نواز شریف کی وطن واپسی


\"nawazوزیر اعظم نواز شریف ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصہ تک علاج کے لئے لندن میں قیام کرنے کے بعد 9 جولائی بروز ہفتہ پاکستان واپس آ رہے ہیں تاہم اس بارے میں سرکاری طور پر کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ وزیر اعظم کے خاندان کے قریبی ارکان جن میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز بھی شامل ہیں، عید منانے کے لئے لندن گئے ہوئے ہیں۔ خیال ہے کہ وہ بھی وزیر اعظم کے ساتھ ہی واپس آئیں گے۔ پی آئی اے کے ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر اعظم اور ان کے کیمپ آفس کو لندن سے واپس لانے کے لئے ایک خصوصی طیارہ لندن بھیجا جا رہا ہے تاہم وزیر اعظم ہاؤس نے ان خبروں کی تصدیق نہیں کی ہے۔

نواز شریف مئی کے آخر میں طبی معائینہ کے لئے لندن گئے تھے۔ وہاں ڈاکٹروں نے مختلف ٹیسٹ لینے کے بعد ان کی اوپن ہارٹ سرجری کرنے کا فیصلہ کیا۔ 30 مئی کو آپریشن کے بعد انہیں چند روز بعد گھر منتقل کردیا گیا تھا تاہم وہ سفر کرنے کے قابل نہیں تھے۔ اب ڈاکٹروں نے انہیں سفر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ پی آئی اے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اور ان کے عملہ و اہل خاندان کی واپسی کے لئے ائر لائن کے پاس کسی عام پرواز میں مناسب تعداد میں نشستیں موجود نہیں تھیں، اس لئے اس مقصد کے لئے خصوصی طیارہ لندن بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اگر وزیر اعظم کل وطن واپس آجاتے ہیں تو وہ چھ ہفتے کی غیر حاضری کے بعد ملک آئیں گے۔ اس سال وزیر اعظم کی غیر موجودگی کی خاص بات یہ بھی تھی کہ وہ بجٹ کی منظوری کے موقع پر بھی اسلام آباد میں موجود نہیں تھے۔ وزیر اعظم کی سربراہی میں کابینہ جب تک بجٹ منظور نہ کرلے ، اس وقت تک اسے قومی اسمبلی میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے خصوصی ویڈیو لنک کے ذریعے وزیر اعظم نواز شریف نے لندن میں پاکستانی سفارت خانے سے کابینہ کے بجٹ اجلاس کی صدارت کی اور اس طرح بجٹ منظور کیا جا سکا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ملک کی اہم ترین اور حساس دستاویز پر ویڈیو لنک کے ذریعے بحث کرنامناسب طریقہ نہیں تھا۔ تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ ضروری کاغذات وزیر اعظم کے معائینہ کے لئے لندن بھیج دئے گئے تھے۔ ویڈیو لنک پر انہوں نے اجلاس کی صدارت کرکے صرف بجٹ منظور کیا تھا۔

پاکستان کے آئن میں وزیر اعظم کی طویل غیر موجودگی کی صورت میں اس کا متبادل مقرر کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہنگامی صورت حال میں وزیر اعظم کسی وزیر کو کابینہ کی صدارت کرنے اور معاملات طے کرنے کا اختیار دے سکتے ہیں۔ عام طور سے کہا جاتا ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار، نواز شریف کی غیر موجودگی میں یہ فرض ادا کرتے رہے ہیں۔ لیکن ملک میں یہ افواہیں بھی عام رہی ہیں کہ ان کی غیر موجودگی میں ان کی صاحبزادی مریم نواز حکومتی امور کی نگران تھیں۔ اگرچہ نہ تو ان کے پاس کوئی باقاعدہ سرکاری پوزیشن ہے اور نہ ہی وہ قومی اسمبلی یا سینیٹ کی رکن ہیں۔ وزیر اعظم ہاؤس کا کہنا ہے کہ نواز شریف اگرچہ بیماری کی وجہ سے لندن میں مقیم ہیں لیکن وہ اپنے معاونین کے ساتھ آپریشن سے پہلے اور بعد میں تمام امور کی خود نگرانی کرتے رہے ہیں ۔ اس لئے امور سرکار میں تعطل کا تاثر درست نہیں ہے۔

