بندرکی بلا طویلے کے سر ….


husnain jamal (2)جمعرات 3 جنوری 2013 ءکی بات ہے۔ فوج کی طرف سے ایک فیصلہ کن بیانیے کی خبر سامنے آئی۔ اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود نے اس بارے میں کیا کہا، غور سے دیکھیے؛

”اس ڈاکٹرائن کے شائع ہونے سے پہلے تک بھارت ہی پاکستان کا دشمن نمبر ایک رہا ہے، پاکستانی فوج کے تمام اثاثے صرف اسی دشمن کے لیے بنتے اور جمع ہوتے رہے ہیں، یہ پہلی بار ہے کہ پاکستانی فوج نے باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے کہ اب ملک کو اصل خطرہ اندرونی ہے جس کا ارتکاز مغربی سرحد اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ہے۔ نئی حکمت عملی اس بات پر بھی زور دیتی ہے کہ دفاعی پالیسی بنانا صرف فوج کا کام نہیں، ریاست کے دیگر اداروں کو بھی کردار ادا کرنا ہوگا۔ امکان ہے کہ عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے نئے فوجی ڈاکٹرائن سے عوام کو بھی آگاہ کیا جائے گا۔“

یہ ڈاکٹرائن کیا تھا، تفصیل جان لیجیے۔

”نئے فوجی ڈاکٹرائن کے مطابق قبائلی علاقوں میں طالبان کی کارروائیوں اور بڑے شہروں میں فوجی تنصیبات پر حملوں کو قومی سلامتی کے لیے حقیقی اور سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے، نیا فوجی ڈاکٹرائن آپریشنل تیاریوں کے متعلق ہے۔ فوج دہائیوں تک بھارت کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیتی رہی ہے مگر ملک میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی نے فوجی حکام کو اپنی حکمت عملی پر غور کرنے پر مجبور کردیا۔“
اس روز کے اخبارات کی چند اور سرخیاں لانگ مارچ سے متعلق موسمی پرندوں کے بیانات پر مشتمل تھیں۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی ’درخواست نظر ثانی‘ واپس ہونے کا تذکرہ تھا، ینگ ڈاکٹرز گوجرانوالہ میں ایم ایس سے الجھ رہے تھے، مولانا فضل الرحمن فرما رہے تھے کہ سیاست کے بغیر ریاست کا کوئی وجود نہیں، اور طورخم بارڈر سے بغیر سفری دستاویزات آنے جانے کی پابندی کا ذکر تھا، جو غالباً پہلی بار لگی تھی۔ یا پہلی بار سنجیدگی سے اس بارے میں کچھ سوچا گیا تھا۔

بزرگ کالم نگاروں اور ہمارے اینکروں کی ایک غالب اکثریت شاید اس دن اخبار نہیں دیکھ پائی۔ یا ان سرخیوں میں الجھی رہی، اس دن سے آج کے دن تک ان معزز کرم فرماﺅں کی پوری کوشش رہی ہے کہ کوئی بھی حادثہ، سانحہ یا دہشت گردی، جو کچھ بھی ہو اس کے تانے بانے بھارت سے جوڑے جائیں اور کہانی ان کے پسندیدہ بیانیے کو لے کر آگے چلے۔
ایسا کیوں ہے؟
اس وقت جب کہ فوج کی طرف سے ایک بھی بیان ایسا نہیں آیا کہ بھارت چارسدہ واقعے میں ملوث ہے تو کیوں ہمارے بزرگ اور قابل احترام صحافی اس معاملے کو اپنی خواہش یا حسرت کا رنگ دینے پر تلے ہوئے ہیں۔

یہ واقعہ رونما ہونے کے بعد سے اب تک آپ جائزہ لے لیجیے۔ کسی ایک ذمہ دار فرد کے منہ سے ایسی بات نکلی ہو تو بتائیے۔ اب اگر مدعی ایسا کوئی دعویٰ نہیں کرتا تو گواہان کیوں اتنے چست ہیں بھائی، غور کیجیے۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ ان کے دلوں میں کوئی نہاں خواہش یا امید کا کوئی دیا اب بھی روشن ہے کہ مسلمان یا ان کے طالبان بھائی ایسا غیر انسانی کام نہیں کر سکتے۔ اچھا بھئی اگر ایسا کوئی چراغ جھلملا بھی رہا ہے، تو وہ جو ایک ویڈیو آئی ہے، کیا اس کو بھی جھٹلا دیں، چلیں اس کو بھی جھٹلا دیں، صرف ایک کام کر لیں، اپنے دل سے، اپنے ضمیر سے، صرف ایک بار پوچھ لیجیے کہ معاملات کو اس موقع پر جو رخ آپ دے رہے ہیں، کیا وہ درست ہے؟ آپ لوگ وہ ہیں کہ جن کو پڑھ کر ہم نے لکھنا سیکھا ہے، آپ لوگ عوام کی رائے سازی کرتے ہیں، اگر اس موڑ پر بھی آپ ہمیں بھٹکانا چاہیں گے تو یقین جانیے تاریخ آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔

ہمارا کوئی رشتہ دار بھارت نہیں رہتا، نہ ہم فیس بک پر کسی بھارتی مہیلا سے پینگیں بڑھا رہے ہیں، نہ ہم کسی غیر ملکی ادارے سے وابستہ ہیں لیکن برا ہو اس عادت کا کہ ہر واقعے کا ذمہ دارانہ تجزیہ کرنے کے لیے توجہ سے مطالعہ کرتے ہیں۔ باوجود لاکھ کوشش کے اب تک ہمیں کوئی ایک بیان فوج کی طرف سے ایسا نظر نہیں آیا کہ ہم پاﺅں جھلاتے ہوئے بے فکری سے کہہ اٹھیں کہ خود ساختہ ازلی دشمن یہاں بھی ملوث ہے۔

ایک صاحب نظر سیالکوٹ والے بارڈر سے جنگ کی پیش گوئی بھی کرنا شروع ہو گئے ہیں، اور یہ انہی میں سے ہیں کہ جو عالم رویا میں لال قلعے پر سبز ہلالی پرچم لہرا چکتے ہیں تو واپسی پر تاج محل میں بیٹھ کر ’مسالہ دوسا‘ بھی کھانا چاہتے ہیں۔ بس کر یں ، حد ہوتی ہے خیرہ چشمی کی…. خدا کے واسطے اس طور سے نوجوانوں کو گمراہ کرنا بند کر دیجیے۔

کتنے ہی خود کش بمبار پکڑے جا چکے ہیں، کسی ایک نے آج تک آپ کو یہ بتایا ہو کہ اس کا تعلق بھارت سے ہے یا بھارت کا نام اس نے لیا ہو تو آپ یہ بات کیجیے، اور خم ٹھونک کر کیجئے…. لیکن خواہ مخواہ اگر آپ اپنی ہمدردیاں اب بھی ان ظالمان کے ساتھ رکھتے ہیں اور ان کی پردہ پوشی کرنا چاہتے ہیں تو یہ ایک مجرمانہ رجحان ہے، صاحب آپ کو اپنے ضمیر کی آواز سے خوف نہیں آتا؟
اس وقت ملک و قوم پر مسلط جنگ میں ہم اس موڑ پر ہیں جہاں پوری سنجیدگی سے، انگلیاں اٹھا کر ہم نے اپنے دشمن کی نشان دہی کرنا ہے، اس کی شناخت کرنی ہے، اسے پہچاننا ہے اور جو ہمارے بھائی ایسا کرنے میں ہمارے ساتھ نہیں ہیں، ان کو بھی نہایت ادب و احترام سے سمجھانے کی کوشش کرنی ہے۔

صدیوں سے ہمارا وطیرہ بن چکا ہے کہ ہم ہوا میں تلوار چلاتے ہیں اور نیند کے عالم میں اپنے آپ کو فاتح دیکھنا چاہتے ہیں خواہ اس خواب نیم روز کی خاطر کتنے ہی حقائق ہمیں کا خون کیوں نہ کرنا پڑے۔ بھائی، لٹھ بازی کا وقت گزر گیا۔ بھارت لمحہ موجود میں اس قسم کی حماقت افورڈ نہیں کر سکتا اور نہ آپ کر سکتے ہیں۔ ایک بار، اگر صرف ایک بار پوری قوم اس نقطے پر یکسو ہو جائے کہ حقیقی دہشت گرد کون ہے، تو یقین جانیے آدھی فتح آپ کو اسی دن نصیب ہو جائے گی۔


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 146 posts and counting.See all posts by husnain

5 thoughts on “بندرکی بلا طویلے کے سر ….

  • 23-01-2016 at 2:36 pm
    Permalink

    حسنین جمال صاحب فوج کا مذکورہ بیانیہ بھارت کو خطرہ قرار نہیں دیتا…دشمن تو سمجھنے سے دست بردار نہیں ہوا….مطلب یہ ہے کہ اب دشمن ملک براہ راست حملہ کرنے سے بسب جوهری حصار قاصرہے… اب وہ پراکسی حربے آزماءے گا…جس کا تدارک کرنے کی ضرورت ہے.

  • 23-01-2016 at 6:47 pm
    Permalink

    سوچنے کی بات ھے ان کو بڑے پیمانے پر لاجسٹک سپورٹ کون کرتا ھے. پھر بھی اس بیانیئے میں حقیقت ھے . لاجسٹک سپورٹ تو رکھی جا سکتی ھے. لیکن وہ زھنیت کو روپے جو ان کہ دماغوں میں یہ نشونما ھو رھی ھے. ضروری نہیں گر کام فوج کہ حصے کا ھے ھر ادارے اور ایک ذمہ دار شہری ھونے کہ ناطے ھم سب کا فرض ھے اسں زھن سازی کو روکیں

  • 23-01-2016 at 7:08 pm
    Permalink

    فوج کی جانب سے باضابطه طور پر “پراکسی” والا اشارہ بھی سامنے نہیں آیا. یہ تو فوج کے خود ساختہ ترجمانوں کی ذاتی خواہشات پر مبنی خیال آرائی ہی لگ رہی ہے. سونے کی سمگلنگ کی مبینہ آمدنی سے چلنے والے ایک ٹی وی چینل نے حملے والے دن ہی کسی “دفاعی تجزیہ کار” سے اس قسم کا بیان دلوانے کی بہت کوشش کی مگر بالآخر کسی مجہول “بریگیڈیر نادر میر” کے سوا کوئی نہ مل پایا، جس سے فورا بھارت کے ملوث ہونے کا بیان منسوب کر کے “ٹکر” چلوایا گیا.

    فوج کے سرکاری ترجمان کے البتہ افغان موبائل سم والے معاملے پر بدلتے ہوۓ بیانات تشویش انگیز ہیں، کہ انہیں کون ایسی صریحا غلط اور شر انگیز اطلاعات دیتا رہا ہے.

  • 24-01-2016 at 2:05 am
    Permalink

    لفظ ‘ڈاکٹرِن’ ہے جناب۔

    انگریزی میں ‘dok-trin’

    Yes, I’m that spelling Nazi ?

    باقی آپ نے بات بڑی اچھی کی۔ ہم وہ بد قسمت قوم ہیں جس کی بنیادوں کو گھن کھائے چلا جا رہا ہے اور کسی اسطو خودوس وجہ سے ہمیں صرف ہمسائے کا سر پھوڑنے کا شوق ہے۔
    اپنے ساتھ ہونے والی ہر ٹریجڈی پہ ہم کہتے ہیں یہ کام مسلمان کا نہیں ہو سکتا۔ سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے کہ یہ ارسطو بھول گئے کہ یزیدی لشکر میں سات سو حفاظ شامل تھے!

  • 25-01-2016 at 4:47 pm
    Permalink

    اگر ہم پاکستان کے اہم اثاثوں پر ہونے والے حملوں کا تجزیہ کریں تو صورت حال یہی سامنے آتی ہے کہ حملہ آور انتہائی عمدہ درجے کی پیشہ ورانہ تربیت حاصل کئے ھوئے تھے ، اپنا مقصد حاصل کرنے میں سنجیدہ تھے ، مرنے کو تیار تھے ، لاہور مین سری لنکن ٹیم پر ہونے والے حملے کو یاد کیجئے ، اس حملے کی کئی سی سی فوٹیج سامنے آئی تھیں ۔ کچھ میں ان دہشت گردوں کو حملے کے بعد یہاں سے نکلتے ھوئے دکھایا گیا تھا ۔ وہ پیشہ ورانہ انداز میں فرار ہو رہے تھے ۔ ایک دہشت گرد نے ایک نہتے وارڈن کو نہایت بے رحمانہ انداز میں گولی مار کر قتل کر دیا ۔ اسی طرح مہران بیس، کامرہ بیس ، کراچی ایئر پورٹ ، جی ایچ کیو پر حملہ اے پی ایس پشاور کے تمام حملہ آور اعلیٰ قسم کی تربیت حاصل کئے ھوئے تھے ۔ اسی طرح ان لوگوں کو ان ایریاز کی اہمیت کا بھی علم تھا ۔ اب درہ آدم خیل میں بیٹھے دہشت گرد کمانڈر کے آئی کیو سے بہت بلند ایشو ھے کہ مہران بیس پر کھڑے اورین جہاز کس کام آتے ھیں ۔ نہ اس کو کامرے میں اورین جہازوں کی اہمیت کا اندازہ ہو سکتا ہے ۔ ٹارگٹ منتخب کرنا ۔ان علاقوں کی ریکی کرنا ، یہاں سہولت کار تیار کرنا ، یہ سب کام ایک اپنی جگہ مفرور ہو کر چھپا بیٹھا پٹھان نہیں کر سکتا ۔ اس کے لئے اعلیٰ تربیت یافتہ جاسوس درکار ہوتے ہیں اور کافی تعداد میں لوگ درکار ہوتے ہیں جو مربوط رابطے کے تحت سامنے آئے بغیر یہ کام کر سکیں ۔ اور یہ کام کسی بھی ملک کی ایک بڑی جاسوسی ایجنسی ہی کر سکتی ہے ۔ اگر یہ بھارت نہیں ہے پھر کون سا ملک ھے ؟ سی آئی اے ھے یا موساعد ھے ؟ کوئی تو ضرور ھے ۔ جہاں تک یہ کہنا کہ ابھی تک کسی گرفتار شدہ بندے نے بھارت یا کسی دوسرے ملک کا نام نہیں لیا ۔ تو ظاہر ھے کہ وہ جہاں سے تربیت پاکر آیا ہے وہاں نہ بھارت کا جھنڈا لہرا رہا ہو گا نہ امریکہ کا ۔ اس کو تربیت دینے والے اس سے بڑھ کر مبلغ اسلام ھوں گے ۔ اس کے علاوہ اگر فاتا میں دہشت گردوں کے لشکر دیکھیں تو ان کو لاجسٹک سپورٹ کہیں سے تو مل رہی ہے ۔ یہ سب کام کسی ملک کی مدد کے بغیر زیادہ عرصے تک ممکن نہیں ھو سکتا ۔

Comments are closed.