردی ‘‘ کے پر چارک جس قسم کے نظریات کو زبردست طریقے سے فروغ دیکر دنیا کے سامنے لاتے ہیں اس نظریاتی ٹرک کے متبادل پرامن نظریہ کو سامنے لانا ہے ۔
    آپ غور سے سارا منظر نامہ دیکھ لیں کہ دھشت گردی کے خلاف پر امن خطوط پر مبنی کویی متبادل نظریہ اس وقت منظم شکل میں موجود نہیں ،، کچھ اصحاب فکر نے اور بعض اداروں نے پر امن نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ضرور کی ھے مگر یہ دھشت گردی کے کوہ گراں کے آگے مثل ذرہ ھے ،،، سچ یہی ہے کہ اس وقت بغیر کسی تمہید کے عالمی سطح پر پرامن نظریہ کی تشکیل اور اس کی آبیاری کی منظم طور پر سخت ضرورت ھے ،، اور مذھبی بیانیہ کو موجودہ حالت سے ہی منسلک ہونا چاھیٔے ،،

  • 25-03-2016 at 7:40 am
    Permalink

    غامدی صاحب کے تصوف کو متوازی دین قرار دینے کے فتویٰ پر صاحب مضمون کی تنقید بہت بجا ھے لیکن صد افسوس کہ غامدی صاحب اور ان کے خوشہ نشین خاص طور پر عمار خان ناصر صاحب جیسے صاحبان علم اس پر سکوت کا اظہار فرما رہے ہیں او ر غالباً فرماتے رہیں گے، اے بسا آرزو کہ خاک شد ۔۔۔ غامدی صاحب کے حلقے کی طرف سے جوابی دلائل کا منتظر ایک قاری

Comments are closed.