وزیر اعظم ایک ایسے وقت میں ملک سے باہر گئے تھے جب انہیں پاناما لیکس کے سوال پر اپوزیشن کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا تھا۔ اس کے علاوہ بعض اہم امور پر فوج کے ساتھ اختلافات کی خبریں بھی سامنے آرہی تھیں۔ پاکستان جیسے ملک میں چونکہ سرکاری امور کے بارے میں کھل کر اظہار خیال نہیں ہوتا اور حکومت بھی معاملات پر معلومات فراہم کرنے سے گریز کرتی ہے ، اس لئے اکثر معاملات میں افواہیں گردش کرتی رہتی ہیں جو بعض اوقات ملک کے مفادات کے لئے نقصان کا سبب بھی بنتی ہیں۔ اس صورت حال سے نمٹنے اور وزیر اعظم کی حالیہ طویل غیر حاضری سے ہونے والے تجربہ کی روشنی میں حکومت کو مستقبل میں ایسی کسی ہنگامی حالت کا سامنا کرنے کے لئے ضروری آئینی ترمیم پر غور کرنا چاہئے تاکہ وزیر اعظم کی طویل غیر حاضری پر امور مملکت مناسب طریقے سے کسی شک و شبہ کے بغیر چلائیں جا سکیں۔

اسی طرح وزیر اعظم کی بیماری اور ان کے علاج کے حوالے سے بھی پر اسرار راز داری سے کام لیا گیا ہے۔ حکومت نے وزیر اعظم کی بیماری کی تفصیلات اور ان کے علاج کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا کوئی باقاعدہ انتظام نہیں کیا تھا۔ نہ ہی اس معالج اور اسپتال کا نام ظاہر کیا گیا تھا ، جہاں وزیر اعظم کا آپریشن ہؤا۔ عام طور سے اتنے اہم عہدیدار اور شخصیت کے علاج کے حوالے سے متعلقہ اسپتال اور معالجین پریس بریفنگ دیتے ہیں۔ لیکن نواز شریف کے معاملہ میں ذیادہ تر معلومات وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز ٹوئٹر پیغامات کے ذریعے دیتی رہی ہیں۔ وزیر اعظم کا دفتر بعد میں بعض معلومات کو دہراتا رہا ہے۔ پاکستان ایک مشکل اور بحرانی صورت حا ل کا سامنا کررہا ہے۔ اس لئے یہاں وزیر اعظم کے علاج سمیت تمام امور پر شفافیت سے معلومات فراہم کرنے کی روایت قائم کرنا ضروری ہے۔ وزیر اعظم کی بیماری اور لندن میں قیام کے دوران سب وزیر، پارٹی کے لیڈر اور دیگر اہم عہدوں پر فائز افراد باری باری عیادت اور ملاقات کے لئے لندن کا چکر لگاتے رہے ہیں۔ لیکن فوج کے سربراہ یا فوج کا کوئی نمائندہ وزیر اعظم سے ملنے نہیں گیا۔اگرچہ اس قسم کا دورہ کسی باقاعدہ پروٹوکول کا حصہ تو نہیں ہے لیکن عدم اعتماد کی موجودہ فضا میں افواہ ساز ایسی باتوں سے فائدہ ضرور اٹھاتے ہیں۔

اب وزیر اعظم کی واپسی کے حوالے سے بھی اسی پر اسراریت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ پہلے یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ وزیر اعظم کی واپسی پر ان کی پارٹی مسلم لیگ (ن) شاندار استقبال کا اہتمام کرے گی تاکہ سیاسی مخالفین کو منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔ اس کے بعد یہ بتایا گیا کہ وزیر اعظم نے ایسا انتظام کرنے سے منع کیا ہے۔ لیکن طویل عرصے بعد واپسی کے پروگرام کا اعلان تو دو ٹوک الفاظ میں ہو نا چاہئے تھا۔ وزیر اعظم کی بیماری اور طویل غیر حاضری کے سبب نظام کی جو کمزوریاں سامنے آئی ہیں، ان کو دور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 701 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali