عبدالستار ایدھی رخصت ہو گئے


\"Edhi\"تازہ ترین اطلاعات کے مطابق انسانیت کے خدمت گزار عبدالستار ایدھی دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

عبدالستار ایدھی کو پانچ جولائی کو انفیکشن کے باعث سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی میں داخل کیا گیا تھا۔ جمعے کی صبح گردوں کے ڈائلسز کے دوران ان کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی اور سانس لینے میں بھی دشواری ہونے لگی۔ ان کی حالت نازک ہونے پر انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا گیا۔ عبدالستار ایدھی کی اہلیہ اور بیٹے نے بتایا ہے کہ بزرگ سماجی رہنما ہائپر ٹینشن اور شوگر جیسے امراض کا شکار تھے جبکہ ان کے گردے بھی ناکارہ ہو چکے ہیں تھے۔ عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کا ٹرانسپلانٹ بھی ممکن نہیں تھا۔ انہیں 2013ء سے ڈائلسز ٹریٹمنٹ دیا جا رہا تھا۔ عبدالستار ایدھی کچھ کھا پی بھی نہیں سکتے تھے جس کی وجہ سے کمزوری بھی بہت زیادہ تھی۔ ان کے صاحبزادے فیصل ایدھی نے دکھی دل کے ساتھ اطلاع دی ہے کہ عبدالستار ایدھی نے وصیت کی تھی کہ وہ جس لباس میں وفات پائیں، اسی میں ان کی تدفین کی جائے جبکہ انہوں نے اپنے اعضاء بھی عطیہ کرنے کی وصیت کی تھی۔ فیصل ایدھی نے بتایا کہ انسانیت کی بلا امتیاز خدمت کرنے والے کی نماز جنازہ نماز ظہر کے بعد بولٹن مارکیٹ میمن مسجد میں ادا کی جائے گی اور تدفین ایدھی ولیج میں کی جائے گی۔

بلقیس ایدھی صاحبہ نے بتایا کہ ان کی شخصیت میں گزرتے وقت کے ساتھ کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی تھی، مگر جب آج وہ مجھ سے ملے تو انہوں نے مجھ سے اپنی غلطیوں کی معافی چاہی۔  میں نے انہیں کہا کہ میں آپ کو سو دفعہ معاف کرتی ہوں، مگر ایسے دن بھی گزرے ہیں جب میں نے آپ کے لیے مشکل پیدا کی۔ مجھے بھی معاف کر دیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