بول! یہ تھوڑا وقت بہت ہے….


ammar masoodبہت پرانا قصہ نہیں۔ ابھی چند برس پہلے کی بات ہے۔ اسی ملک میں ، انہیں لوگوں کے مسئلے کچھ اور تھے۔ ان کی روش کچھ اور تھی، چلن کچھ اور تھا۔ راستہ خار زار اور منزل معدوم تھی۔ کرپشن کے قصے زبان زد عام تھے۔ وزراءتو وزراءوزیر اعظم بھی متاثرین سیلاب کے لئے عطیہ کئے جانے والے ہار کے کیس میں مطلوب تھے۔پنجاب میں گورنر راج کی سازش کی جا رہی تھی۔ بلوچستان کے نام پر پیکچ کا اعلان کر کے بلوچوں کے حقوق بھول گئے تھے۔ بلوچستان میں علیحدگی کی تحریکیں زور پکڑ رہی تھیں۔ قومی پرچم نذر آتش کیا جا رہا تھا۔ قائد کی ریذیڈنسی کو آگ لگا دی گئی تھی۔میمو گیٹ سکینڈل میں حکومت پر وطن سے غداری کا مقدمہ چل رہا تھا۔ سوئس بینک کیسز کے ریکارڈ سر عام مٹائے جا رہے تھے۔ حج کے سکینڈل میں ہم ساری دنیا میں بدنام ہو رہے تھے۔ حجاج کرام دنوں تک ائرپورٹس پر بے بسی کا تماشا بنے رہتے تھے۔ ٹڈاپ کیس کی فائلیں نیب میں دفن ہو رہی تھیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ میں گھپلے ہو رہے تھے۔ این آئی سی ایل کیس زور پکڑ رہا تھا ۔کے پی کے میں ہر دوسرے روز دہشت گردی کا ایک نیا واقعہ ہو تا تھا۔ لاشوں کی فوٹیج چلتی تھی اور تعزیت کے پیغامات سکرین پر سارا دن چلتے تھے۔ امن عامہ کے حالات روز بہ روز بگڑتے جا رہے تھے ۔فوج اور سول حکومت کے تعلقات خراب تھے۔ افواہیں گرم تھیں کہ صبر کا پیمانہ لبریز آج ہوتا ہے یا کل۔ صدر مملکت کا عہدہ حکومت میں سب سے اہم ہو گیا تھا۔ وزیر اعظم کے انتخاب سے لے کر ہر پراجیکٹ کے وسائل پر صدر زرداری کا حکم چلتا تھا۔ ایوان صدر کے اندر چھوٹے چھوٹے کمروں میں سلمان فاروقی بڑے بڑے کمیشنوں کا فیصلہ کرتے تھے۔کراچی کے حالات بتدریج ابتر ہوتے جا رہے تھے۔ بھتہ مافیا ہر سڑک پر حکومت کر رہاتھا۔نامعلوم افراد دن دیہاڑے قانون کی دھجیاں بکھیر رہے تھے ۔سپیکر قومی اسمبلی جمہوریت کی کامیابی کے بعد اربوں کے قرضے معاف کروا رہی تھیں۔ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ اٹھارہ گھنٹے تک بڑھ گیا تھا۔ترقیاتی منصوبے ناپید تھے۔ رینٹل پا ورپرجیکٹ کی کرپشن کا شور ساری دنیا میں پھیلا تھا۔عوام اور حکومت دو مختلف اکائیاں تھے۔ دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں تھا۔ دونوں ایک دوسرے کے مسائل سے بے خبر اپنی اپنی غرض میں جی رہے تھے۔

اس دور آشوب کو گزرے زیادہ وقت نہیں گزرا۔ بہت پرانا قصہ نہیں، چند بر س پرانی بات ہے۔ اب ہماری سوچ مختلف ہو گئی ہیں ۔ چند برسوں میں چیزوں کو پرکھنے کا زاویہ تبدیل ہو گیا ہے۔روش بدل گئی ہیں انداز بدل گیا ہے۔ اب سب لوگ سڑکوں کے افتتاح کی بات کر رہے ہیں ۔ انفراسڑکچر کے ضمن میں گفتگو ہو رہی ہے۔ صوبے اور وفاق تصادم کے بجائے تعاون کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں۔ ہر اہم مسئلے پر آل پارٹیز کانفرنس بلائی جا رہی ہے۔ ہر صوبے کے مسائل کو سنا جا رہا ہے۔دہشت گردی کے خلاف پہلی دفعہ ایک منظم اور کامیاب آپریشن کیا جا رہا ہے۔ دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی ہو رہی ہے۔کراچی میں رینجرز کا لازوال آپریشن سب جماعتوں کے اتفاق سے ہو رہا ہے۔ روشنیوں کے شہر سے تاریکی کم ہو رہی ہے۔ ملزمان کو سزا ہو رہی ہے۔ٹارگٹ کلنگ اور بوری بند لاشیں ناپید ہو گئی ہیں۔ موبائل چھیننے کی ورداتیں اکا دکا رہ گئی ہیں۔ بھتہ مافیا کہیں دبک کر روپوش ہو گیا ہے۔عسکری اداروں کی توقیر میں اضافہ ہو رہا ہے۔بلوچستان میں علیحدگی تحریکیں دم توڑ گئی ہیں اور اب بلوچ خود مذاکرات کی میز پر آگئے ہیں۔ کوئٹہ میںچودہ اگست کی تقریبات منائی جا رہی ہیں۔ میلوں اور کنسرٹس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔لوڈ شیڈنگ میں بہت حد تک کمی آئی ہے۔ گو کہ یہ مسئلہ ختم نہیں ہوا مگر بہتری ضرور آئی ہے۔ اب پاک چائنہ اقتصادی راہداری کی بات ہو رہی ہے۔ مثبت مقابلے کے تحت صوبے اپنے اپنے علاقے کی ترقی کی دوڑ میں حصہ مانگ رہے ہیں۔ پنجاب اور کے پی کے کی حکومتیں عوامی فلاح کے لیئے ایکدوسرے پر سبقت لیجانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مختلف علاقوں میں میٹرو بن رہی ہیں۔ فوج اور سول حکومت میں تصادم ختم ہو گیا ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری ملک میں آ رہی ہے۔تعلیم کے شعبے میں کام ہو رہا ہے۔صوبے بڑھ چڑھ کر اس مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔درخت لگائے جا رہے ہیں۔تاریخی اور قومی ورثے کی حفاظت کا شعور اجاگر ہو رہا ہے۔ یورپی یونین کی طرف سے پاکستان کو جی ایس پی پلس سٹیٹس مل گیا ہے۔ بیس فیصدڈیوٹی فری ہونے کی وجہ سے برآمدات میں اضافہ ہو گا۔ معلومات کے خزینے یو ٹیوب سے پابندی اٹھ گئی ہے۔ لوگ سیاسی چپقلشوں میں الجھے رہنے کے بجائے معیشت کے انڈی کیٹر سے حکومتوں کی کارکردگی کو جانچ رہے ہیں۔ حکومت اور عوام میں رابطہ نظر آ رہا ہے۔سمت درست ہو رہی ہے ۔ صحیح منزل کا تعین ہو رہا ہے۔
چند برسوں میں بہت کچھ بہتر ہو گیا مگر ابھی بہت سا کام باقی ہے۔بہت سے سیکٹر اب بھی نظر انداز ہو رہے ہیں۔ تعلیم کے شعبے میں ابھی بے تحاشا کام کرنے کی ضرورت ہے۔ صحت عامہ کی حالت زار اب بھی ابتر ہے۔کر پشن ابھی جڑ سے ختم نہیں ہوئی۔پولیس کا محکمہ اب بھی من مانیاں کرتا پھر رہا ہے۔ عدالتوں کا نظام بوسیدہ سے بوسید ہ ہوتا جا رہاہے۔ لاکھوں مقدمات دہائیوں سے التوا میں پڑے ہیں۔ فوری انصاف اب بھی خواب ہوتا جا رہا ہے۔ترقی کے ابتدائی ثمرات کا دور افتادہ علاقوں میں پہنچنا اب بھی شاذ کے ذیل میں ہے۔ تھر میں اب بھی بھوک اور طبی سہولتوں کی کمی سے بچے مر رہے ہیں۔بے روزگاری اب بھی اس وطن کے جوانوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ لوڈ شیڈنگ کا عفریت ابھی معیشت اور عوام کی زندگی عذاب کئے ہو ئے ہے۔ گیس کی لوڈ شیڈنگ اب بھی معیشتوں کا منہ چڑا رہی ہے۔ غربت اسی طرح غریب پر راج کر رہی ہے۔ زرعی ترقی روز بروز خواب ہوتی جا رہی ہے۔عوام ترقی کے ثمرات کے اب بھی منتظر ہیں۔ دہشت گردی میں کمی تو ہوئی ہے مگر اس کا جڑ سے قلع قمع ابھی باقی ہے۔تحفظ اور امن انسان کی بنیادی خواہشات ہیں۔ ان خواہشات کی تکمیل میں ابھی بہت وقت باقی ہے۔
چند برس بعد زمانہ حال بھی ماضی ہو جائے گا۔ لوگ اس وقت کیا سوچ رہے ہوں گے یہ آج کے فیصلوں پر منحصر ہے۔ آج وہ ہے جو ابھی ہے اس کو ماضی ہو نے سے پہلے کچھ کر لیں۔ جس جس کو قدرت نے موقع دیا ہے وہ اسے ملک کو بہتری کے لئے استعمال کرے۔ پہلے ہی بہت دیر ہو گئی ہے۔ کئی دہائیاں سمت کے تعین میں گزر گئی ہیں۔اب جو سمت کا تعین ہو گیا ہے تو منزل سجھائی دینی چاہیئے۔ ترقی دکھائی دینی چاہیے۔ بہتری کا امکان نظر آنا چاہیے۔ ایک باوقار ملک بننا چاہیے۔ اس سے پہلے کہ یہ بات بھی ماضی ہو جائے یہ قصہ بھی پر انا ہو جائے۔ اور یہ کردار بھی سوچ سے معدوم ہو جائیں۔


Comments

FB Login Required - comments

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 42 posts and counting.See all posts by ammar