شام سے فوجیں واپس بلانے کے خلاف سعودی شہزادے کی امریکہ کو تنبیہ


ترکی ایفیصل

AFP
شہزادہ ترکی الفیصل سعودی حکومت میں شامل نہیں ہیں تاہم وہ کئی دہائیوں تک اس میں شامل رہے ہیں

سعودی عرب کے شاہی خاندان کے ایک سینیئر رکن نے امریکہ کو شام سے فوجیں واپس بلانے کے خلاف تنبیہ کیا ہے۔

شہزادہ ترکی الفیصل نے بی بی سی کو بتایا کہ اس اقدام سے منفی اثر مرتب ہوگا، اور ایران، روس اور صدر بشار الاسد کے اقتدار کو مزید تقویت ملے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر میں اعلان کیا تھا کہ اب شام سے امریکی فوجوں کی واپسی کا وقت آگیا ہے۔

شہزادہ ترکی امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کے دورۂ ریاض کے آغاز سے قبل گفتگو کر رہے تھے۔

مائیک پومپیو مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں اور وہ عراق، اردن، مصر اور بحرین کا دورہ کر چکے ہیں۔

پرنس فیصل نے کیا کہا؟

ترکی الفیصل کا کہنا تھا کہ عالمی برادری شامی لوگوں کو نظرانداز کرنے پر شرمسار ہے اور امریکی فوجوں کے انخلا سے حالات مزید خراب ہو جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میرے نکتہ نظر سے امریکی اقدامات سے کوئی حل تلاش کرنے کے بجائے مزید پیچیدگی پیدا ہوگی اور شام میں ناصرف ایرانیوں کی بلکہ روسیوں اور بشار الاسد کی بھی مورچہ بندی بڑھے گی، چنانچہ اس نکتہ نظر سے یہ بہت منفی پیش رفت ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دسمبر میں امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس کے جانے سے حالات میں بہتری غیرمتوع تھی۔

یہ بھی پڑھیں!

پومپیو: قطر اور سعودی عرب کا تنازع طول پکڑ گیا ہے

قطر اقتصادی پابندیوں سے کیسے نمٹ رہا ہے؟

خاشقجی کا قتل: کیا سعودی ولی عہد کا مستقبل خطرے میں؟

ترکی الفیصل نے کہا کہ ’بلاشبہ وہ شام کے حوالے سے پالیسی پر انتظامیہ کے ساتھ اتفاق نہیں کرتے تھے اس لیے اس تناظر میں ان کا موجود رہنا اس پالیسی کو نبھانے کے حوالے سے زیادہ مثبت اشارہ ہو سکتا تھا۔‘

شہزادہ ترکی الفیصل سعودی حکومت میں شامل نہیں ہیں تاہم وہ کئی دہائیوں تک اس میں شامل رہے ہیں۔

بی بی سی کی نامہ نگار برائے سیٹیٹ ڈیپارٹمنٹ باربرہ پلیٹ کا کہنا ہے کہ وہ ممکنا طور پر سعودی عرب کے سرکاری موقف کی عکاسی کر رہے ہیں لیکن وہ حکومت کی نمائندگی نہیں کر رہے تھے۔

ریاض

Reuters
مائیک پومپیو سعودی حکام سے مذاکرات کے لیے ریاض پہنچے ہیں

مائیک پومپیو کس بارے میں بات کریں گے؟

امریکی ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ کے مطابق ریاض میں اپنے قیام کے دوران وہ متوقع طور پر وہ ایران سمیت یمن اور شام کے تنازعات زیربحث لائیں گے، اس کے علاوہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات کے حوالے سے بھی جاننا چاہیں گے۔

قطر میں ایک نیوز کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ والی عہد محمد بن سلمان سے خاشقجی کے قاتلوں کا ’احتساب‘ کرنے کا کہیں گے۔

اس سے قبل مائیک پومپیو نے قطر اور سعودی عرب کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ تنازع بہت طول پکڑ گیا ہے۔‘

وہ اتوار کو قطر کے دارالحکومت دوحا پہنچیں تھے جہاں ان کہنا تھا کہ وہ اور صدر ٹرمپ یہ سمجھتے ہیں کہ خیلجی ممالک میں تنازع کافی طول پکڑ گیا ہے اور اس کا حل کیا جانا سب کے باہمی مفاد میں ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس تنازع کے جاری رہنے کی وجہ سے خطے میں دشمنوں کو فائدہ ہو رہا ہے اور باہمی مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6819 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp