ڈی پی او ماریہ محمود کو بزرگ شہری کو حوالات بھیجنا مہنگا پڑ گیا


وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے عارف والا میں پولیس کی کھلی کچہری کے دوران خاتون ڈی پی او کی جانب سے بزرگ تاجر رہنما کو گرفتار کرنے کے واقعے کا نوٹس لے کر تحقیقات کا حکم دیدیا ہے۔ ڈی پی او پاکپتن ماریہ محمود کی کھلی کچہری میں انجمن تاجران کے مرکزی صدر 70 سالہ صوفی عبدالرشید نے پولیس کے خلاف شکایت کی تھی۔ پولیس نے تاجر رہنما کو میٹنگ کے بہانے بلا کر گرفتار کیا اور اس پر چوری، کار سرکار میں مداخلت اور روڈ بلاک کرنے کا مقدمہ درج کیا تھا۔ وزیراعلی پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حکام سے تحقیقاتی رپورٹ طلب کرلی ۔ آئی جی پنجاب نے آر پی او ساہیوال شارک کمال کو واقعے کی انکوائری کا حکم دیتے ہوئے فوری طور پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں خاتون ڈی پی او پاکپتن ماریہ محمود نے مبینہ غلط فہمی پر 70 سال کے بزرگ تاجر رہنما کو گرفتارکرایا تھا جس پر تاجروں نے احتجاج کرتے ہوئے سٹی تھانے کا گھیراؤ کیا اور لاری اڈہ چوک پر ٹائر جلا کر ٹریفک بلاک کر دی تھی۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ کھلی کچہری کے دوران مرکزی صدر انجمن تاجران 70 سالہ صوفی عبدالرشید نے ڈی پی او سے مقامی پولیس کی شکایت کی تھی جس پر ڈی پی او نے انہیں انصاف کی یقین دہانی کرائی اور اس موقع پر بزرگ تاجر آگے بڑھے اور خاتون افسر کے سر پر ہاتھ پھیرنے کی کوشش کی جس پر ڈی پی او غلط فہمی کا شکار ہوگئیں اور وہ دھمکیاں دینے پر اتر آئی تھیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں