عراق کی ناجائز جنگ


 2003 \"mujahidمیں عراق پر حملہ کے بارے میں ایک برطانوی تحقیقاتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اس جنگ کو غلط فیصلہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ عراق سے اس وقت دنیا کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔ یہ فیصلہ نامکمل اور ناقص انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کسی تیاری کے بغیر کیا گیا تھا۔ سرجان چلکوٹ کی سربراہی میں اس کمیشن نے 7 برس تک کام کیا۔ اب عراق جنگ میں شمولیت کے برطانوی فیصلے کے بارے میں 6 ہزار صفحات پر مشتمل تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔ تاہم سر چلکوٹ نے اس فیصلہ کو غیر قانونی قرار دینے سے گریز کیا ہے۔ البتہ ماہرین کا خیال ہے کہ اس رپورٹ میں شامل معلومات کی بنیاد پر اس فیصلہ میں ملوث افراد جن میں سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر سرفہرست ہیں، کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ اگلے ہفتے اس رپورٹ پر بحث کرے گی۔ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ اس رپورٹ سے ہمیں سبق سیکھنے اور غلطیوں کا اعادہ نہ کرنے کا موقع ملے گا۔ عراق پر حملہ کےلئے امریکہ کے صدر جارج بش اور برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلیئر نے یہ کہا تھا کہ صدام حسین کے پاس تباہی پھیلانے والے خطرناک اور غیر قانونی ہتھیاروں کا ذخیرہ ہے۔ اس لئے اس کی حکومت کا خاتمہ بے حد ضروری ہے۔
دنیا بھر کی رائے عامہ جس میں یورپ کے اکثر ملک اور برطانیہ بھی شامل تھا ۔۔۔۔۔۔ 2003 میں عراق پر حملہ کرنے کے خلاف تھی۔ اپنی حکومت کو اس جنگ سے باز رکھنے کےلئے 2003 میں لندن میں 10 لاکھ سے زائد لوگوں نے مظاہرہ کیا تھا لیکن جارج بش اور ٹونی بلیئر لوگوں کی رائے سننے پر آمادہ نہیں تھے۔ وہ عراق پر حملہ کر کے صدام حسین کی حکومت ختم کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ اس مقصد کے لئے غلطیوں سے بھرپور گمراہ کن معلومات پیش کی گئیں اور حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ چلکوٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے صدر جارج بش سے بہرصورت ساتھ دینے کا وعدہ کر لیا تھا حالانکہ ان کے پاس اس قسم کا وعدہ کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹونی بلیئر نے صدام حسین سے لاحق خطرہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا، برطانوی فوجی دستوں کو مناسب تیاری اور ساز و سامان کے بغیر عراق بھیج دیا گیا اور جنگ سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کےلئے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی۔ رپورٹ نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ عراق پر حملہ کے بعد فرقہ وارانہ فسادات اور انتشار اور بحران کی جو صورتحال سامنے آئی ہے، وہ غیر متوقع نہیں تھی۔ 2003 میں حملہ سے قبل ان حالات کا اندازہ کیا جا سکتا تھا لیکن اس پر غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق صدام حسین کوئی بڑا خطرہ نہیں تھا اور اس کی حکومت کو گرانے اور عراق کے خلاف کارروائی کرنے کے بارے میں انٹیلی جنس کی مناسب اور قابل اعتبار معلومات موجود نہیں تھیں۔ اس کے علاوہ جنگ کے بغیر مسئلہ حل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ حالانکہ اس کا امکان موجود تھا۔ برطانیہ اور امریکہ کی طرف سے عراق پر حملہ کرنے کے فیصلہ کے باعث اقوام متحدہ کے اختیار اور حیثیت پر بھی برا اثر مرتب ہوا تھا۔

عراق پر مسلط کی گئی جنگ میں 179 برطانوی فوجی اور شہری ہلاک ہوئے تھے۔ اس جنگ میں 4491 امریکی فوجی و شہری مارے گئے جبکہ جنگ میں جاں بحق ہونے والے عراقی باشندوں کے بارے میں مختلف اداروں نے مختلف اعداد و شمار جمع کئے ہیں۔ قیاس ہے کہ 2003 سے 2011 کے درمیان اس جنگ میں 10 لاکھ سے زائد عراقی باشندے کام آئے۔ ہلاکتوں اور خوں ریزی کا یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ ملک کے بڑے حصے پر دہشت گرد گروہ دولت اسلامیہ کا قبضہ ہو چکا ہے۔ صدام حسین کی سیکولر اور آمرانہ حکومت ختم ہونے کے بعد ایک طرف اکثریتی شیعہ آبادی کے نمائندوں نے فرقہ وارانہ بنیادوں پر فوج کو استوار کیا اور سنی اقلیت کو سیاسی معاملات میں ان کا مناسب حصہ دینے سے انکار کیا۔ اس کے علاوہ کرد علاقوں کی آبادیوں نے بغداد کی مرکزی حکومت سے زیادہ سے زیادہ خود مختاری حاصل کر کے اپنے علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا اور وہاں پر موجود تیل اور گیس کے وسائل سے مرکزی حکومت محروم ہو گئی۔ عراق جنگ کی وجہ سے عراقی معاشرہ بری طرح توڑ پھوڑ کا شکار ہوا اور حملہ آور فوجیں ملک کو متحدہ رکھنے اور وہاں جمہوریت کی بنیاد پر مضبوط اور قابل عمل حکومت قائم کروانے میں ناکام رہی تھیں۔ اگرچہ جارج بش نے چلکوٹ رپورٹ سامنے آنے کے بعد ایک بیان میں ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ دنیا صدام حسین کے بغیر زیادہ محفوظ ہے لیکن گزشتہ تیرہ برس کے دوران اور اب برطانیہ کی سرکاری تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آنے والی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ سابق امریکی صدر کا یہ دعویٰ غیر حقیقت پسندانہ ہے اور وہ اس طرح اپنی فاش غلطیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس طرح سابق برطانوی وزیراعظم کا یہ دعویٰ بھی عذر لنگ ہی ہے کہ عراق پر حملہ کی وجہ سے دنیا زیادہ محفوظ ہو گئی ہے اور لیبیا کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی طرف سے جوہری راز فروخت کرنے کا سلسلہ بند کرنے کا موقع ملا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ عراق پر کسی جواز کے بغیر حملہ کرنے سے مشرق وسطیٰ میں بے چینی، فرقہ بندی اور گروہی عسکری تصادم میں اضافہ ہوا۔ اسی بحران و انتشار کے بطن سے داعش یا دولت اسلامیہ جیسے خوفناک دہشتگرد گروہ نے جنم لیا جو اس وقت بھی عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر قابض ہے۔ اس گروہ نے اپنے زیر تسلط علاقوں میں خون ریزی اور ظلم و ستم کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ اس کے علاوہ اس نے اپنے وسائل اور صلاحیتیں دنیا بھر میں شدت پسند عناصر کی حوصلہ افزائی اور اپنا دہشتگرد نیٹ ورک استوار کرنے میں صرف کی ہیں۔ اسی لئے اب یہ خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ یہ گروہ دنیا بھر کی مسلم آبادیوں میں نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور انہیں اپنے منصوبے کے مطابق تباہی و بربادی پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دران پیرس، سان برنارڈینو ، برسلز، اورلانڈو ، استنبول ، ڈھاکہ اور بغداد میں ہونے والے حملوں میں یہ گروہ براہ راست یا اس کے ہمدرد نوجوان ملوث تھے۔ اس طرح عقیدہ کی گمراہ کن توجیہہ کی بنیاد پر نوجوان مسلمانوں کو انسانوں کا خون بہانے پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔

عراق میں انتشار کے علاوہ امریکی اور برطانوی فوج کشی سے پوری عرب دنیا میں بے چینی اور خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہوئی ہے۔ اسی جنگ کی وجہ سے آزادی اور جمہوریت کے نام پر عرب بہار کی تحریک سامنے آئی جس کے سبب متعدد عرب ملکوں میں بے یقینی اور عدم استحکام کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ ایران کو بھی ان حالات میں خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع ملا جبکہ اس کا مقابلہ کرنے کےلئے سعودی عرب نے امن دشمن گروہوں کی سرپرستی کر کے شام اور یمن میں مسلسل خانہ جنگی کی صورتحال کو جنم دیا ہے۔ دوسری طرف لیبیا میں کرنل معمر قذافی کی باقاعدہ حکومت کو ختم کر کے بحران پیدا کیا گیا۔ اب یہ ملک بھی مختلف عسکری گروہوں کی آماجگاہ ہے جن میں خطرناک دہشتگرد گروہ بھی شامل ہیں۔ مصر میں صدر محمد مرسی کی حکومت کو زیادہ عرصہ کام نہیں کرنے دیا گیا اور انتہا پسندی کو جواز بنا کر ایک جمہوری حکومت کو ختم کر کے ملک میں دوبارہ بدترین فوجی آمریت نافذ ہو چکی ہے۔ علاقے کی تمام حکومتیں انتہا پسندوں کی بڑھتی ہوئی قوت کے سامنے لاچار نظر آتی ہیں اور نفرت ، جنگ اور خوں ریزی کا ایک طوفان بپا ہے۔ ان حالات میں ٹونی بلیئر کا یہ دعویٰ کہ 2003 میں عراق پر حملہ کے فیصلہ کی وجہ سے دنیا زیادہ محفوظ ہو چکی ہے، لغو اور گمراہ کن مبالغہ آرائی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

برطانیہ کی لیبر پارٹی کے لیڈر جریمی کوربین نے چلکوٹ رپورٹ سامنے آنے کے بعد اپنی پارٹی کی طرف سے معافی مانگی ہے۔ واضح رہے کہ ٹونی بلیئر لیبر پارٹی کی طرف سے وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔ جریمی کوربین نے 2003 میں بھی عراق جنگ کی مخالفت کی تھی تاہم اب پارٹی لیڈر کے طور پر تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آنے والی معلومات کے بعد انہوں نے عراقی عوام اور برطانوی فوجیوں اور ان کے خاندانوں سے معافی مانگی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ میں ان لاکھوں برطانوی شہریوں سے بھی شرمندہ ہوں جو بجا طور سے یہ سمجھتے ہیں کہ عراق جنگ کے فیصلہ نے ملک کے جمہوری نظام کو دھچکہ لگایا تھا۔ اس رپورٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ فوجی کارروائی جھوٹے حیلے بہانوں کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ عالمی رائے عامہ پہلے ہی اس جنگ کو غیر قانونی سمجھتی ہے۔ جریمی کوربین نے مطالبہ کیا کہ برطانیہ کو بین الاقوامی کریمنل کورٹ سے کہنا چاہئے کہ وہ اس مجرمانہ فعل میں شامل لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔ اس دوران جنگ میں مرنے والے 179 برطانوی فوجیوں اور شہریوں کے اہل خاندان کے نمائندے نے کہا ہے کہ چلکوٹ رپورٹ میں سامنے آنے والے حقائق کی روشنی میں ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کا جائزہ لیا جائے گا۔ البتہ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ کسی ذمہ دار کا تعین کروانا اور اسے سزا دلوانا ممکن نہیں ہو گا۔ تاہم اس رپورٹ کے سیاسی اثرات ضرور مرتب ہوں گے۔

چلکوٹ رپورٹ سامنے آنے کے بعد سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر نے ایک طویل اور جذباتی پریس کانفرنس میں اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا تاہم دعویٰ کیا کہ انہوں نے پارلیمنٹ یا کابینہ سے کوئی جھوٹ نہیں بولا تھا۔ یہ ان کے دس سالہ دور حکومت کا مشکل ترین فیصلہ تھا اور وہ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ درست اور برطانیہ کے بہترین مفاد میں تھا۔ ٹونی بلیئر نے کہا کہ میرے پاس عراق میں ہونے والے جانی نقصان پر اپنے دکھ اور غم کا اظہار کرنے کےلئے الفاظ نہیں ہیں۔ یہ غم باقی ماندہ زندگی میرے ساتھ رہے گا۔

دعوؤں اور جوابی دعوؤں سے قطع نظر گزشتہ پندرہ برس کے دوران امریکہ کی قیادت میں دوسرے ملکوں میں ہونے والی جارحیت سے دنیا کے لوگوں میں فاصلے اور نفرتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ بہت سے لوگ امریکی جارحیت کو دہشت گردوں کی جنگ جوئی کا درست جواز سمجھتے ہیں، جبکہ متعدد ممالک امریکہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی ضرورت اور بساط کے مطابق ہمسایہ ملکوں میں براہ راست یا باالواسطہ فوجی کارروائی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ افغانستان اور عراق جنگ سے امریکہ ، برطانیہ اور دوسرے ملک اگر یہ سبق سیکھ لیں کہ جنگ مسائل کا حل نہیں بلکہ نت نئے مسائل پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے تو شاید آنے والی نسلیں دنیا میں امن کی امید قائم کر سکیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 622 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “عراق کی ناجائز جنگ

  • 09-07-2016 at 10:37 am
    Permalink

    آدھی باتیں تو سفیڈ جھوٹ ہیں اس مضمون میں ۔ مضمون نگار نے صدام جیسے سنی اسلامی انتہا پسند کو سیکولر بنا دیا ۔ وہ مزہبیا تھا اور اس کے بیانات اس پر گواہ ہیں ۔

    باقی اس رپورٹ سے پتا چلتا ہے برطانوی عوام اپنی حکومت اور فوج پر کتنی کڑی نظر رکھتے ہیں ۔ اور برطانیہ میں کتنی آزادی ہے کہ اپنی فوج پر کتنی تنقید ہوتی ہے ۔ جب کہ اسلامی ممالک اور پاکستان جیسے ملک جس کو جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی ریاستی دہشت گرد تنظیم پاک فوج اور آئی ایس آئی چلا رہی ہے ، میں فوج پر تنقید کی اجازت ہی نہیں ۔ پاک فوک کے جرائم 1948 سے لیکر بنگلہ دیش سے ہوتے ہوئے بلوچستان ، فاٹا اور کراچی تک پھیلے ہوئے ہیں ۔ پاکستان میں بھی آزادی ہونی چاہیے تاکہ ہامری فوج اور آئی ایسا ائی کی دہشت گردی پر کھل کر لکھا جا سکے ۔ اس سے ملک کمزور نہیں ہوتا ۔ برطانیہ اور امریکہ کی مثالین آپ کے سامنے ہیں ۔ اسرائیل مخالف تنظیمیں امریکہ و یورپ میں موجود ہیں ۔ اس سے انسانیت مضبوط ہوتی ہے ۔ دی گارڈین اخبار کو دیکھیں ار پاکیستانی پروپیگنڈا اخبار نوائے وقت ، جنگ ، ڈان وغیرہ کو دیکھیں ۔ ہوش کے ناخن لیں ۔ اور زرا کچھ اسلامی سامراج اور اسلامی استعمار پر بھی لکھ دیا کریں ۔ کو خلافت سے شروع ہوا اور بنا امیہ ، بنو عباسیہ ، مغل اور سلطنت عثمانیہ تک گیا ، آج بھی اسلای ممالک کا یہ ہی حال ہے ۔

Comments are closed.