ملک الجبال کے سائے میں بشام تک


\"adnan-khan-kakar-mukalima-3b4\"

مانسہرے میں شہنشاہ اشوک کی لاٹھ کے پاس گھاس پر بیٹھ کر کچھ دیر سستاتے ہیں اور بات کرتے ہیں ان حضرت کی جن کی نگرانی و سرپرستی میں یہ ٹور ہوا۔ عرصہ ایک سال سے ملک صاحب اس عاجز اور چند دوسرے دوستوں کو بہکا رہے تھے کہ اگر زمین پر جنت دیکھنی ہے تو بس شمال کا رخ کرو۔ کئی مرتبہ ان سے عرض کیا کہ ہمیں جنت دیکھنے کی ہرگز بھی کوئی جلدی نہیں ہے، بس جتنی لکھی ہے وہ پوری ہو جائے تو ایک بار ہی دیکھنا مناسب ہو گا، مگر وہ دھن کے پکے ہیں اور لگے رہے۔ بتاتے رہے کہ فلاں پہاڑ ایسا ہے کہ اس کا نظارہ کرو تو سمجھو کہ جنت کا نظارہ کر لیا، اور اس کے دامن میں رہنے والے ہنزئیوں سے مل لو تو سمجھ کہ فرشتوں سے ملاقات کر لی۔ اس ایک سال میں یہ گمان ہونے لگا تھا کہ شیخ الجبال حسن بن صباح نے اپنی جنت ارضی اسی خطے میں تعمیر کی ہو گی۔

ملک صاحب میڈیا سے وابستہ ہیں۔ شمالی علاقوں پر ’سفر ہے شرط‘ کے نام سے دستاویزی پروگرام کر چکے ہیں۔ شمال کے چپے چپے سے واقف ہیں۔ اگر قدیم چینی سیاحوں اور ’چیئرمین وزارت داخلہ جناب طلحہ محمود‘ صاحب کی طرح وہ بھی ہر راہگزر پر اپنا نام لکھنے کے شوقین ہوتے تو مانسہرے سے خنجراب اور تھا کوٹ سے کے ٹو کے بیس کیمپ تک ہر چٹان پر ان کا اسم مبارک کندہ ہوتا۔ بہرحال ان کی عظمت و مقام کا اصل اندازہ تو گلگت اور ہنزہ پہنچ کر ہوا۔ جس شخص سے ان کا نام لیا وہ دیوانہ ان کا۔ نام سنتے ہی لوگ عقیدت سے جھک جھک کر دوہرے ہو جاتے اور ہر شے کا ریٹ آدھا کر دیتے۔ اس کے بعد پندرہ منٹ تک ملک صاحب کی تعریف کرتے کہ اس خطے پر ان کے بہت احسانات ہیں اور انہوں نے اسے دنیا سے روشناس کرایا ہے۔ اس وقت اندازہ ہوا کہ عاجزی و انکساری کے سبب نام تو یہ اپنا وقار احمد ملک بتاتے ہیں، مگر اصل میں یہ شاہ جنات ملک الجبال ہیں، پہاڑوں کے بے تاج بادشاہ۔ کوئی کے ٹو بھی سر کرنے کا ارادہ کرے تو یہ اپنی ون ٹو فائیو کو کک لگا کر کہتے ہیں بیٹھو، ابھی چلتے ہیں۔

\"waqar-malik3\"

خیر انہوں نے اسلام آباد میں کوئی گھنٹہ بھر بیٹھ کر ہمیں زمانے کا برا بھلا سمجھایا۔ تفصیل سے ٹور ڈیزائن کیا کہ کہاں جانا ہے اور کہاں ٹھہرنا ہے اور راستے میں کس کس سنگ سے سر ٹکرا کر اور کس کس جگہ چشموں اور پہاڑی نالوں پر آب آب ہو کر جانا ہے، اور کس نالے کے کنارے پر رکنے کا سوچنا بھی نہیں ہے کہ ذرا سا پیر پھسلا تو وہ نالہ بذریعہ دریائے سندھ سیدھا کراچی پہنچا دے گا۔

خیر انہوں نے حکم دیا کہ بشام پہنچ کر پہلی رات وہاں رات بسر کریں اور پی ٹی ڈی سی موٹیل کا پرانا کمرہ لیں۔ ایک تو وہ سستا بھی ہے اور دوسرا اس کا ویو بھی اچھا ہے جبکہ نئے کمروں کا ویو نہیں ہے۔ خیر ہم ان کی ہدایات پلو میں باندھ کر اٹھے۔ مہاراجہ اشوک کو الوداع کہا اور مانسہرے سے نکلے۔ وہاں سے انیس بیس کلومیٹر آگے پہنچے تو شنکیاری کا قصبہ آ گیا جس کے ساتھ ہی ایک نالہ بہہ رہا تھا۔ ہم لاہور کے رہنے والے، یہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ نالے میں کالے بدبودار پانی کی بجائے صاف شفاف پانی تھا۔ تحقیق پر معلوم ہوا کہ اس کا نام دریائے سرن ہے اور ان علاقوں میں شفاف پانی کے نالے ہی ہوتے ہیں۔ وہاں رک گئے اور نیچے دریا پر اترے۔

\"DSC_1537\"

بخدا اس علاقے کو دیکھ کر علم ہوا کہ یہ گورے شمالی علاقوں کے اتنے عاشق کیوں ہیں۔ اس جگہ دریا کا پاٹ چوڑا تھا۔ تہہ میں گول گول پتھر تھے۔ بیشتر مقامات پر ٹخنے سے کچھ اوپر پانی تھا، لیکن کئی جگہوں پر کمر کمر تک بھی تھا۔ لیکن اصل چیز تو اس کے کنارے پر تھی جس دیکھ کر گورے اسے جنت بر روئے زمین است قرار دیتے ہیں اور روحانی فیض پاتے ہیں جو کہ اس کے کناروں پر خود رو بھنگ کی صورت میں موجود ہے۔ ہم ملنگ ہوتے تو اسی جگہ اپنا تکیہ بنا کر رہ پڑتے مگر کچھ نہا دھو کر یہ ملنگانہ فیض پائے بغیر ہی ہم آگے روانہ ہوئے۔

سڑک کے ساتھ ساتھ پانی کا ساتھ ہوا۔ شنکیاری کے بعد اچھریاں، بٹل، بٹا گرام اور چار گلی سے گزرے۔ اور پھر تھا کوٹ آ گیا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں سے دریائے سندھ اور شاہراہ قراقرم کا ساتھ ہوا جو کہ چلاس سے بھی بہت آگے جگلوٹ کے مقام تک رہا۔ جگلوٹ سے دریائے سندھ اپنا راستہ الگ کرتا ہے اور سکردو کی سمت نکل جاتا ہے۔

\"DSC_1988\"

ہم لاہور سے چلنے سے پہلے سنتے آئے تھے کہ شاہراہ قراقرم پر سڑک کے ایک طرف بلند و بالا پہاڑ ہیں تو دوسری طرف سینکڑوں فٹ نیچے خوفناک شور مچاتا اور بپھرا ہوا دریا ہوتا ہے۔ ہمیں اونچائی سے خوف آتا ہے۔ عمارت کی دوسری منزل پر بھی کھڑے ہوں تو یہی محسوس ہوتا کہ کے ٹو پر کھڑے ہیں اور ذرا سا سر چکرایا تو غش کھا کر عرش سے فرش پر جا گریں گے۔ دن کا وقت تھا اور نیچے تند و تیز دریا خوب صاف دکھائی دے رہا تھا۔ حالانکہ ہم دریا کی سمت والی ویگن کی اگلی سیٹ سنبھالے ہوئے ہوئے تھے لیکن دریا سے خوف محسوس نہ ہوا۔ دریا بپھرا ہوا تھا لیکن اس کی غصیلی آواز بھی کانوں کو بھلی لگ رہی تھی۔ غالباً اس بے خوفی کی وجہ یہ تھی کہ ہماری گاڑی سڑک پر تھی ورنہ ہم دریا میں ہوتے تو ضرور اس سے خوف کھاتے۔

دریائے سندھ کا یہ روپ پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ سب سے پہلے اس کی زیارت سکھر میں کی تھی۔ وہاں یہ اتنا ہی غیر جذباتی اور صلح کل ہوتا ہے جتنا کہ ایک پہنچا ہوا صوفی ہو سکتا ہے۔ دھیما، ٹھنڈا اور متحمل مزاج۔ سکھر میں بیچ دریا کے ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے کہ نام اس کا سادھو بیلا ہے اور اس پر ہندوؤں کا ایک مقدس مندر ہے۔ دریا پر کشتیاں تیرتی پھرتی ہیں جن میں مچھیروں کے پورے گھر رہتے ہیں۔ غرض یہ کہ نہایت ہی سادھو قسم کا دریا ہے وادی مہران میں۔

\"DSC_1566\"

لیکن یہاں تھا کوٹ میں تو اس کا روپ ہی اور تھا۔ ایک غصیلے پہاڑی جنگجو کی طرح غیض و غضب سے چنگھاڑتا ہوا اتنا بڑا دریا ہم نے پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ اس سے پہلے کاغان اور ناران کے پاس ہی ایسے بپھرے ہوئے دریا اور ندی نالے دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ ملک الجبال کا کہنا تھا کہ کئی پہاڑی مقامات پر اگر بڑی کنسٹرکشن مشنری اور بلڈوزر وغیرہ بھی ایسے دریا میں گر جائیں تو ان کا نٹ بولٹ تک نہیں ملتا ہے۔ دریا کا یہ طاقتور ترین ریلا پتھروں پر پٹخ پٹخ کر مضبوط ترین شے کو بھی ریزہ ریزہ کر دیتا ہے۔ ہم کچھ دیر تک دریا کنارے رک کر انتظار کرتے رہے کہ ممکن ہے کہ ملک الجبال کی بات کی تصدیق ہو جائے، مگر ہمیں کسی قسم کی کنسٹرکشن مشنری دریا میں گرتی نظر نہ آئی اس لیے ہم ان کے دعوے کی تردید یا تصدیق کرنے سے قاصر ہیں۔

\"DSC_1072_254\"

تھا کوٹ سے اگے چلے۔ سڑک معقول تھی۔ لیکن یاد رہے کہ ڈرائیو کرتے ہوئے نیند پوری کرنا لازمی ہوتا ہے ورنہ چند لمحوں کی غنودگی بھی آپ کو دریا برد کر سکتی ہے اور آپ کی قیمتی گاڑی کا نٹ بولٹ تک نہیں ملے گا۔ راستے بھر ندی نالے آتے گئے۔ دریائے سندھ پر بنے ہینگنگ برج بھی نظر آئے۔ دونوں کناروں پر دو دو مینارے سے بنا کر موٹی دھاتی تاروں سے پل کو لٹکاگیا گیا ہوتا ہے اور نیچے تختے بچھے ہوتے ہیں۔ آپ پل کے درمیان میں کھڑے ہو کر بہتے پانی کی طرف رخ کریں اور نیچے دریا کے تند و تیز پانی پر نظریں جمائیں تو یہ لگتا ہے آپ کسی تیز رفتار کشتی میں غضب کی سی رفتار سے پیچھے کی طرف سفر کر رہے ہیں۔ لیکن یہ سفر بھی آخر کار ہمارے قومی سفر کی مانند ہی نکلتا ہے۔ رفتار بہت تیز ہے لیکن کھڑے وہیں رہتے ہیں جہاں سے سفر کا آغاز کیا ہوتا ہے۔

