خالدہ حسین: جینے کی پابندی


رات کا جانے کون سا پہر تھا کہ اچانک آنکھ کھل گئی۔ سرہانے دھرا لیمپ روشن کرکے میں نے سرہانے رکھا ہوا افسانوی مجموعہ ’’جینے کی پابندی‘‘ اٹھا لیا۔ میں اسے دو تین دن پہلے پڑھ چکی تھی لیکن اس کے دو افسانے جیسے سینے میں گڑی ہوئی کیل بن گئے تھے۔

وہ جادوئی کیل جو ہم سے چپکے چپکے کچھ کہتی رہتی ہے۔ اس کی باتیں ہماری سمجھ میں آتی ہیں لیکن ہم لکھنے والے کا بھرم رکھتے ہیں۔ ہر بات کیوں سمجھ لی جائے،کیوں اسے آشکار کردیا جائے۔ میں نے ایک بار پھر ’’ دادی آج چھٹی پر ہیں ‘‘ پڑھا اور اس کہانی کے کرداروں کو پہچانتی ہوئی سوگئی۔ صبح اٹھ کر اپنے لیے ناشتہ تیارکر رہی تھی کہ فاطمہ حسن کا فون آیا۔ کہہ رہی تھیں،’’خالدہ حسین چلی گئیں ‘‘۔ جی چاہا کہوں کہ زندانی کو رہائی مل گئی۔

لپک کر اپنے کمرے میں گئی۔ سرہانے ان کا تازہ مجموعہ ’’جینے کی پابندی‘‘ اسی طرح دھرا تھا۔ میں نے اسے احتیاط سے اٹھایا۔ خالدہ نا موجود ہوگئی تھیں، سرگوشی میں ان سے کہا مبارک ہو، آپ پابندیوں سے آزاد ہوئیں۔ پھر خیال آیا کہ کسی نے یہ سن لیا تو مجھے کس قدر برا بھلا کہے گا۔ ابھی میں اسی ادھیڑ بن میں تھی کہ آصف فرخی کا فون آگیا۔ کہنے لگے کہ کشور ناہید زار زار رو رہی تھیں کہ خالدہ حسین ابھی چند گھنٹوں پہلے گزر گئیں۔ میں نے انھیں دلاسہ نہیں دیا۔ خالدہ کا چلے جانا اردو افسانے کا یقیناً نقصان ہے لیکن… اور اس لفظ لیکن کے بعد کہنے کی بہت گنجائش ہے۔

میں نے ادبی رسالے پڑھنے شروع کیے تو ان کے صفحوں پر خالدہ حسین کا طوطی بول رہا تھا۔ ہزار پایہ، سواری، پرندہ کی دھوم تھی اور مجھ ایسے ادب کے عاشق خالدہ کی تحریروں پر نثار۔ ان ہی دنوں خالدہ کے ساتھ یہ بھی ہوا کہ وہ خالدہ اصغر سے خالدہ اقبال اور پھر خالدہ حسین ہوئیں۔ غنیمت ہے کہ نام بدلنے کا یہ سلسلہ خالدہ حسین پر تمت بالخیر ہوا۔

ان سے اسلام آباد میں ملاقات ہوئی اور ہوتی چلی گئی۔ میں اسلام آباد جاتی تو ان سے ضرور ملتی جس طرح لاہور جاکر الطاف فاطمہ کی ’’کنج گلی‘‘ میں حاضری دینا فرض تھا۔ خالدہ مجھ سے عمر میں خاصی بڑی تھیں اور ادبی قد وقامت میں کہاں وہ اور کہاں میں۔ یہ ان کا بڑا پن تھا کہ میرا کوئی کالم یا افسانہ انھیں پسند آتا تو وہ فون کرتیں، داد دیتیں اور میرا چلوؤں خون بڑھ جاتا۔

اول اول انھوں نے ذات کی شناوری کی اور افسانے لکھے، پھر ملکی اور عالمی سیاست ان کی کہانیوں میں اپنا رنگ جمانے لگی۔ شرقِ اوسط میں دہشتگردی کو شکست دینے کے لیے جو فوج گردی ہورہی تھی اس نے خالدہ کو اپنی بنیادوں سے ہلاکر رکھ دیا اور انھوں نے ’’ابن آدم‘‘ ایسا دہلا دینے والا افسانہ لکھا۔ یہ وہ افسانہ ہے جس کی حرف حرف تفصیل ہم نے اخباروں میں پڑھی، ٹیلی ویژن پر دیکھی۔

ہماری تاریخ ابتداء سے ہی ہنگامی حالات کی کتھا کہانی ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ ہر حکمران اپنے ساتھ ہنگامی حالات لاتا ہے۔ کبھی جب ہنگامی حالات کا نفاذ ہوتا تھا تو سب چونک جاتے تھے، سنتے تھے، سمجھتے تھے، پھر انھیں مکڑی یاد آجاتی ہے اور اس کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتی ہیں ’’مگرکون نہیں جانتا کہ اس ملک کے اصل حاکم کہاں بستے ہیں۔ وہ کون لوگ ہیں جو ایشیا اور افریقا کے نو آزاد ملکوں میں مکڑی کی طرح جالا بنتے ہیں۔ ’’مکڑی توکوئی اور ہے جس نے یہ جالا بنا ہے اور میں اس کا شکار نرم ریشمیں تانے بانے میں اتر آیا ہوں۔ میں تو محض اپنے سرکی تلاش میں ہوں کہ نا معلوم دنیا کے کس خطے میں،کس زمین میں اور اپنی گنگ زبان میں میرے اعضاء کو علیحدہ علیحدہ پکارتا ہے۔‘‘

ہمارے یہاں دہشتگردی نے جس طرح اپنا جال پھیلایا اور سماج کی رنگا رنگی کو دیمک کی طرح چاٹ گئی اس نے ہمارے لکھنے والوں پر گہرا اثرکیا۔ اس وقت مجھے منشا یاد کا افسانہ ’’ایک سائیکلو اسٹائل وصیت نامہ ‘‘ یاد آرہا ہے۔ اسی موضوع پر جب خالدہ نے لکھا تو ان کے قلم سے ’’جانِ من و جانِ شما ‘‘ نکلتا ہے۔ ایک ماں اور دو بھائیوں کا قصہ۔ ماں جو ہمہ وقت بیٹوں کی زندگی کی دعا کرتی ہے۔ ایک دوسرے کو قطع کرتی ہوئی،کاٹتی ہوئی دعائیں۔

بارگاہ ایزدی میں دونوں دعاؤں کی رسائی ہو تو وہ دونوں کیسے قبول ہوں۔ ایک بھائی کا مسلک تمام دنیا کو بارود سے اڑادینے کی ہدایت کرتا ہے، دوسرا بھائی آپریشن راہ راست اور آپریشن راہِ نجات سے منسلک ہے۔ ماں کسے زندگی کی دعا دے۔ بے گناہ بچوں اور معصوم انسانوں کے قاتل کوکیا کہے۔ دوسرا بھائی جب راہِ نجات پر چلتا ہے تو ماں نے بیٹے سے بس یہ کہا ’’ مبین تم جاؤ، اپنا پورا بارود ان پر برسا دو، اس کے کاکل سرکش کو کچل دو، اس کی سنہری آنکھوں کو جلا دو۔ جب اس کا سر علیحدہ جاگرے تو میرے پاس شناخت کے لیے نہ لانا۔ ‘‘

زندگی کی آسائشوں کی تمنا میں باہر جانے والے سالہا سال بعد اگر پلٹ کر گھر آئیں تو اپنی زندگی کو ہجر کا نام دیں۔ اس بارے میں وہ اپنے ایک کردار سے کتنی دو ٹوک بات کہلواتی ہیں۔

’’ہم کیا ؟ ہم باہر رہنے والے یہاں واپس نہیں آنا چاہتے تھے۔ اب ہمارے لیے یہاں زندگی کرنا ممکن نہ تھا۔ ہم باہر بھی نہیں رہنا چاہتے تھے۔ ہم نا ممکن کی جستجو میں سرگرداں تھے۔ ہم یہاں کے لوگوں اور خوشبوؤں کو جادو کے چراغ والے جن کی ہتھیلی پر رکھ کے اپنے ساتھ دساور لے آنا چاہتے تھے۔ ہم پختہ عمر اور ذہنوں اور بڑی بڑی ملازمتوں اور عہدوں پر متمکن لوگ ایسے غیر عقلی خوابوں پر ذرا بھی شرمندہ نہ تھے۔ ہم خواب صرف دیکھتے ہی نہ تھے ان میں جاکر رہتے بھی تھے۔ ‘‘

ان کا افسانہ ’’دادی آج چھٹی پر ہیں ‘‘ اب سے کئی برس پہلے شائع ہوا۔ میں نے اسے پڑھا اور تڑپ گئی۔ یہ افسانہ عورتوں کی اس نسل کا قصہ ہے جو غیروں کے تسلط کے زمانے میں پیدا ہوئی اور پھر اس تسلط سے آزادی کا جشن منایا، اس نے تعلیم حاصل کی، ایک بھری پُر ی اور آزاد زندگی گزاری۔ اسکول اورکالج میں پڑھایا، شادی ہوئی تب اسے معلوم ہوا کہ وہ کسی آزاد مملکت کی شہری نہ تھی، وہ ایک قفس میں رہتی تھی۔

ایک ایسا قفس جس کی تیلیاں منبر و مسلک نے تراشی تھیں۔ پوتی پر پابندی تھی کہ وہ دادی سے کہانیاں نہ سنے اور اس پابندی کی وجہ سے اس کی کئی کہانیاں ادھوری رہ گئیں۔ اب جب کہ دادی دنیا سے رخصت ہوگئی ہیں اور ان کے پُرسے کے لیے آنے والے ان کی رخصت کو ’’قومی نقصان‘‘ کہہ رہے ہیں، پوتی کو گزری ہوئی باتیں یاد آرہی ہیں۔ وہ سوچ رہی ہے کہ میں سات برس کی تھی جب دادی مجھے معروف موچی اور سند باد جہازی اور اڑن کھٹولوں کی کہانیاں سناتی تھیں مگر پھر ماما نے کہا کہ اس خرافات کی بجائے بچی کو اسلامی تاریخ اور واقعات سنائیے مگر یہ تو خود آپ کو بھی نہ آتے ہوں گے۔ حالانکہ یہ بات غلط تھی۔

میں نے تو دادی کو ہمیشہ صبح سویرے قرآن کھولے ہوئے دیکھا جس میں ایک طرف عربی اور دوسری طرف انگریزی لکھی ہوئی ہوتی۔تب ہی سے انھوں نے مجھے الف لیلیٰ کی کہانیاں سنانا بند ہی کردیا۔ حالانکہ سند بادکا ایک سفر ادھورا ہی تھا اور بکرماجیت کی کہانی بھی پوری نہ ہوئی تھی۔ ‘‘

یہ ہمارے سماج کے ان بہت سے گھروں کی کہانی ہے جہاں روشن کھڑکیاں اور کھلے ہوئے روشن دان تھے، جہاں زندگی کی دھوپ آتی تھی اور جہاں کتابوں کے ورق سونے اور چاندی کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ خالدہ نے ذاتی زندگی میں بہت دکھ سہے۔ کسی سے کوئی شکوہ نہ کیا۔ بس کہانیاں لکھتی رہیں اور پڑھنے والوں کو ان شوہروں اور بیٹوں سے آگاہ کرتی رہیں جو ماں اور دادی کو گمراہ اور بد راہ کہتے ہیں، جن کے خیال میں شعرکہنے اور نامور ہونے والی عورتیں جہنم میں جلائی جائیں گی اور جہاں پوتیاں بے ساختہ یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتی ہیں کہ دادی دوزخ میں جائیں گی۔

خالدہ نے بہت سی کہانیاں لکھیں ان کا ناول ’’کاغذی گھاٹ‘‘ بہت مقبول ہوا۔ ڈاکٹر ممتاز احمد خاں اور ڈاکٹر فاطمہ حسن نے اس ناول پر خوب خوب لکھا لیکن میرے ذہن میں اپنے سماج کی ترقی معکوس کی کہانی کسی ایسی کیل کی طرح گڑی ہوئی ہے جس میں پوتی اپنی دادی سے بے حد محبت کرنے کے باوجود بے ساختہ یہ کہتی ہے کہ ’’ دادی دوزخ میں جائیں گی۔ ‘‘

خالدہ حسین نے اگر کچھ نہ لکھا ہوتا تب بھی وہ اس کہانی کے سبب زندہ رہتیں۔ زندہ رہنے کیلیے اگر دوزخ میں جانا ضروری ہے تو چلو وہاں چل کے دیکھتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں