مسلمان سے سچے مسلمان تک کا سفر!


میں نے زندگی کو دائرہ دائرہ دیکھاتھا\"waqar
دائروں کو بنتے، مٹتے ، گھٹتے بڑھتے دیکھا تھا
ہر دائرے کے مجاور ہزار دائرے تھے ،
تما م دائروں کے قوس صغیرہ و کبیرہ متصل تھے
دائرے کے مرکز کے قریب تو کیا آنا،
میں دائرے کی بیرونی دیوار پر بیٹھا
مماس کہلاتا ہوں….
کہ خط مستقیم ،
صرف مجھے چھو کر گزرتا ہے….
اپنے دائرے کے معین نقطے پر جب توجہ کی
ایک ہی صدا آئی
”ہم ہیں، ہم ہمیشہ سے ہیں اور تا ابد رہیں گے
دماغ چرخ نے ہم سے یہ عہد باندھا ہے….
باقی دائرے اور ان میں قید مکین
اس زمیں پر بوجھ ہیں۔۔
فراش زمین کا بھار ہلکا کرنا
ہمارا پہلا اور آخری مقصد ہے
یہ مقصد دماغ چرخ کے معاہدے کی اولیں شرط ہے“

مماس کودستار مرکز یوں بھی اوجھل تھی
طبیعت کو صنعت تکرار‘ بیش بوجھل تھی
ضمیر پہ بھارتھا لیکن دائرہ بدل ڈالا
نئے دائرے کے مکینوں کی بے لوث الفت نے
پچھلا دائرہ چھوڑنے کی کلفت مٹا دی
میں مزاج کا مماس ہوں ۔
ہر نئے دائرے میں میرا تعارف مماس ہی رہا
سماعت کی حس ایسی کہ دور کی سن لیتا ہوں
نئے دائرے کے معین نقطے سے صدا گونجی
وہی خطبہ ، وہی باتیں وہی دفتر دانائی
”ہم ہیں، ہم ہمیشہ سے ہیں اور تا ابد رہیں گے
دماغ چرخ نے ہم سے یہ عہد باندھا ہے….

باقی دائرے اور ان میں قید مکین
اس زمیں پر بوجھ ہیں۔
وغیرہ وغیرہ“

میں کہ تکرار سے بیزار….
دائرے بدلتا رہا
جسد مرکز سے بس ایک صدا
یقین حسن سے انکار کا درس
حسن یقین کا درس اسرار

میں دائروں سے اوپر اٹھ گیا
آج میں ایک نقطہ ہوں
مماسوں کا طول طویل ہوں
سیکڑوں خط مستقیم مجھے
دائروں کے مماسوں سے
منسلک رکھتے ہیں
لیکن حدت ذہن
بد دیانت معین نقطہ کی، سمع بصری اور….
مکارانہ حاشیہ آرائی سے
محفوظ ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 109 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

One thought on “مسلمان سے سچے مسلمان تک کا سفر!

  • 08-07-2016 at 11:35 pm
    Permalink

    shandar nazmia hay

Comments are closed.