\"DSC_1579\"

خیر وہاں سے چلے اور اسلام آباد سے تقریباً دس گھنٹے کا سفر مکمل کر کے بشام پہنچے اور پی ٹی ڈی سی موٹل میں جلوہ افروز ہوئے۔ پرانا کمرہ ساڑھے چار ہزار فی کمرہ کے حساب سے ملا۔ دریا کے بالکل کنارے پر تھا لیکن جنگلہ لگا کر دریا کی طرف جانے کا راستہ بند کر دیا گیا تھا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ لوگ سیلفی بنانے کی کوشش میں دریا میں گر جاتے تھے اور اس شیر دریا کا بہاؤ ایسا ہے کہ سیلفی بنانے والا کراچی کے نواح میں بحیرہ عرب سے پہلے مشکل سے ہی رک پائے گا۔

صبح دریا کنارے بیٹھ کر ناشتہ کیا۔ عجیب جگہ ہے۔ موٹل کی طرف سطح زمین پوٹھوہار جیسی ہلکی پھلی پہاڑی سی ہے۔ دریا کے دوسری طرف قدرے کچھ بلند پہاڑیاں۔ اور دائیں کونے پر اونچا پہاڑ۔

\"DSC_1597c\"

ہمیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ قلہ کوہ کے قریب ایک گھر بنا ہوا ہے۔ غور کیا تو اس سے کچھ نیچے بھی گھر تھے۔ ان کے آس پاس کسی سڑک کے آثار بھی نہ تھے کہ یہ تسلی ہوتی کہ یہ لوگ گاڑی پر بیٹھ کر پہاڑ سر کرتے ہوں گے۔ دیکھ کر تعجب ہوا کہ یہ لوگ اس بلند و بالا پہاڑ پر کیسے آتے جاتے ہوں گے۔ خاتون خانہ اس گھر کے بچوں یا صاحب خانہ کو انڈے یا ڈبل روٹی لانے کا کہتی ہوں گی تو وہ نیچے بازار تک سفر کا سوچ کر ہی غش کھا جاتے ہوں گے۔

ہم سوچتے رہے کہ ایسی بلندی پر یہ گھر بنایا کس نے ہو گا۔ شاید یہ کوئی تارک الدنیا درویش ہوں گے جو عبادت کی غرض سے اس بلندی پر جا کر چلہ نشین ہو گئے ہیں اور سال دو سال میں ایک مرتبہ پہاڑ سے نیچے اتر کر ضروریات کا سامان خرید کر اوپر لے جاتے ہوں گے۔ اس پہاڑ پر ان برگزیدہ لوگوں کے کئی گھر نظر آئے۔ یہ گمان بھی ہوا کہ ممکن ہے کہ یہ کوہ پیما ہوں جو کہ نانگا پربت، راکاپوشی یا کے ٹو وغیرہ سر کرنے کے متمنی ہوں اور اس بلند پہاڑ پر اس لیے رہائش پذیر ہوں کہ ہر روز نیچے دریا تک اتر کر پانی بھرنے اور اوپر پہاڑ تک لے جانے میں ان کی پہاڑ چڑھنے کی خوب مشق ہو جائے۔

بہرحال تحقیق نہ ہو پایا کہ کون سر پھرا اتنا مردم بیزار ہے کہ پہاڑ پر ہی چڑھ گیا ہے۔


اس سفر کے گزشتہ مضامین پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

مہمان، ہنزہ پولیس اور پنجابی افسر

سینیٹر طلحہ محمود ۔ شاہراہ قراقرم کے معمار

مانسہرہ: شہنشاہ اشوک کی عظیم سلطنت کے ستون

ملک الجبال کے سائے میں بشام تک

سفر خنجراب: بشام سے کوہستان تک

سفر خنجراب: کوہستان سے چلاس تک


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 630 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “ملک الجبال کے سائے میں بشام تک

Comments are closed.